شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / Uncategorized / نظریاتی اورمالیاتی

نظریاتی اورمالیاتی

پاکستان میں انتخابی موسم آتاہے توسیاسی پرندے اُڑان بھرتے،اِدھراُدھر پرواز اوراپنے مفادات کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے نیاجہان تلاش کرتے ہیں،ایسا کرناان کاحق ہے۔زیادہ ترسیاستدانوں کے نزدیک سیاست درحقیقت اقتدارتک رسائی کی سیڑھی ہے اوراگراقتدار نہ ملے توپھر سیاست میں جگ ہنسائی اور ” رسوائی ”کے سواکچھ نہیں ملتا۔اپوزیشن ارکان کی نسبت حکمران جماعت کے منتخب نمائندے اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں زیادہ ترقیاتی کام اورووٹرز کے انفرادی مسائل حل کروانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں اسلئے ہمارے ہاں”حکمران جماعت”کوزیادہ پسندکیا جاتا ہے۔جس وقت ایوان اقتدار سے حکمران جماعت رخصت ہوتی ہے تو مخصوص مائنڈسیٹ کے حامل سیاستدانوں کی وفاداریاں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں یایوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے زیادہ ترسیاستدان ”حکمران جماعت ” سے وابستہ ہوتے ہیں اب اگردوچاربرس بعدحکمران جماعت بدل جائے تواس میں ہمارے معصوم سیاستدانوں کاکیا قصور ہے ۔پاکستان میں25جولائی کوانتخابی دنگل ہوگا،پاک فوج ووٹنگ کو براہ راست مانیٹر کرے گی،2013ء کے الیکشن میں جسٹس(ر) چودھری افتخارنے جوکیا تھاوہ قابل افتخار نہیں بلکہ قابل افسوس ہے۔ان دنوں ملک عزیزکی ہرمجلس میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کارجحان زیربحث ہے ۔قومی سیاست میں سرمایہ داری کی اجارہ داری کے سبب نظریاتی سیاست ناپیدہوگئی ہے تاہم نظریہ ضرورت کے تحت سیاست کرنیوالے زیادہ کامیابی اور”لکشمی” سمیٹ رہے ہیں۔راقم کے ایک معتمددوست نے اپنی زندگی کے بیش قیمتی اٹھائیس سال نظریاتی سیاست کے فریب میں مسلم لیگ (ن) میں برباد کردیے اورپھرمارچ2009ء سے اب تک اپنے اس سیاسی گناہ کاکفارہ اداکررہا ہے۔راقم کادوست بھی سیاسی وفاداری کی تبدیلی کوگالی سمجھتا تھا مگر یہ اس کی غلطی تھی کیونکہ سیاسی وفاداری کسی جماعت یاشخصیت کی غلامی ہرگز نہیں ہے۔جہاں سیاسی پارٹیوں کے سربراہان نظریاتی نہیں بلکہ ”مالیاتی” سیاست کرتے ہوں وہاں کارکنان کس طرح نظریاتی سیاست کرسکتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بار بار جہانگیرخان اورعبدالعلیم خان کوعمران خان کا ”اے ٹی ایم ”کہاگیالیکن اگریہ دونوں شخصیات مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوناچاہیں تونوازشریف انکار نہیں کرے گا ۔