تازہ ترینکالممیرافسر امان

ناظمین کا اجتماع؍امیر جماعت کا خطاب

ناظمین کا اجتماع برائے الیکشن ۲۰۱۳ء اور انتخاب کی تیاریوں کے سلسلے میں ادارہ نور حق میں مور خہ ۲۶ نومبر ۲۰۱۲ء بعد نماز مغرب منعقد ہوا اس میں امراء ونائب امراء اضلاع زونز شریک ہوئے۔سب سے پہلے امیر حلقہ کراچی نے الیکشن کے بارے میں مفصل تقریر کی انہوں نے فرمایا ہم نے ۲۰۰۲ء میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لیا تھا اس کے بعد مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ۲۰۰۸ ء الیکشن میں ہم نے حصہ نہیں لیااب ہم انشا اللہ ۲۰۱۳ء کے الیکشن میں بھر پور حصہ لیں گے۔ خوش آئند بات ہے کہ ایک ایسے الیکشن کمشنر کا انتظام ہو گیا جس پر سب نے اتفاق کیا ہے ۔ہم نے الیکشن کے لیے تیار کردہ الیکشن کمیشن اور نادرہ کی ووٹر لسٹوں میں غلطیوں کو درست کرنے کے لیے کے سندھ کے الیکشن کمشنر سے ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ کراچی کے ۶۸ لاکھ ۱۱ ہزار ووٹر ز میں سے ۳۰ سے ۳۵ لاکھ ووٹر کو ووٹ سے محروم کر دیا گیا ہے ووٹرزکے پتے تبدیل کر دیے گئے ہیں مگر خاطر خواہ نتائج نہ ملنے پر ہمیں سپریم کورٹ جانا پڑا ۔پی ای سی ایچ کے ایک گھر میں ۶۵۳ ووٹ لکھے ہوئے ہیں سپریم کورٹ نے بھی کہا کیا وہاں جن رہتے ہیں؟۔ سپریم کورٹ نے ہمارے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے آڈر دیا ہے کہ ووٹر لسٹیں تین ہفتوں میں ووٹوں کو صحیح کیا جائے۔ہماری طرف سے سپریم کورٹ میں رشید صدیقی ایڈوکیٹ صاحب پیش ہوئے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پولنگ اسٹیشن لوگوں کے گھروں کے قریب بنائے جائیں ۔ پولنگ اسٹیشنوں کی لسٹ وقت پر مہیا کی جائیں پولنگ ایجنٹس کو تحفظ مہیا کیا جائے،گنتی کے بعد دستخط شدہ نتائج پولنگ ایجنٹ کے حوالے کیے جائیں،ووٹر لسٹوں پر ووٹر کا فوٹو بھی ہونا چاہیے۔ اس کے بعد معراج الہدیٰ صدیقی امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ نے خطاب کیاانہوں نے کہا موجودہ دور میں بدامنی،قتل،بھتہ خوری لوڈ شیڈنگ،سی این جی ،مہنگائی، بھوک افلاس کی وجہ سے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں حالات کی درستگی کے لیے لوگوں کے گھروں پر دستک دینی ہے اتحاد آخری موقعے پر سامنے آکر تبدیلی کا باعث بنتے ہیں جو لوگ کہتے ہیں انتخاب کے ذریعے تبدیلی نہیں آ سکتی وہ لوگ دینی جماعتوں کو کمزور کرتے ہیں اس لے ان کو سمجھانے کی بات ہونی چاہیے ترکی ،مصر،تیونس میں ووٹ کے ذریعے تبدیلی آئی ہے جیسے وہاں کامیابی ہوئی ہے یہاں بھی ویسے ہی کامیابی ہو گی کارکن سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر تبدیلی کے ایجنڈے پر کامیاب کریں اللہ کامیاب کرے گا۔اس کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سید منور حسن نے خطاب کیا انہوں نے فرمایا کراچی جماعت نے بروقت اجتماع کیا ہے جس کی ضرورت تھی۔ اگر دل درست ہو جائے تو تمام جسم ٹھیک ہو جاتا ہے اگر دل خراب ہو تو جسم خراب ہوتا ہے یہی بات قوموں اور معاشروں پر لاگو ہوتی ہے جب لوگ دین سے ہٹ گئے توجماعت اسلامی نے دین اور سیاست کی دوری کو ختم کیا۔ دینی جماعتوں کے ووٹ کاسٹ نہ کرنے پرحافظ سعید سے اس سلسلے میں بات ہوتی رہتی ہے تبلیغی جماعت کو مولانا محمد شفیع مفتیِ اعظم پاکستان کا فتویٰ کا بتانا چاہے جس میں انہوں نے ووٹ کی اہمیت کو واضع کیا ہے ملک کے حالا ت خراب ہیں ان ہی حالت میں تبدیلی کا راستہ بنانا چاہیے ایم کیو ایم خوف کا سماء بنارہتی ہے تاکہ لوگ ووٹ ڈالنے نہ جائیں آپ نے اس خوف کے سماء کو اپنی انتھک محنت سے ختم کرنا ہے ادھر پاکستان کی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکچھ گھرانے۶۰ سال سے پاکستان میں حکومت کر رہے ہیں اس کو ختم کرنا ہے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں جماعت اسلامی نے بڑے بڑے جلسے کئے ہیں آپ نے بھی کراچی میں ملین مارچ کئے ہیں اب ان لوگوں کے ووٹ کاسٹ کرانے سے اور رابطہ عوام کے ذریعے کامیابی کا راستہ کھلتا ہے۔ جماعت نے سیلاب زلزلے میں قوم کی خدمت کی ہے ان سے بھی رابطہ ہونا چاہے تاکہ لوگ ووٹ دیں۔جماعت اسلامی خالصتاً اللہ کے لیے کام کرتی ہے لوگوں سے نرمی سے بات کرنی چاہیے انہوں نے فرمایا میرا تاثر ہے ہم رابطہ عوام میں کمزور ہیں اس کی فکر ہونی چاہیے ملی یکجہتی کونسل میں کہا گیا ہے کہ دینی جماعتوں کے ووٹ تقسیم نہ ہونا چاہیے ہمیں جب ووٹ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی وجہ سے ملا تو فائدہ کس کو ہوا تبلیغی جماعت والے ووٹ نہیں ڈالتے تو دیو بندی علماء کواور الحدیث ووٹ نہیں پڑتے تو حافظ سعید کو غور کر نا چاہیے بااختیار لوگ ہی تبدیلی لا سکتے ہیں لہٰذا دینی جماعتوں کو ووٹ کی اہمیت پر غور کرنا چاہیے ۔ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ہم کوشش کر رہے ہیں ا پنے پرچم کے تحت الیکشن میں حصہ لیں ۱۹۷۰ ء کے بعد اپنے پلیٹ فارم سے ا لیکشن میں حصہ نہیں لیا ۔متحدہ مجلس عمل باوقار طریقے سے بحال ہونی چاہیے نہ کہ کسی کے پرئشیر کے تحت ۔ میں نے مولانا فضل الرحٰمان صاحب سے ڈھائی گھنٹے ملاقات کی پھر تین وفود نے بات چیت کی اور آخر میں انہوں نے متحدہ مجلس کا اجلاس کیااخباری بیان میں مولانا نے کہا جماعت اسلامی کو شامل ہونا تو دیکھیں گے ہم نے کہا ہم آپ کو تکلیف نہیں دینا چاتے۔ ہم کہتے پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ متحدہ مجلس عمل ٹوٹی کیوں تھی دوم جو دوستی آصف زرداری صاحب اور حکومت سے ہے وہ متحدہ مجلس عمل کا کام نہیں۔ سوم خیبرپختونخواہ میں سیٹوں کی تقسیم کا کیا فارمولا ہو گا۔مولانا کہتے ہیں پہلے بحال ہو پھر یہ کام دیکھیں گے ۔ہم اپنا وقار بحال رکھیں گے۔ویسے ہمارا انصاف اور نوا ز لیگ سے رابطہ ہے۔الیکشن کے موقعہ پر اتحاد کا پتہ چل جائے گ
ان لیگ سے چار دفعہ رابطہ ہوا ہے شہباز شریف بھی اتحاد چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کامیابی کی شاہ کلید رابطہ عوام میں ہے اس پر کارکن کام کریں ہمارے نمائندوں کو بھی فیلڈ میں اترنا چاہیے۔انہوں نے کہا خواتین مردوں سے زیادہ فعال ہیں اور محنت کر رہی ہیں آپ کو بھی ان کی مزید مدد کریں

یہ بھی پڑھیں  صولت مرزا نےانویسٹی گیشن ٹیم کے سامنےاپنا بیان دہرادیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker