ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

نظریہ پاکستان کیا ہے؟

میرے دادا حضور تحریکِ پاکستان کے قصے ہم بہن بھائیوں کوسناتے اور بتاتے تھے کہ ہندوستان میں تحریک پاکستان کی جدو جہد کے دوران بچے ،بڑے،خواتین، بزرگ سب کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ‘پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاِ اللہ۔ایک اندازہ کے مطابق 20 لاکھ افراد نے اسِ نعرہ اور اسکے پیچھے نظریہِ پاکستان کی خاطر اپنی جانیں نثار کردیں۔ میں سمجھتا ہوں وہ سچے شہید تھے جن کے خون کے نذرانوں کو اللہ تعالی نے قبول کیا اور دنیا کے افق پر ایک اسلامی ریاست پاکستان وجود میں آئی۔آج پاکستان کے وجود کے 66 سال بعد بڑے بڑے مفکر، دانشور، سیاسی پنڈت اور صحافی حضرات ٹی وی مناظروں میں بیٹھ کر یہ بحث کر رہے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ بنایا تھا یا اسلامی ریاست۔ یہ دیکھ کر ایک چیزتو ثابت ہو رہی کہ پاکستان سے نظریہ پاکستان کا خاتمہ ہو رہا ہے۔سیکولرازم وہ فلسفہ ہے جو کسی بھی مذہب کو ریاست کے کاروبار میں مسترد کرتا ہے اور پاکستان کے تو آئین میں درج ہے کہ پاکستان کا نظام قرآن اور سننت کے مطابق ہوگا اور بانی پاکستان نے تو صاف کہا تھا کہ پاکستان کا آئین تو 14 سو سال پہلے حضوراکرم ؐ نے عطا کر دیا۔ اور اگر سیکولرزم کی بات کی جائے تو دنیا میں کوئی بھی ملک سیکولر نہیں، پاکستان کی ریاست کا نظام سیکولر ہونا چاہیے یا اسلامی۔پاکستان کو بنے ہوئے ابھی 25 سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ اس کا ایک بڑا حصہ جدا کر دیا گیا۔ آج بھی یہ وہی سوچ اور اس سے جنم لینے والا نظام اور اسکے طاقتورلوگ ہیں جن کے چنگل میں ریاست کا نظام یرغمال بنا ہوا ہے۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ نظریہ پاکستان کا بھی خاتمہ کیا جائے تاکہ اپنی موروثیت پاکستان کے نظام کا مستقل حصہ بنادیا جائے جس طرح سے عرب ریاستوں میں یہ نظام رائج ہے۔ یہ جاگیردار، سرمایہ دار ، بدعنوان افسرشاہی ، مفاد پرست سیاسی ٹولہ اور منافق مذہبی ٹھیکیدار پاکستان کو چھوٹی چھوٹی عرب ریاستوں کی طرز پر چلانا چاہتے ہیں کیونکہ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو انِ سب سے آقا وہی مغربی طاقتیں ہیں جن کا یہ ایجنڈہ صرف کرتے ہیں اور بدلے میں اپنے مقاصد کی تکمیل پاتے ہیں۔آج پاکستان کا مطلب ریاست کو چلانے والی انِ طاقتوں نے اپنے اپنے مفاد کے حساب سے نکال لیا ہے۔مذہب کے ٹھیکیدار مولویوں کے لئے پاکستان کا مطلب سنی، شیعہ، وہابی، اہلِ حدیث وغیرہ وغیرہ اور انکے پیروکاروں کے لئے فرقہ کے نام پر ایک دوسرے کی جان لینا کوئی گناہ نہیں۔ آج پاکستان میں کتنی فرقہ پرست مذہبی جماعتیں ہیں جو فرقہ کی بنیاد پر مسلمانوں کو تقسیم کئے ہوئے ہیں اور پاکستان کی سیاست میں اپنے حصہ کو بنیادی حق سمجھتی ہیں۔ آج پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے!سیاستدانوں کے لئے پاکستان کا مطلب ہے اپنی پارٹی اور اپنے مفاد کا تحفظ جس کے لئے اچھے برے، سچ جھوٹ اور قول و فعل کی کوئی قید نہیں۔ لوگوں سے سرے عام جھوٹے وعدہ کرو، ملک کے خزانے کو اپنی ذاتی ملکیت سمجھ کر ہڑپ کر جاؤ اور اگر کوئی خطرہ ہو تو اپنے آقاؤں کے دیس دبئی، لندن یا نیو یارک میں بیٹھ کر سیاست گیری کرو۔ شخصیت اور موروثیت کے نام پر اپنی سیاسی پارٹی میں اپنی اجاراداری قائم رکھو اور لوگوں کو جمہوریت کا سبق پڑھاؤ۔آج ہر محب وطن اور درد مند پاکستانی کا دلِ خون کے آنسوروتا ہے جب وہ یہ دیکھتا کہ جو ملک کو توڑنے میں شریکِ جرم تھے آج شہید اور قائد عوام کہلاتے ہیں۔ جن کی جدی پشتی انگریزوں کی غلامی کرتی چلی آئی اور ان سے انعام و اکرام لیکر جاگیردار اور قبائل بن گئے آج ان کی نسل بڑے فخر سے پاکستان کی حکمرانی اپنا حق سمجھتی ہے۔بے گناہ خون کسی کا بھی بہایا جائے نا قابلِ معافی ہے مگر بے گناہی کی حقیقت بھی آئینہ کی طرح شفاف ہونا چایئے۔ اگر کوئی اپنے کارناموں ، سازشوں یا سیاسی دشمنی کی وجہ سے قتل کر دیا جائے یا ہو جائے تو وہ پاکستان کے لئے کسِ طرح شہید ہو سکتا ہے۔ آج پاکستان کا مطلب یہی کچھ رہ گیا ہے کہ اپنے مفاد اور اقتدار کی خاطر بیرونی طاقتوں سے ساز باز کرو اگر اقتدار ملِ گیا تو وارے نیارے اور اگر مہم میں مارے گئے تو شہید اورپھر انکی قبروں پر سیاست کرو، مظلومیت اور شہادت کے گنْ گاؤ، اپنے ہاریوں اور غلاموں کو جلسہ گاہوں میں اکٹھا کرو، برسی کے موقع پر اسٹیج پر بیٹھ کر خوش گپپیاں کرو، مونیٹر پر لکھی تقریر پڑھو اور لوگوں کو دھوکہ دو کہ کتنا قابل بچہ ہے اور کتنی اچھی اردو سیکھ لی ہے۔ یہ سب خاندانی فراڈیہ ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے ہر شعبہ اور طبقہ میں انِ فراڈیوں کے خریدار موجود ہیں۔آج پاکستان کا خزانہ خالی ہے اور ملک کا کاروبار چلانے کے لئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بھیک مانگی جار ہی ہے۔ اور یہ بھیک مانگنے والے وہ حکمران ہیں جنہوں نے اپنے اثاثہ ، کاروربار اور بینک بیلنس ریاست پر موجود قرض سے کہیں زیادہ بنا لیے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے تازہ اعداد و شمار جاری کئے ہیں جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو 40 کروڑ روپے چندہ سے وصول ہوئے۔ جس ملک کے عام آدمی کے پاس اسِ وقت تین وقت کی روٹی کے پیسے نہ ہوں تو نواز شریف اینڈ فیملی کو کروڑوں روپے کا چندہ کسِ نے دیا۔ یہ پیسہ ان سیٹوں کی فروخت سے آیا ہے جس کے خریدار آج قومی اسمبلی میں عیاشیاں کر رہے ہیں اور نواز شریف اینڈ فیملی اس کے بدلے پاکستان کے مالک بنے بیٹھے ہیں! اور پھر بات کرتے ہیں عوامی مینڈیٹِ کی۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔۔۔۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ لوگ قائد اعظم کا نام عزت سے تو لیتے ہیں مگر قائد اعظم کی مسلم لیگ کو اپنی مس

یہ بھی پڑھیں  پہلا ون ڈے، پاکستان نے زمبابوے کو 260 رنزکا ہدف دے دیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker