شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / دنیا میں ہر گھنٹے نو ہزار سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں

دنیا میں ہر گھنٹے نو ہزار سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں

اسلام اباد(بیورو رپورٹ)پاکستان سمیت دنیا بھر میں بدھ کو یوم آبادی منایا گیا۔ عالمی یوم آبادی منانے کا آغاز گیارہ جولائی انیس سو ستاسی کو ہوا۔ یہ دن منانے کا مقصد دنیا بھر کی آبادی کو بہتر بنانے اور آبادی کنٹرو ل کرنے کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق اس وقت عالمی آبادی سات ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق دنیا میں ایک کروڑ بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی کا پچاس فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔دنیا بھر میں ہر سال 11 جولائی ‘آبادی کے عالمی دن’ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے اخبار ‘بالٹی مور سن’ نے اپنے ایک مضمون میں دنیا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ دنیا میں ہر گھنٹے نو ہزار سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں اور اس تناسب سے دنیا کی آبادی میں سالانہ 8 کروڑ افراد کا اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق اگر دنیا کی آبادی اسی تناسب سے بڑھتی رہی تو آئندہ 50 برسوں کے دوران اس کرہ ارض پر مزید 2 سے 4 ارب لوگوں کا اضافہ ہوجائے گا۔’بالٹی مور سن’ لکھتا ہے کہ یہ اضافی آبادی قدرتی وسائل پر اضافی دباؤ کا سبب بنے گی کیوں کہ ان افراد کو زندہ رہنے کیلیے غذا، پانی، صاف ہوا اور جگہ درکار ہوگی جب کہ یہ بنیادی ضروریات پہلے ہی سے دنیا کی موجودہ آبادی کیلیے ناکافی پڑ رہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ اس ممکنہ صورتِ حال کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ ‘فیملی پلاننگ’ کی روایت کو پروان چڑھایا جائے اور دنیا بھر کی خواتین کو ماں بننے یا نہ بننے کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے۔بچے حساب (mathematics) سے بیزار کیوں؟اخبار ‘یو ایس اے ٹوڈے’ میں شائع ہونے والے مضمون میں بچوں کی حساب یعنی میتھمیٹکس سے نفرت کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ امریکی طالبِ علموں میں حساب سے بڑھتی ہوئی بے رغبتی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے بیشتر اسکولوں میں طلبہ میں حساب کی بنیادی شد بد پیدا کیے بغیر ہی انہیں اگلی جماعتوں میں بھیج جاتا ہے۔ یوں ان طلبا کی بنیادیں کمزور رہ جاتی ہیں اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان کے لیے حساب سوہانِ روح بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کارکنان تحریک پاکستان صوبہ جموں کشمیر کی شاندار ریلی