اس وقت پی ٹی آئی ،مسلم لیگ (ن)اورمسلم لیگ (ق) تینوں میں پرویزی آمریت کی باقیات ہیں،نوازشریف کی طرح عمران خان بھی وی آئی پی کلچر کاشوقین ہے۔مسلم لیگ (ن) کی طرح پی ٹی آئی کے پاس بھی اپنے ”انجن”ہیں جواپنے لیڈرکوآگے کھینچتے ہیں،ان کو”اے ٹی ایم” بھی کہاجاتا ہے۔یہ انجن اپنے پارٹی سربراہ اوراس کے معتمدرفقاء کار کامالی بوجھ اٹھاتے اورانہیں نقدنذرانوں اور قیمتی تحفوں سمیت بیڈروم میں عارضی استعمال کاسامان بھی پیش کرتے ہیں ۔عمران خان جوعمرہ دوتین لاکھ روپے میں اداکرسکتاتھا اس کیلئے موصوف نے کروڑوں روپے کے ضیاع سے عوام کوکیا پیغام دیا ہے ۔عمران خان کے قول وفعل کاتضاد بار باربے نقاب ہوتا ہے،وہ خودکودوسروں سے مختلف کہتا ہے مگر اپنے کردارسے وہ مختلف نہیں لگتا۔
موضوع کی طرف واپس آتاہوں،سیاستدان یاسیاسی کارکنان جب چاہیں پارٹی بدل سکتے ہیں ،سیاسی نظریہ کوئی مذہبی عقیدہ نہیں ہے ۔ جس دنیا میں ہرروزانسانوں کے مذہب اورمسلک تبدیل ہو تے ہیں اورمذہب کی تبدیلی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں وہاں کسی سیاسی جماعت کی کیا حیثیت ہے ۔بعض لوگ تو بیعت کے بعد اپنامرشدچھوڑکرنیا پیر منتخب کر نے میں بھی جھجک محسوس نہیں کرتے توکسی کارکن پرمرتے دم تک اپنے سیاسی لیڈر کی اطاعت قطعی فرض نہیں ہے۔سیاستدان آسمانی اوتاریااللہ تعالیٰ کے پیغمبر نہیں ہیں جوان کے ساتھ وفاداری کی تبدیلی گناہ کبیرہ تصور کی جائے۔سیاسی کارکنا ن کوبیوفائی کاطعنہ دینے والے سیاستدان خود زیادہ بیوفا ہوتے ہیں ،جب وہ کارکنوں کی مشاورت کے بغیر راتوں رات اپنی مدمقابل سیاسی جماعت سے انتخابی یاسیاسی اتحادکرتے ہیں،اپنے دیرینہ اورمخلص ساتھیوں کی بجائے جماعت میں کسی پیراشوٹریا سرمایہ دارکوٹکٹ دیتے ہیں اوراقتدارمیں آنے کے بعد سکیورٹی ا قدامات کی آڑمیں جانثار کارکنان کوخودسے بہت دورکردیتے ہیں توان کایہ رویہ طوطاچشمی اور بیوفائی کے زمرے میں آتا ہے۔ سیاسی وفاداری تبدیل کرنیوالے کو”لوٹا ”قراردینا درست نہیں۔ میں سمجھتاہوں”لوٹا”نہیں بلکہ معاشرے کاہروہ کردارجس نے مقروض ملک اوربدحال عوام کے وسائل کوبیدردی سے”لُوٹا” قابل نفرت اورقابل گرفت ہے۔کوئی عوامی نمائندہ یاسیاسی کارکن کسی سیاسی شخصیت کازرخریدغلام نہیں ہوتا کہ وہ اس کی آمرانہ روش اورسیاسی غلطیوں کے باوجود ہاتھ باندھ کروہیں کھڑااوراپنی توہین برداشت کرتارہے۔کیا اہل علم ودانش اپنے کالم اورتجزیوں کیلئے اخبارات یعنی میڈیاگروپ تبدیل نہیں کرتے،کیا ٹی وی ٹاک شوز کے میزبان اپنے اختلافات کے سبب یا بہتر پیشکش کی صورت میں راتوں رات ایک چینل سے دوسرے چینل میں نہیں جاتے۔”