شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / نہتا مزدور تعمیر مکمل کیسے کرے ؟

نہتا مزدور تعمیر مکمل کیسے کرے ؟

آج ایک ایسے مزدور کے بارے میں بات کروں گا کہ جو قلعے تعمیر نہیں کرتا ،پلازے نہیں بناتا ،موٹر ویز کے جال نہیں پھیلاتا ،بنگلے اور کوٹھیاں زمین پہ استوار نہیں کرتا ،ریل کی پٹڑیاں اور پل اسکے ہاتھ سے نہیں بنتے بلکہ وہ ایک ایسی چیز تعمیر کرتا ہے کہ جس سے اس کے وطن کی شناخت ہوتی ہے ،اسکے دین کی پہچان زمانے کے سامنے آتی ہے ،اسکی تہذیب اور تمدن نمایاں ہوتا ہے اسکی زبان سے دنیا آشنائی پاتی ہے اس مزدور کے ذمے جس شے کی تعمیر ہے اسے قوم کہتے ہیں وہ قوم تعمیر کرتا ہے اور اسے عرف عام میں استاد کہتے ہیں وہ استاد جو آدمی کو انسان کے سانچے میں ڈھالتا ہے اور انسان بنانے کے بعد اسکی انسانیت کے زیور سے تزئین و آرائش کرتا ہے ۔ماضی میں اس مزدور کا مرتبہ بڑا بلند ہوتا تھا آدمی کو انسان کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے وہ مکمل اختیارات سے لیس ہوتا تھا اسے یہ حق حاصل تھا کہ اسکی تراش خراش وہ اپنی مرضی کے مطابق کر سکے پھر میرے وطن میں ایک ایسا دور آیا جس میں حکومت وقت نے یہ فیصلہ کیا استاد کے ہاتھ سے تمام اختیارات چھین کر اسے نہتا کر دیا جائے ۔اب ذرا ایک نظر دیکھیں کہ استاد کن مراتب کا مستحق ہے اور ہم نے اسے کیا بنا دیا ہے ؟جس شخصیت کے بارے میں کل رحمت نبی مکرم ﷺ نے فرمان عالیشان ہے کہ میں علم کا شہر ہو اور علی ؑ اسکا دروازہ ۔ جنہیں باب العل ہونے کا شرف بذبان رسالت ﷺ حاصل ہے وہ علی ؑ استاد کے مرتبے کے مطابق کیا فرماتے ہیں حضرت علی ؑ کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا وہ میرا استاد ہے گویا کہ میں اس کا غلام ہوا مقصد یہ کہ استاد اور شاگرد کا رشتہ آقا اور غلام کے مصداق ہے کیا آقا کو حق حاصل نہیں کہ وہ غلام کی بہتری کے لئے اسے ڈانٹ سکے یا اسکی سرزنش کر سکے کیونکہ استاد کے کاندھوں پر ایک آدمی سے انسان تعمیر کرنے کی بھاری ذمہ داری ہے اس معمار کو اتنا تو حق ہونا چاہئے کہ دوران تعمیر اگر لیول سے ادھر ادھر نظر آئے تو اسے لیول میں لانے کیلئے کچھ کر سکے مگر ہمارے ہاں اسکے بالکل بر عکس ہو رہا ہیابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ گورنمنٹ فرقان شہید سکول میں میرے ایک دوست استاد کے فرائض ادا کر رہے ہیں وہ بڑے دکھے دل سے بات کر رہے تھے کہ میری کلاس میں ایک بچہ پڑھتا تھا ایک دن شور مچانے سے منع کرنے کے لئے میں نے اسکے ساتھ بیٹھے طالبعلم کو کہا کہ اسکی کمر پر ہلکی سی چپت رسید کر کے میری جانب متوجہ کراؤ لہٰذہ ایسا ہی ہوا اگلے ہی دن وہ طالبعلم بازو گلے میں لٹکائے ساتھ میں اپنے والد ،والدہ،اور دیگر تین چار لوگوں کو لے کر سکول آیا آتے ہی پرنسپل صاحب سے شکائت کر دی کہ ٹیچر نے بہیمانہ تشدد کرتے ہوئے بچے کا بازو توڑ دیا ہے مجھے پرنسپل صاحب نے اپنے آفس میں بلا بھیجا بچے کا پتیوں میں جکڑا بازو دیکھ کر ایک مرتبہ تو میں بھی ہڑبڑا گیا کہ ایسا تو میں نے کیا کچھ بھی نہیں پھر بچے کا بازو کس طرح ٹوٹ گیا سو میں نے ناکردہ گناہ کی تلافی کے لئے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس بچے اور اس کے والدین سے معافی مانگی مگر یہ دیر تک سوچتا رہا کہ ایسا ہوا کیونکر ؟میں نے پرنسپل صاحب سے کہا کہ سر یہ بچہ جھوٹ بول رہا تھا جان تو وہ بھی گئے تھے کیونکہ وہ ایک جہاندیدہ شخصیت کے حامل ہیں پھر بھی انہوں نے کہا کہ بات بڑھانے سے بہتر ہوا کہ آپ نے معافی مانگ لی دوسرے دن وہ بچہ بھلا چنگا سکول میں آیا پٹیوں کا کہیں نام ونشان بھی نہیں تھامیں نے پرنسپل سے کہا کہ سر جی دیکھ لیں یہ وہی بچہ ہے جس کا کل مار مار کے میں نے بازو توڑ دیا تھا !پرنسپل صاحب فرمانے لگے کہ ہماری مجبوریاں ہیں آج کوئی بات بھی نہ ہو تو اس بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے جس سے ناصرف استاد کی بلکہ ادارے کی بھی تذلیل ہوتی ہے میڈیا میں شور مچ جاتا ہے ۔قارئین کرام وہ استاد جس کو آقا کی حیثیت حاصل تھی اسے ہم نے غلام بنا کر نہیں رکھ دیا ؟آخر ہم کس ڈگر پر چل نکلے ہیں ؟یہ ایجنڈہ ہے کس کا جس کی ہم اندھا دھند تقلید کرتے چلے جارہے ہیں؟ہمارے اسلاف تو وہ تھے کہ کسی اعزاز کے ملنے پر بھی اپنے اساتذہ کو فراموش نہیں کرتے تھے حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کی مثال آپکے سامنے ہے کہ جب انگریز گورنر نے آپکو بلایا کہ تاج برطانیہ آپکو سر کے خطاب سے نوازنے کا ارادہ رکھتی ہے کیا آپ قبول فرمائیں گے تو آپ نے اسکو بھی مشروط کر دیا کہ ہاں قبول تو کر لوں گا اگر پہلے مولوی میر حسن ؒ (جو علامہ کے استاد تھے )کو شمس العلما ء کے اعزاز سے سرافراز کیا جائے انگریز گورنر نے پوچھا کہ وہ کتنی کتب کے مؤلف ہیں کیا انکی لکھی ہوئی کوئی تصنیف پیش کر سکتے ہیں آپ تو علامہ نے بڑا لازوال جواب دیا کہ ہاں انکی ایک تصنیف ایسی ہے جسے عالمگیر شہرت نصیب ہوئی ہے اور وہ میں خود ہوں انکی جیتی جاگتی تصنیف جنہیں انہوں نے اس بہترین انداز میں لکھا ہے کہ آج تاج برطانیہ اس کو سر کا خطاب دینے جا رہی ہے ۔ کیسے عظیم شاگرد تھے جو اپنے استاد کی اسقدر عزت کرتے تھے کہ سبحان اللہ ۔ اور آج کیا ہو گیا ہے ہمیں کس قدر بے وقار کر دیا ہے ہم نے استاد کو کبھی وہ اپنے ہی شاگرد کے سامنے ہاتھ جوڑے معافی مانگنے پر مجبور ہے تو کہیں اس پر بلا وجہ ایف آئی آر چاک ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہوتی ہے آخر یہ سب کچھ کس کی خوشنودی کے حصول کے لئے کیا جا رہا ہے ؟ہم اپنی زبان سے منہ موڑ کر انگریزی کا طوق زیب گلو کر کے کس قدر مسرت محسوس کر رہے ہیں ،نصاب تعلیم ہم آج تک اپنا مرتب نہیں کر پائے ،آکسفورڈ سلیبس ہمارے لئے باعث فخر ہے ،ہمارا نظام تعلیم آج تک بیرونی ایجنڈے کا تابع فرمان ہے ،یہ سوچنے تک کی کبھی زحمت گوارا نہیں کی کہ جن کے دیئے ہوئے پیسے سے ہم اپنی نسلوں کو تعلیم دے رہے ہیں کیا وہ ہمیں اپنی مرضی کا نصاب پڑھانے کی اجازت دیں گے ؟قطعی طور پر وہ آپ کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔قبل ازیں نصاب میں سے انہوں نے آپ کی اسلامک تاریخ ،آپ کے ہیروز کی کہانیاں ،حتیٰ کہ سب کچھ تو نصاب میں سے نکال باہر کیا ہے اور اب استاد تک کو بے دست و پا کر کے تعلیم کی اہمیت ہی ختم کروا رہا ہے وہ بیرونی ایجنڈہ ۔ اس پہ طرہ یہ کہ ہم استاد سے اچھا رزلٹ بھی مانگتے ہیں اور اسے اتنی اجازت نہیں کہ اگر دوران سبق کوئی طالبعلم کمرۂ جماعت میں سویا ہوا بھی ہو تو استاد اسے جگا نہیں سکتا واہ بھئی واہ پھر کیسے اچھا رزلٹ دے پائے گا بیچارہ معلم ۔نہتا جرنیل کیسے سکھا پائے گا کسی کو فن سپاہ گری بقول شاعر
امیر شہر نے کاغذ کی کشتیاں دے کر
سمندروں کے سفر پہ کیا روانہ مجھے
خدارا قوم کی تعمیر کرنے والے معمار کو اتنا بے توقیر مت کرو کہ مستقبل میں کوئی استاد بننے کی بجائے کسی اور کام کو ترجیح دینے لگے یہ انبیاء کا پیشہ ہے اسے تکریم بھی اسقدر دو جو اسکی شایان شان ہو ۔ اور میری میڈیا کے دوستوں سے بھی دست بستہ التجا ہے کہ استاد کے بارے میں کسی بات کو بغیر سوچے سمجھے رائی کا پہاڑ نہ بنا دیا کریں ۔کبھی خبر دے دیتے ہو کہ فلاں شہر میں ماسٹر نے بچوں کے ہاتھ میں جھاڑو تھما دیا اور پھر آفیسر صاحب جا کر ماسٹر کے ہاتھ میں جھاڑو تھما کر کہتے ہیں کہ خود کرو صفائی کیا یہ بچوں کے سامنے استاد کی تذلیل نہیں ؟استاد کی تذلیل باعث فخر ہے کیا ؟معلم دوجہاں ﷺ کا فرمان کیا آپ کی نظروں میں سے نہیں گزرا کہ صفائی نصف ایمان ہے اور اگر استاد نے بچوں کو کہہ ہی دیا تھا صفائی کا تو اس میں کوئی قیامت بھی نہیں آگئی تھی ۔میں آپ کو بہت سے ایسے سکول دکھا سکتا ہوں جہاں خاکروب ہی نہیں تو پھر اس سکول میں صفائی کیا استاد کی ذمہ داری ہو گی ؟جب تک وہاں خاکروب بھرتی نہیں ہو جاتا تب تک اگر بچے اپنی مادر علمی کی صفائی کر بھی لیں گے تو اس میں حرج ہی کیا ہے ۔میں نے بہت سے سکول ایسے بھی دیکھے ہیں جن میں اساتذہ کو گیٹ کے ساتھ کرسی میز لگا کر بٹھایا ہوا ہے کہ آنے جانے والوں کے نام اور سکول آنے کا سبب لکھتے رہیں تو جناب وہ ایک استاد ہے کسی فیکٹری کا گیٹ کلرک نہیں اس بات کو تو کبھی میڈیا نے بطور بریکنگ نیوز نہیں چلایا لہٰذہ عرض یہی ہے کہ استاد کو عزت دو اگر زمانے میں اپنی عزت چاہتے ہو تو ۔

یہ بھی پڑھیں  حکومت مشرف کو سعودی عرب بھیجنے یا نہ بھیجنے کا فیصلہ کل فیصلہ کرے گی