امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

نیا سال ،پرانے عہد

imtiaz shakirراقم کی طرف سے پوری دنیا کے انسانوں خاص طور اہل پاکستان کو نیا سال مبارک ہو۔بہت سی نیک خواہشات اور دعاؤں کے ساتھ آپ کی خدمت پیش ہیں معلومات سے خالی لیکن اُمید بھرے خیالات ۔سال 2012اپنی آخری سانسیں لے کر دم توڑچکاہے۔جہاں سال 2012ہمارے لیے بہت سی تلخ یادیں چھوڑ گیاجن میں بے انتہا مہنگائی، دہشتگردی ،بد امنی،بڑھتی ہوئی بے روز گاری وغیرہ وغیرہ ہیں وہیں 2013کے شروع ہوتے ہی تاریخ کی پہلی جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر کے آنے والے زمانوں کے لیے مثال بن جائے گی ۔بیشک اس جمہوری حکومت نے بہت سی مشکلات کا سامنا کیا اور بہت سے نشیبوفراز دیکھے ،بے شک جمہوریت کے ان پانچ سالوں میں عوام کے ہاتھ میں کچھ نہیں آیا۔پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں بہت زیادہ کرپشن اور عوام بد حال سے بد حال ہوئی لیکن ایک بہت بڑا فائدہ بھی ہوا وہ یہ کہ اب عوام اب یہ حق رکھتی ہے کہ وہ جسے چاہے منتخب کریں ،موجودہ جمہوری حکومت نے پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرکے اس بات کی بنیاد رکھ دی ہے کہ اب عوام کے منتخب نمائیدوں کو کام کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔اب گیم عوام کے ہاتھوں میں ہے کہ وہ اپنے لیے کس قدر بہتر حکمران منتخب کرتی ہے۔لیکن اگر اس بار پھر عوام نے بغیر سوچے سمجھے غلط لوگوں کو و وٹ دے دیا تو پھر شائد یہ وقت دوبارہ نہ آئے ۔ ہم پہلے غلط لوگوں کو ووٹ دے کر خود منتخب کرتے ہیں اور پھر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ظالم حکمران کہاں سے آتے ہیں۔ظالم حکمران کہاں سے آتے ہیں ؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت کسی بھی مسلمان کو نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی بتا دیا کہ جیسی قوم ہوگی ویسے ہی حکمران مسلط ہوں گے۔کیاہم صرف نام کے مسلمان ہیں ؟آج ہمارے بہت سے اعمال ایسے ہیں جو ہمیں مسلمان ثابت کرتے ہیں لیکن ہم ان کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے اعمال بھی کرتے ہیں جن کے کرنے سے ہمارے وہ اعمال ضائع ہوجاتے ہیں جو ہمیں وباؤں یعنی بیماریوں،قحط و مصیبت ،ظالم حکمرانوں،غیر مسلم دشمنوں اور آپسی لڑائی جھگڑے اور قتل و غار ت سے محفوظ رکھتے ہیں۔ایسے حالات میں بیٹھ کرحکمرانوں کو بُرابھلا کہنے یا یہ سوچنے سے کہ ظالم حکمران کہاں سے آتے مصیبتوں سے جان نہیں چھوٹتی ۔کیونکہ ظالم حکمران نہ تو آسمان سے گرتے ہیں ،نہ زمین کھود کر نکالے جاتے ہیں ،نہ سمندروں کی گہرایوں سے دریافت ہوتے ہیں،نہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اُگتے ہیں اور نہ ہی کوئی خلائی مخلوق ہیں ۔یہ ظالم حکمران بھی ہمارے طرح ماؤں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور یہ پیدائشی ظالم بھی نہیں ہوتے ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ظالم کس طرح بن جاتے ہیں؟کیاکوئی سکول ،کالج یا یونیورسٹی ہے جو ظلم و جبر کی تربیت دیتی ہے ان کو ؟اگر انسان اپنی ناقص عقل سے ان سوالات کے جوابات مانگیں گے تو ان سوالات کے جوابات ملنے کی بجائے بہت سے اور سوالات جنم لیں گے جو ہمیں گمراہی کی طرف بھی مائل کرسکتے ہیں ۔اس لیے بہتر یہی ہے مسلمان اپنے دین اسلام سے ان سوالات کے جوابات مانگ لیں ۔اوراگر غیر مسلم بھی اسلام سے کوئی فائدہ اُٹھانا چاہتا ہے تواسے بھی کھلی چھٹی ہے ۔وہ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری اور محبوب نبی حضرت محمدؐ کودوجہانوں کے لیے رحمت بنا کربھیجا ہے اور اسلام نہ صرف انسانوں بلکہ کائنات میں موجود تمام مخلوقات کے حقوق کا نگہبان ہے۔لیکن اگر ہم اپنے آپ کو مسلمان بھی کہیں اور وہ تمام اعمال بھی باقائدگی کے ساتھ دہراتے رہیں جن سے میرے اور آپ کے پیارے نبی حضرت محمد ؐ نے پناہ مانگی تو پھر ہم صرف نام کے مسلمان رہ جاتے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے رویت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا میں پناہ مانگتا ہوں پانچ چیزوں سے کہ تم ان کو پاؤ۔جب کسی قوم میں فحاشی ( یعنی شراب نوشی بدکاری ناچ گانا وغیرہ)اعلانیہ ہوں گے تو وہ طاعون یعنی وباؤں اور ایسی بیماریوں میں مبتلا ہوگی جوان سے پہلے لوگوں میں کبھی نہ ہوئی تھیں۔جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی(یعنی تجارتی بدعنوانیاں ،چوربازای وغیرہ)کرے گی توان میں قحط مصیبت اور ظلم ہوگا۔جوکوئی قوم زکواۃنہیں دیتی تو اللہ تعالیٰ ان پر بارانِ رحمت روک دیتا ہے،اگر جانور نہ ہوں تو کبھی ان پربارش نہ ہوتی۔جب کوئی قوم اللہ اور اس کے رسولؐ سے عہد شکنی کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ غیر قوم سے ان کے دشمن کو ان پرمسلط کردیتا ہے جوان کے مال (یعنی دولت ،تجارت اور زرعت وغیرہ )کوزبردستی چھین لیتا ہے۔جب مسلمان حاکم اللہ کی کتاب(یعنی قرآن کریم)پر عمل نہیں کرتے اور جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کواختیار نہیں کرتے(شریعت نافذ نہیں کرتے )تواللہ تعالیٰ ان میں لڑائی کرادیتا ہے (یہاں تک کہ خانہ جنگی ہوجائے)قارئین محترم اگر ہم غور کریں تو یہ تمام برائیاں آج ہمارے معاشرے موجود ہیں اور وہ تمام مشکلات بھی موجود ہیں جن کے بارے میں اللہ اور اُس کے رسول ؐنے پہلے ہی خبر دے دی تھی۔اگر ہم ان مشکلات (یعنی عذاب الٰہی )سے بچنا چاہتے ہیں توپھر نئے سال کوغیر اسلامی طریقوں کی بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہوکرخوش آمدید کہنا چاہے ۔کم از کم مسلمانوں کو ہیپی نیوائیرنائٹ زنا،ناچ گانا،شراب نوشی ،ہوائی فائرنگ اور نشے کی حالت میں اپنے ہی قومی اثاثوں کی توڑ پھوڑکرکے نہیں منانی چاہے ۔اور یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اللہ اور اُس کے رسولؐسے عہد شکنی نہیں کریں گے۔
سال نیا ہے ہمارے عہد پرانے ہیں
جو ہمیں روز قیامت تک نبھانے ہیں۔
،لین دین میں ایمان داری سے کام لیں گے ،ناپ تول پورا کریں گے ،زکواۃ دیں گے،شراب نوشی،زنا کاری اور ناچ گانے سے دور رہیں گے ،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق و طاقت اور حقیقی مسلمان قیادت عطا ہو(آمین)

یہ بھی پڑھیں  الطاف کا پاک فوج پر عدم اعتماد غدادری کے مترادف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker