انور عباس انورتازہ ترینکالم

نواز شریف کا اعتراف حقیقت

داناؤں کا کہنا ہے کہ جو انسان خود سے سرزد ہوئی غلطی اور کوتاہی کا کا اعتراف کر لیتا ہے وہ بہت بڑا بہادر ہے اور اسکی کامیابیوں کے سفرکا روکنا ناممکن ہو جاتا ہے. 1988سے لیکر میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے تک جس سیاست کے امین نواز شریف رہے .محترمہ بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت کرنا اپنے ماضی کی غلطیوں کا اعتراف تھا.لیکن اس اعتراف حقیقت پر نواز شریف خود کوزیادہ دیر قائم نہ رکھ پائے.اور جلدی سے پٹری سے اتر گے.شائد اس کے پیچھے کچھ نادیدہ قوتوں کا ہاتھ کارفرما تھا.یاپھر نواز شریف کو یقین کامل ہو چکا تھا کہ اب وہ سلو فلائٹ کر کے اقتدار کے ایوانوں میں لینڈ کرسکتے ہیں.لیکن تاحال کامیابی سے ’’کوسو‘‘ دور تشریف فرما ہیں.جس اعتراف حقیقت کی جانب میں آج توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں اس تک پہنچتے پہنچتے درمیان میں ایسی کیفیت بھی بنی کہ میاں شہباز شریف نے اپنے سابق حلیف اور صدر پاکستان آصف علی زرداری کے لیے ایسے ایسے نازیبا الفاظ استعمال کیے جو بالکل نا مناسب تھے اور مہذب معاشرے میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا.برطانیہ سمیت دنیا بھر کے ممالک خصوصا ابھی حال ہی میں ہمارے ’’جگری یار‘‘امریکہ میں انتخابات ہوئے ہیں.وہاں تو مٹ رومنی یا باراک حسین اوبامہ نے اپنے حریف پر ملک دشمن ہونے کے الزامات نہیں لگائے اور نہ ہی ایک دوسرے کو سکیورٹی رسک قرار دیا گیا ہے.سوچنے کا مقام ہے کہ ایسا صرف ہمارے پاکستان میں ہو تا ہے کہ ہم اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف محب وطن تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے.ہم کیوں اپنے ’’جگری یار‘‘ بلکہ اپنے ’’یار مار‘‘ دوست امریکہ سے کیونکر سبق حاصل نہیں کرتے؟ وہاں اپوزیشن کو اقتدار سنبھالتے ہی ملک کی اہم وزارتیں ’’ دفاع اور خارجہ ‘‘ اپوزیشن کو دیدی جاتی ہیں.۔۔۔ گذشتہ دنوں میاں نواز شریف نے بڑی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک بڑی حقیقت کا اعتراف کیا ہے.نواز شریف فرماتے ہیں’’اگر میں وزیر اعظم بنا تو صدر آصف علی زرداری سے حلف لینے میں کوئی حرج نہیں.میں سیاست دانوں کو جالیاں دینے اور انکی کردار کشی پر یقین نہیں رکھتا‘‘ میاں نواز شریف نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ’’ شہباز شریف کبھی کبھی صدر آصف علی زرداری کے متعلق سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں انہیں (شہباز شریف کو) ایسا نہیں کرنا چاہئے.پیپلز پارٹی کی حکومت بغیر کسی آمر کی چھتری کے اپنی آئنی مدت پوری کرنے جا رہی ہے اور اقتدار پر شب خون کی بجائے اٹھارہ کروڑ عوام کے ووٹوں سے ہی پیپلز پارٹی حکومت کر رہی ہے‘‘.وزیر اعظم منتخب ہونے کی صورت میں صدر آصف علی زرداری سے حلف لینے پر نواز شریف کی رضامندی بہت بڑا بریک تھرو قرار دیا جا سکتا ہے.اور یہ واضع اشارہ اور گرین سگنل ہے کہ مسلم لیگ نواز صدر زرداری کے زیر سایہ انتخا بات لڑنے کو تیار ہے . میاں نواز شریف کے بارے میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں .اور انہیں میاں نواز شریف کی سیاست اور شخصیت کا مکمل ادراک ہی نہیں ہے.میاں نواز شریف کی سیاست کو جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں اسے اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’میاں نواز شریف بڑی محتاط چل رہے ہیں انکی اور آصف علی زرداری کی سوچ ایک ہے کہ کسی طرح جمہوریت کی ٹرین کو کسی حادثے سے دوچار کیے بغیر منزل مقصود پر پہنچایا جائے یعنی جمہوریت اور حکومت کو اپنی آئنی مدت پوری کرنے دی جائے ‘‘ کیونکہ آج کے دور کی یہی بڑی کامیابی اور ضرورت ہے.اگر کوئی یہ کہے کہ نواز شریف کو ملکی سیاسی صورت حال کا ادراک نہیں ہے اور انہیں سیاست کی سوجھ بوجھ نہیں ہے تو یہ قرین انصاف نہیں ہوگا.یہ درست ہے کہ ان ساڑھے چار سالوں میں کئی بار نواز شریف پٹری کو سے اتارنے کی کوششیں کی گئیں اور میاں نواز شریف ادھر ادھر ہوئے بھی لیکن پھر جلد ہی بات ان کی سمجھ میں آ گئی جیسے میمو گیٹ کیس کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے. مگر یہ سب کچھ ان سے قومی سلامتی کے نام پر کروایا گیا۔۔۔جس طرح کہتے ہیں ناں کہ ’’ڈھلیاں بیراں دا حالی کجھ نئیں بگڑا ‘‘ کے مصداق نواز شریف سنبھل گئے.کیونکہ قومی سلامتی کا مفہوم نواز شریف کو سمجھانے والے صاحب خود ہی نہیں رہے تو بات انکی بھی سمجھ میں آ گئی کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے.اسکے علاوہ نواز شریف کا موقف ہے کہ ’’ماضی میں زندہ رہنے کی بجائے اس سے سبق سیکھا جائے تو زیادہ بہتر ہے‘‘ یہی سبب ہے کہ آج نواز شریف کے بیان’’اگر وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو صدر آصف علی زرداری سے حلف لے لیں گے‘‘ کی پیپلز پارٹی والے ستائش کر رہے ہیں اور امید کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف بھی آئندہ نواز شریف کی ہدایت پر عمل کریں گے .پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی سول جمہوری حکومت نے نئی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا ہے. اگر نواز شریف یونہی پھونک پھونک پر قدم رکھتے رہے اور سنبھل سنبھل کر چلتے رہے اور نوزائیدہ جمہوریت کے پودے کی آبیاری کرتے رہے اور اگلی منتخب حکومت نے بھی اپنی آئنی مدت پوری کرلی تو پھر انشاء اللہ اس ملک سے جمہوریت کو کوئی مائی کا لال دیس نکالا نہیں دے سکے گا.میرے خیال میں کامیاب وہیں شخص رہتا ہے جو حالات کا بے لاگ جائزہ لے اور اسکا صحیح ادراک رکھتا ہو اور اپنی غلطی کو بنا کسی عذر اور تاویل کیے تسلیم کرے اسی کو اعتراف حقیقت کہتے ہیں.حقائق سے ناطہ جوڑنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا.

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:رکھ راجباہ سرسنگھ کو پختہ کر نے کے دوران ٹھیکیدارکی غفلت سےنہرکےموگھے جگہ جگہ سےٹوٹ گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker