تازہ ترینعلاقائی

تھانہ سرائے مغل کی بارہ یونین کونسل میں زبردست مقابلہ

بھائی پھیرو(نامہ نگار)سرائے مغل ۔ تھانہ سرائے مغل میں کل بارہ یونین کونسل ہیں جن میں یونین کونسل نمبر 82شیخم ،84ہنجرائے کلاں ، 85باٹھ کلاں ،89پڈھانہ ،90تارہ گڑھ ،91کوٹ اکبر آبا د.،93بلوکی اور92بہڑوال شامل ہیں ۔اُمیدواروں کے لحاظ سے پہلے نمبر پر مسلم لیگ ن کے چیرمین /وائس چیرمین تمام بارہ کی بارہ یونین کونسلوں میں اُمیدوار موجود ہیں دوسرے نمبر پر تحریک انصاف کے گیارہ یونین کونسلوں میں جبکہ تیسرے نمبر پر جماعت اسلامی کے تین یونین کونسلوں میں اُمیدور الیکشن لڑ رہے ہیں ۔پیپلز پارٹی کا ایک بھی اُمیدوار نہیں ۔آزاد اُمیدوواروں کی بھی بھاری تعداد موجود ہے ۔سب سے دلچسپ مقابلے دو یونین کونسلوں میں ہو رہے ہیں جہاں معروف سیاستداروں کے رشتے دار انتخاب لڑ رہے ہیں ۔اس علاقے میں معروف سیاسی خاندان المعروف نکئی خاندان سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے نواسے سابق وزیر اور کئی بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہونے والے سردار طالب حسن نکئی کے بیٹے سابق وزیر سردار آصف نکئی کے بھانجے سردار احمد آیاذ نکئی یونین کونسل 91کوٹ اکبر آبا دمیں پہلی بار تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے ۔ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے سردار محمد طیب ڈوگر ایڈووکیٹ ہیں جن کے والد سردار محمد عارف ڈوگر اور بھائی سردار رحمت اللہ ڈوگر دونوں صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑ چکے ہیں دونوں کئی بار ممبر ضلع کونسل بھی رہے ہیں ۔دوسرا دلچسپ مقابلہ یوسی 92سرائے نوشہرہ میں نکئی خاندان کے سابق وزیر اعلیٰ کے بھتیجے سابق مرکزی وزیر وں سردار طالب حسن نکئی، سردار آصف نکئی کے کزن سردار اشتیاق حسین نکئی کا ہے جو کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر قسمت آ زمائی کریں گے ۔جبکہ انکے مد مقابل سابق مرکزی وزیر چوہدری عبد الحمید کے خاندان کے رانا عبد السمیع خاں مسلم لیگ ن کی طرف سے اُمیدوار ہیں ۔ دونوں سیٹوں پر ضلع بھر کے سیاسی حلقوں کی نظریں جمی ہوئیں ہیں ۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ نکئی خاندان اس دفعہ سردار احمد ایازنکئی کو ضلع کونسل کے چیرمین کا الیکشن بھی لڑائے گا ۔ سرائے مغل میں چیرمین کے اُمیدواروں کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر آ نے والی پارٹی جماعت اسلامی کے اس تھانہ میں تین حلقوں میں الیکشن لڑ رہی ہے اور جماعت اسلامی کے اس حلقہ کے قومی اسمبلی کے اُمیدوار اور کہنہ مشق سیاستدان حاجی محمد رمضان دن رات ان اُمیدواروں کی کمانڈ کر رہے ہیں ۔ سیاسی حلقے تین حلقوں کے نتائج پر نظریں رکھے ہوئے ہیں کہ ان حلقوں کے کانٹے دار نتائج کیا ہونگے ۔ اس کا فیصلہ الیکشن کے دن 31اکتوبر کو ہی سامنے آ ئے گا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!