پاکستانتازہ ترین

سینیٹ کےبعد قومی اسمبلی میں بھی آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2015منظور

اسلام آباد(بیوروچیف)سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی آرمی ایکٹ ترمیمی بل دوہزارپندرہ منظورکرلیا۔ترمیم کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے زیر حراست شخص گرفتار تصور ہوگا اور تمام متعلقہ افسروں کو قانونی تحفظ حاصل ہو گا۔قومی اسمبلی میں وزیردفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ بل کامقصد ملزموں کی گرفتاری ، نظربندی اور قانونی کارروائی کو تحفظ اور استثنٰی دینا ہے۔ بل اسمبلی میں پارلیمانی سیکریٹری چوہدری جعفر اقبال نے پیش کیا اور رکن قومی اسمبلی زاہد حامد نے ترمیمی شق پڑھ کرسنائی ، بل کی شق وار دفعات کے مطابق فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے نیک نیتی سے کئےگئےکام کیخلاف مقدمہ یا قانونی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔ مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پہلے سے زیر حراست شخص گرفتار تصور ہوگا،گواہوں،عدالتی ارکان کیسوں کے دفاع کرنے والے افسروں اوردوسرے متعلقہ افراد کوتحفظ فراہم کیا جائے گا۔پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف نےبل کی مخلافت کی ہے۔ نوید قمرنے کہا کہ ایسے قوانین مارشل لاء دور میں بنتے تھے جنھیں کالاقانون کہاجاتا تھا، انھوں نے کہا کہ ان قوانین سے بنیادی قوانین متاثر ہوتے ہیں۔ انکا کہناتھا کہ دہشتگردوں کو گرفتارکیاجائے مگرعام آدمی کو نہیں۔

یہ بھی پڑھیں  اِس سادگی پہ کون نہ مَر جائے اے خدا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker