تازہ ترینکالم

ناجی صاحب ۔۔۔ہاتھوں میں مرے قلم ہے کشکول نہیں

logo nouman1بینائی سے یکسر محروم اور روشنی سے ڈرنے والی چمگادڑیں معترض ہیں کہ سورج کا چہرہ اتنا تا باں ، درخشاں ، رخشاں ، فروزاں اور روشن تر کیوں ہے ؟فارن فنڈڈ این جی اوز کی منحوس اور مکروہ شکل میں بجھی ہوئی راکھ کے بے نور ذر و ں کی طرح ’’سویرے سویرے ‘‘گنتی کے چند کالم نگاربھی ’’جاتی عُمرہ ‘‘کی یاترہ کرتے ہوئے بغیر ہاتھ منہ دھوئے چمکتے دمکتے ستا روں پر تنقید کر رہے ہیں ، مین ہو لوں پر گندے نا لوں میں بو دینے والی گلی سڑی گار مشک اذفر کی عنبر افشانی پر حرف گیری کا شکار رہی ہے ،کالے بھجنگ کوے مور کے پروں کی چمن آرائی و دلکش رعنائی و زیبائی پر زبانِ طعن دراز کر رہے ہیں گندگی کے متعفن ڈھیر پر پڑی خشک ٹہنیاں ، صندل کی ڈالی پرطنز کر رہی ہیں اونے پونے داموں پر بِکنے والے بونے ا س وطن عزیز کوویران جزیرہ بنانے پر تُلے ہوئے ہیں چاند کی طرف منہ کر کے تھوکنے والے چاند کے حُسن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ’’خدمت انسانیت ‘‘ کے نام نہاد چیمپےئن کی طرح یہ دیہاڑی دار ’’کالم نگار ‘‘بھی جنہوں نے اپنے مکروہ زدہ اور منحوس چہروں پر نہ جانے کتنے چہرے سجا رکھے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان پھلے پھولے ، ترقی کرے ، خوشحال ہو اور یہاں پر اسلامی نظریات کی ترویج ہو وہ اپنے مکروہ اور بھیانک عزائم کے ساتھ وطن عزیز کے پسماندہ علاقوں اور جہالت کے جزیروں میں اپنے غلیظ و کثافت سے لبریز منصوبوں کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے طرح طرح کے کھیل ، کھیل رہے ہیں مگر ایک بات یاد رہے کہ درویش منش انسان واصف علی واصف ؒ نے کہا تھا کہ ’’ پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں ہے ‘‘ اور سرزمین پاکستان کے لیے نیت نیتی کے ساتھ جدوجہد کرنے والے بھی ہمیشہ معاشرے کے ماتھے کا جھومرہی رہیں گے
پنجاب میں دلِ مومن کی طرح کشادہ میدان ہیں تو خیبر پختونخواہ میں مردِ مجاہد کے سینے کی طرح مضبوط چٹانیں ، ایک طرف تاحدِ نگا ہ پھیلے ہوئے جنگلات کا سلسلہ ہے تو دوسری طرف بلوچستان کی سنگلاخ دھرتی ہے جس کی شریا نوں میں معد نیاتی خزانے خون کی طرح گردش کر رہے ہیں ، میلوں پر پھیلا ہوا سا حل ، بل کھاتی ندیاں ، لہراتے دریا ، آسمان کے رُخساروں پر بو سوں کی مُہریں ثبت کرتی پہاڑوں کی چو ٹیاں ، گنگناتے چشمے ، لہلہاتے کھیت ، کھلکھلاتے با غات ، مسکراتے جنگلات ، مہکتی ہوائیں ، چہکتی فضائیں ، اِٹھلاتی گھٹائیں ، رنگ بر ساتی وادیاں ، پر بتوں کی شہزادیاں ،غرضیکہ دنیا کا وہ کونسا حسین منظر ہے جو اس سوہنی دھرتی کے دامن میں موجود نہیں ، سیاست کے بے ہنگم ایوان کے بازی گروں اور صحافت کے میدان کے بعض شعبدہ بازوں نے اپنی صاحبو !جب ہمارے کالم نگار وطن کی زمین کی حُرمت اور رزقِ حلال کی بجائے دوسروں کے چبائے ہوئے لقموں پر جُگا لی کرنے کے عادی ہو جائیں ، بلندیوں کے آکاش پر آشیاں بندی کرنے والے ’’خود نمائی ‘‘ اور ’’جی حضوری ‘‘کی دلدل میں پھنس جائیں اپنی فکر کو رعنائی کے لیے نہیں بلکہ ’’خود رو نمائی ‘‘کے لیے استعمال کرنے لگیں بڑبولے سیاستدان سیاست کو عبادت کا جُبہ پہنانے کی بجائے اَمارت کا چُغہ پہنادیں ، منصف انصاف کے ترازومیں توازن پیدا کرنے کی بجائے ’’لچک ‘‘کے بہانے تراشیں ، سماجی لوگ فارن فنڈڈ ، فارن پیڈ و فارن میڈ این جی اوز کے پلیٹ فارم پر عوام میں فلاح و بہبود اور حرکت کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے ہنود و یہود کی سوچ اور جمود کو عام کریں مورخین آئندہ نسل کو حالات کی صحیح تصویر پیش کرنے کی بجائے در بار اور سرکار کی تا بعداری میں تاریخ مرتب کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں کھپادیں ، دانشور اپنی دانش کے گلزار نچھاور کرنے کی بجائے نفرت کے خار بر سانا شروع کردیں ، علماء دھند میں لِپٹے ماحول کو اپنی خوش الحانی سے صاف کرنے کی بجائے شعلہ بیانی سے دھند کو مذید گہرا کر دیں ، گدی نشین اپنی نگاہوں کی تاثیر سے ہزاروں سائلین کی تقدیر بدلنے کی بجائے جب اپنی نگاہیں ’’مرید ‘‘ کے نذرانوں اور تحائف پر مرکوز کردیں تو ایسے ماحول کو نکھارنے اور سنوارنے کے لیے ہمہ جہت انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے مگر گھنٹی کون باندھے ؟
یادرہے ہم نہ تو کسی کے مخالف اور نہ ہی کسی کے حاشیہ بردار ، اُٹھائی گیراور خوشہ چیں ، ہم دراصل اُس سوچ اور ذہنیت کے طرفدار ہو تے ہیں جو ملک و قوم کے لیے مخلصانہ جذبوں سے لیس ہو کر سوچتی ہے اور ہر اُس فکر اور نظریہ کی مخالفت کرنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں جو غلام ذہنیت کی پیداوار ہوتے ہیں اور غیروں کے اشاروں پر خود بھی ناچتے ہیں اور قوم کو بھی نچانے کی سعی لا حاصل کرتے رہتے ہیں ہم افراد کے نہیں بلکہ افراد کے ذہنوں میں پرورش پانے والی غلیظ اور تعفن زدہ سوچ کے مخالف ہیں کیو نکہ ہماری دینی تعلیمات ہمیں گناہگار سے نہیں بلکہ گناہ سے نفرت کا درس دیتی ہیں اور ایثار پیشہ وہ نہیں جو لفافہ ازم کا شکار ہوکر اپنی قلمی عصمت کو داغدار کریں اور اپنے الفاظ کو ایک طوائف کی طرح ’’قلمی کوٹھے ‘‘ کی زینت بنائیں جینوئن اہلِ صحافت آئینے کی حیثیت سے گلی کی نکڑ اور چوک چوراہے پر جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہ قوم کو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے جس کا ہمارے حکمران بُرا منا جاتے ہیں
ایثار پیشہ اہلِ صحافت نے ’’بی بی ‘‘ ہو یا ’’بابو ‘‘ پرویزِ صغیر ‘‘ ہو یا ’’پرویزِ کبیر ‘‘ ’’میاں ‘‘ ہو یا ’’بیوی ‘‘ اِن اہلِ صحافت کی نگرانی میں شائع ہونے والے گروپ آف نیوز پیپرز کے صفحات گواہ ہیں کہ انہوں نے ہر دورِ حکومت میں حق گوئی کا پرچم بلند کیے رکھا ہے اور اِس راست بازی کے پرچم کو کبھی بھی کسی بھی لمحے ذرا بھر کے لیے بھی سر نگوں نہیں ہو نے دیا
سیاست کے بے ہنگم ایوان کے بازی گروں اور صحافت کے میدان کے بعض شعبدہ بازوں نے اپنی ملک دشمنی پر مبنی ’’سیاسی بصیرت ‘‘ اور بے ربط و کج مج صحافتی ’’دانش ‘‘کے بل بوتے پر ملک و قوم کی بنیادوں میں گہرا شگاف ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے اربابِ صحافت کے قلم کی روشناہی جب سیاسی پنڈتوں ، مذہبی بر ہمنوں اور فارن فنڈڈ این جی اوز کے خفیہ اور مکروہ گو شوں کو عوام کے سامنے لانے کی بجائے ان کے کار نا موں کو ’’خدمت خلق ‘‘ اور ’’خدمت دین ‘‘ کا چُغا و چو لا پہناتی ہے تو مو لانا ظفر علی خان ؒ ،مو لانا حسرت مو ہانی ؒ ،مو لانا محمد علی جو ہر ؒ ،آغا شورش کاشمیری ؒ کی روح ماہی بے آب کی طرح تڑپ اُٹھتی ہو گی وہ قلم جس سے خالق کائنات انسان کو علم سیکھنے کا سلیقہ سکھا رہا ہے اسی قلم کی تقدیس و حُرمت کے پر خچے اُڑائے جا رہے ہیں اربابِ صحافت نے جب سے قلم کی حُرمت کا ’’اتوار بازار ‘‘ سجایا ہے دانش و حکمت ٹکے ٹوکری ہو گئی ہے لیکن صحافت کے اس ’’اتوار بازار ‘‘ میں ابھی بھی ایسے نگینے باقی ہیں جن کو ماتھے کا جھومر بنانے کو جی کرتا ہے ایسے کالم نگار اور اربابِ صحافت نے ہمیشہ اس گلے سڑے معاشرے میں صندل کا کام دیا ہے اور ان کے قلم سے ہمیشہ وطن کی سا لمیت اور احترامِ آدمیت کی تحریر ہی رقم ہوتی رہی ہے ، دس نمبرے اربابِ صحافت اور احبابِ سیاست نے بریفو کریسی اور لفافہ کریسی کی زنجیرِ محبت میں گرفتار ہو کر ملک و قوم کی کشتی کو ساحلِ مُراد تک پہنچانے کی بجائے ہمیشہ بھنور ہی میں ہچکولے کھانے کے لیے پھنسائے رکھاہے (جاری ہے)

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button