لیاقت ”سے محروم ایک بدزبان اوربے لگام ڈاکٹراب تک بیسیوں بارچینل تبدیل کرچکا ہے،وہ جس چینل کوچھوڑدے اس پرکیچڑبھی خوب اچھالتا ہے مگراسے قبول کرنے اورمقبول بنانیوالے چینل مالکان یہ بھول جاتے ہیں کہ جب وہ انہیں چھوڑے گاتوان پر بھی گندے چھینٹے اچھالے گا ۔عمران خان کااسے قبول کرنا انتہائی نامعقول اورغیرمقبول فیصلہ تھا۔کیا پاک فوج سے کیپٹن (ر)محمدامین وینس سمیت متعدد باصلاحیت آفیسرز پولیس سمیت دوسرے انتظامی شعبوں میں نہیں آتے ۔کیاموکل بروقت انصاف کیلئے وکیل اورمریض اپنی صحت وتندرستی کیلئے اپناڈاکٹراوردوانہیں بدلتا ۔کیا لوگ ناچاقی یادوسری وجوہات کی بنیادپرایک بیوی کوطلاق دے کر دوسری خاتون سے نکاح نہیں کرتے ۔کیا لوگ ایک گھرسے دوسرے گھر اوراپنے آبائی شہریا ملک سے کسی دوسرے شہریا ملک ہجرت نہیں کرتے،کیا ایک سیاسی جماعت چھوڑکرکسی دوسری پارٹی میں شامل ہونے یعنی اس تبدیلی کو”لوٹاکریسی ”کہناجائز ہوگا۔اگر سیاسی جماعت کی تبدیلی لوٹاکریسی ہے توپھرنوازشریف اورجاویدہاشمی بھی تحریک استقلال سے مسلم لیگ میں آئے تھے ۔تبدیلی فطرت کی ضرورت اوراس کاحسن ہے ۔شجر بھی نئے پتوں کیلئے پرانے پتوں سے چھٹکارہ پاتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں شعبدہ بازبہت ہیں مگرمعقول اورمقبول سیاسی قیادت نہیں ہے جو سیاسی قیادت ہونے کادعویٰ کرتے ہیں وہ اندرونی طورپر کسی فوجی ڈکٹیٹرسے بڑے آمرہوتے ہیں۔چودھری نثارعلی خاں کی طرح جوجماعت میں اختلاف رائے کرے اسے ٹکٹ سے محروم کرکے اس کے پیچھے پرویز رشید کولگادیاجاتا ہے ۔اٹھارویں ترمیم کے تحت منتخب ارکان اسمبلی پارٹی پالیسی سے اختلاف نہیں کرسکتے ،اس قسم کی جمہوریت آمریت سے بدترہے۔اٹھارویں ترمیم نے پارٹی سربراہان کومطلق العنان جبکہ پارٹی کے منتخب ارکان اورکارکنان کوان کاگونگابہرہ غلام بنادیاہے۔اس قسم کے آمرانہ اورمتعصبانہ ماحول میں جمہوریت کادم گھٹ جانافطری امر ہے ۔جہاں نام نہادسیاسی قیادت سے اختلاف رائے کاحق نہ ملے وہاں پارٹی چھوڑدینا ناگزیر ہو جاتا ہے ۔ اگرکوئی امیدوار انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹ نہ ملنے اپنے سیاسی مستقبل کیلئے نیاراستہ منتخب کرتا ہے تووہ غلط نہیں کرتا،اسے لوٹا کہنامعاشرے کی غلطی اور زیادتی ہے ۔مثال کے طورپراگرپیپلزپارٹی یامسلم لیگ (ن) کوچھوڑ کرکوئی پی ٹی آئی میں شامل ہوجائے تووہ امیدوارپی ٹی آئی کے سوادوسری پارٹیوں کیلئے” لوٹا” ہے اوراگرپی ٹی آئی سے کوئی مسلم لیگ (ن) میں جائے تووہ مسلم لیگ (ن) کے سوادوسری پارٹیوں کیلئے لوٹا قرارپائے گااوراگرلوٹا بننے کے بعدکوئی پرانی جماعت میں واپس لوٹ آئے تواس صورت میں وہ ”لوٹا ”نہیں رہتا، یعنی لوٹوں بارے ہرپارٹی کااپنااپنااصول اورمفہوم ہے۔
اب فاروق بندیال کے موضوع کی طرف آتے ہیں،موصوف پی ٹی آئی سے وابستہ ہوئے تومسلم لیگ (ن) نے سوشل میڈیا پرعمران خان کیخلاف محاذ گرم کردیا جس پرپی ٹی آئی نے سرنڈرکرتے ہوئے فاروق بندیال کوپارٹی سے نکال دیا ،یہ وہی فاروق بندیا ل ہے جوپی ٹی آئی میں شامل ہونے سے ایک رات پہلے تک مسلم لیگ (ن) میں تھا اوراس نے ایک حالیہ اجتماع میں مریم نوازکے سرپرچادربھی اوڑھائی تھی ۔راقم نے آج تک ماضی کی اداکارہ شبنم کے ساتھ فاروق بندیال کے ہاتھوں زیادتی کاواقعہ نہیں سنا تھا لہٰذاء اس افسوسناک واقعہ کوبنیاد بناکرعمران خان پر نہیں بلکہ ریاست اورشبنم کی عزت پرحملے کئے گئے ۔وہ کروڑوں لوگ جوماضی کے اس شرمناک واقعہ سے بے خبرتھے انہیں بھی بتادیاگیااوردنیا بھرمیں پاکستان کانام بدنام کیا گیا ۔کئی دہائیاں قبل ہونیوالے واقعہ میں نامزدملزم فاروق بندیال کوایک ولن جبکہ پاکستان کوایک کمزوراوربے بس ریاست کے طورپرپیش کیا گیا ۔قانون نے فاروق بندیال کوگرفتارکیاتھا ،عدالت میں سماعت بھی ہوئی تھی اورفاروق بندیال سمیت ملزما ن اپنے دفاع کاحق استعمال کرتے ہوئے رہاہوگئے تھے،کسی ملزم کی رہائی کے بعداس کامیڈیا ٹرائل کرناریاست کی رٹ پر انگلی اٹھانا ہے ۔ہوسکتا ہے رہائی کے بعد فاروق بندیال واقعی بیگناہ ہویااس نے اپنے گناہ پر سچی توبہ کرلی ہواوراللہ تعالیٰ نے بھی درگزر کردیا ہومگر ہم جواپنے بڑے بڑے گناہ بھول جاتے ہیں مگردوسروں کی خطاؤں کومعاف نہیں کرتے ۔کیا اللہ تعالیٰ کسی انسان سے گناہ سرزدہونے پراس کارزق اوراس کیلئے آکسیجن بندکردیتا ہے،کیاسیاہ کاروں کی نمازجنازہ ادا اوران کی مغفرت کیلئے دعانہیں کی جاتی،کیا انہیں قبرمیں نہیں اتاراجاتا ،کیا جیل میں پابندسلال ملزم یامجرم کوخوراک اوردوانہیں دی جاتی ،کیا قیدیوں کے حقو ق نہیں ہوتے۔کیا عدالتی حکم پر”رہائی” کے بعدکسی ملزم کی ”رسوائی” درست ہے ۔ کیا کسی ملزم یامجرم کومعاشرے کامفیدشہری بننے کیلئے سدھرنے کی مہلت نہیں ملنی چاہئے ۔ہمارے اندرکامنصف صرف دوسروں کیلئے کیوں جاگتا ہے ،ہم اپنااپنااحتساب کیوں نہیں کرتے۔اگرفاروق بندیال کیخلاف چارج شیٹ کوتسلیم کرلیا جائے تواس نے بہت غلط کیا مگرکئی دہائیوں بعد مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا سیل نے اپنی سیاسی حریف پی ٹی آئی کی آڑمیں اداکارہ شبنم ،فاروق بندیال اورپاکستان کے ساتھ کیاجو وہ ناقابل فہم اورناقابل معافی ہے۔کسی کوسیاست کیلئے قومی حمیت اورریاست کاوقار داؤپرلگانے کاحق نہیں پہنچتا۔

یہ بھی پڑھیں  روحانی تدارک