پاکستانتازہ ترین

کراچی میں امن ہو گا توملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی ،وزیر اعظم

nawazکراچی(نامہ نگار)وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ کراچی میں امن ہو گا توملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی ،کراچی میں کسی جماعت کے پاس مینڈنٹ زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم لیکن وفاقی حکومت کی نظر میں تمام سیاسی جماعتیں برابر ہیں ،کراچی کی بدامنی پر سیاست نہیں ہوگی،جو امن قائم کرنے کیلئے کردار ادا کرے گا وفاقی حکومت تعاون کرے گی، دوستانہ ماحول میں رہیں گے تو معاملات درست رہیں گے،ہمیں مل کر طاقت کے زریعے ملک میں جاری بدامنی اور توانائی کے بحران کا خاتمہ کرنا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوکراچی گورنر ہاوس میں کراچی بدامنی کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کرنے کے حوالے سے بلوائے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان،وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان،وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید،وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار بھی موجودتھے ۔اجلا س میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل ،سینیٹرمولا بخش چانڈیو اور تاج حیدر،متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بابر غوری اور حیدر عباس رضوی ،جماعت اسلامی کے رہنما محمد حسین محنتی ،نصر اللہ شجیع اور حافظ نعیم الرحمن ،مسلم لیگ(ن) کے رہنماعرفان اللہ مروت،حکیم بلوچ ،نہال ہاشمی اورسلیم ضیاء ،مسلم لیگ(فنکشنل) کے رہنما امتیاز شیخ ،عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید،سنی تحریک کے سربراء ثروت اعجاز قادری ،جمعیت علماء پاکستان صدیق راٹھور،جمعیت علماء اسلام(ف ) کے قاری عثمان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ کراچی پاکستان کا اہم ترین شہر ہے اور وفاقی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈنٹ کا احترام کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی آنے کا مقصد کراچی میں جاری بدامنی کی صورتحال پر قابو پانا ہے حکومت کی اولین ترجیح شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کرنا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں تمام سیاسی جماعتیں موجود ہیں کسی کے پاس مینڈنٹ کم ہے اور کسی کے پاس زیادہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈنٹ کا احترام کرتی ہے اسی لئے کراچی کی امن وامان کی خراب صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو طلب کیا گیا ہے کہ وہ اپنی تجاویز سے آگاہ کریں اور وفاقی حکومت کے لئے شہر میں امن قائم کرنے کے لئے اگر بہتر اور موثر تجویز ہو گی تو اس پر عمل بھی کیا جائے گا ۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ وزرات عظمی کا حلف اٹھانے کے بعد مزار قائد پر بھی یہ ہی کہا تھا کہ میں صرف مسلم لیگ(ن) کا وزیر اعظم نہیں ہوں پورے ملک کا وزیر اعظم ہوں اسی بنیاد پر جس صوبے میں عوام نے جس جماعت کو اکثریت دی وہاں اسی جماعت کی حکومت قائم ہوئی اور وفاقی حکومت تمام صوبائی حکومتوں کی ہر ممکن مدد کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بدامنی روکنے کے لئے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ہم اکھٹے ہو کر ہی تما م بحرانوں پر قابو پا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں طاقت سے ہی ملک میں جاری بدامنی اور توانائی بحران کو حل کرنا ہے اگر ہمیں اپنی معاشی صورتحال بہتر کرنا ہے اور ملک میں سرمایہ کاری لانا ہے تو کراچی کی بدامنی کو ختم کرنا ہو گا اور یہ کام تمام سیاسی جماعتیں مل کر ہی کر سکتی ہیں ۔نواز شریف نے کہا کہ کچھ جماعتیں فوج کو بلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں کچھ رینجرز کے زریعے اور کچھ پولیس کے زریعے ٹارگٹڈ آپریشن چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی صورتحال پر سیاست نہیں ہو گی جو کردار ادا کرئے گا اس سے مکمل تعاون ہوگا میری نظر میں سب برابر ہیں اور قابل احترام ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دوستانہ ماحول میں رہیں گے تو معاملات درست رہیں گے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو امن وامان اور سکون دینا ہے اور یہ ہی ہمارا مشن ہے کوئی نہیں چاہتا کہ وہ اپنا شہر یا ملک چھوڑ کر جائے ہماری آنے والی نسلوں کو یہاں رہنا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے امن کو فروغ دیا جائے گا ۔اس موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اپنی سیاسی جماعت کی جانب سے شہر میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیں ۔اجلاس میں متحدہ قو می موومنٹ کے رہنما متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے کراچی میں امن کیلئے اقدام کو سراہتے ہیں،کراچی میں 85 فیصد مینڈیٹ متحدہ قومی موومنٹ کاہے،شہر میں معصوم افراد کی ہلاکتیں ہمارے مینڈیٹ کا قتل ہے،کراچی میں امن کے لئے کثیرالجہتی پالیسی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں پولیس اور رینجرز کے کردار سوالیہ نشان ہے۔جرائم پیشہ افراد کا تعلق کسی سے بھی ہو،سخت ترین کارروائی ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال میں بہتری نہیں آرہی ہے۔ کراچی میں کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں۔ لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور اسلحہ مافیا بھی تحقیقات دیں، بھتہ خوری اور تاجروں پر دستی بم حملے ہوتے ہیں۔ جب کہ بابر غوری نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو تحفظ ملنا چاہیے۔ کراچی میں ٹارگٹڈ کارروائی ضروری ہے۔ ہمیں موجودہ حکومت سے امیدیں وابستہ ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے کہا کہ دہشت گردوں کو پکڑنے والے پولیس افسران قتل ہوجاتے ہیں، ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کویہ حقیقت معلوم ہے کہ وہ جرم کرنے کے بعد باآسانی رہ
ا بھی ہوجائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے بہتری کے انتظامات کئے جائیں۔ کراچی میں مہاجر قومی موومنٹ نام کی بھی ایک تنظیم ہے جسے ایم کیو ایم (حقیقی) کے نام سے جانا جاتا ہے اسے بھی امن کے عمل میں شریک کیا جائے۔انہوں نے تجویز دی کہ شہر کو اسلحہ سے پاک اور لوگوں کو تحفظ دیا جائے۔قادر پٹیل نے کہا کہ فوج کو کراچی بلایا گیا تو اسے اسیکنڈلز کیا جائے گا۔ جب کہ تاج حیدرنے کہا کہ کراچی میں جرائم میں سرمایہ کاری ہورہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو فری ہینڈ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عدالتیں ایسے ملزمان کی ضمانتیں نہ دیں جب تک ان کو تسلی نہ ہوجائے کہ گرفتار شخص کسی جرم میں ملوث ہے کہ نہیں ۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما عرفان اللہ مروت نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر پولیس میں موجود ہیں اور عہدوں پر فائز ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کی نگرانی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونے والا آپریشن بہتر پلاننگ کی ضرورت ہے، جو بھی کارروائی ہو وہ موثر اور بھرپور کارروائی ہو اور اس آپریشن میں کسی مخصوص طبقہ کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ کراچی کے رہنے والے اپنا کاروبار دوسرے شہروں میں منتقل کر رہے ہیں ۔کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلرز سے بچانے کے لئے پولیس اور رینجرز کبھی بروقت نہیں آتی ہے یہاں غریبوں کو بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔پولیس کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے رہنما سینیٹر شاہی سیدنے کہا کہ پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا جائے، کراچی پولیس کو غیر جاندار ہونا چاہیے، کراچی کے مسئلے میں بہت سے ادارے ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی پولیس افسر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے سوچتا ہے کیونکہ 90 کی دہائی میں کراچی آپریشن میں شریک اہلکاروں کو چن چن کر قتل کردیا گیا ہے۔شاہی سید نے کہا کہ تجاویز تو بہت آتی ہیں اس پر عمل بھی ہونا چائیے ۔سنی تحریک کے رہنما ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ ہمیں نصراللہ بابر جیسے کپتان کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی پولیس میں سیاسی بھرتیاں بہت زیادہ ہیں ۔انہوں نے تجویز دی کہ کراچی میں تعینات تمام سیاسی ایس ایچ او کو فوری فارغ کیا جائے۔اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور رینجرز باصلاحیت ہیں انہیں اگر اختیار دیا جائے گا تو وہ کارروائی بھی بھرپور کریں گے۔ مسلم لیگ(فنکشنل) کے رہنما امتیاز شیخ نے کہا کہ رینجرز پولیس کو فری ہینڈ دیا جائے، کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی تشہیر نہ کی جائے۔جمعیت علماء پاکستان کے رہنما صدیق راٹھور نے کہا کہ ہم ہر حال میں امن چاہتے ہیں ۔جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما قاری عثمان نے کہا کہ کراچی میں علماء اور طلبہ کو قتل کیا جارہا ہے ، کراچی میں امن چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : اوکاڑہ مختلف مقا ما ت سے دو لڑ کیو ں اور ایک شا د ی شد ہ خا تو ن کو اغوا کرلیا گیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker