تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر: 3200 سو ایکڑسرکاری اراضی کوپنجاب حکومت نے نیلام کرنے کی تیاریاں مکمل کر لیں

بھائی پھیرو(نامہ نگار)سرائے مغل اور گردنواح میں اربوں روپے کی 3200 سو ایکڑسرکاری اراضی کو سالہا سال سے مفت کاشت کرنے والے با اثر قبضہ گروپوں سے واگزار کر کر پنجاب حکومت نے نیلام کرنے کی تیاریاں مکمل کر لیں۔کسان بورڈکی طرف سے نیلامی کا عمل شفاف بنانے اور فوج کی نگرانی میں کرانے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق سرائے مغل ہیڈ بلوکی پر پانڈ ایریا اور محکمہ شکاریات کی 3200 ایکڑ اراضی پر با اثر افراد نے سالہا سال سے ناجائزقبضہ کر رکھا ہے اس طرح جگہ جگہ محکمہ انہار کی نہروں کے ساتھ ساتھ بھی ہزاروں ایکڑ اراضی پر لوگوں کا قبضہ ہے۔بلوکی ،جمبر اور دیگر کئی جگہوں پر بی ایس لنک کینال کے کنارے پر لوگوں نے قبضے جما کر کچی آبادیاں بنا رکھی ہیں۔محکمہ کے ریسٹ ہاؤسوں سے ملحقہ سینکڑوں ایکڑ اراضی بھی با اثر کاشتکاروں کے قبضہ میں ہے۔با وثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حال ہی میں ملک میں احتساب کا عمل شروع ہونے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے کی خبریں شائع ہونے پر حکومت پنجاب نے اس گھپلے کا نوٹس لیا جس پر محکمہ شکاریات نے فوری طور پر یہ اراضی دوبارہ محکمہ انہار کو واپس کر دی ۔پتہ چلا ہے کہ محکمہ انہار نے اس اراضی کو قبضہ گروپوں سے واگزار کراکر عام نیلام کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اراضی کو بارہ بارہ ایکڑ کے پلاٹوں میں تقسیم کرکے سات دسمبر سے بارہ دسمبر تک بلوکی ریسٹ ہاؤس میں نیلام کیا جائے گا اور اس کیلیے محکمہ انہار اور مقامی انتظامیہ پر مشتمل پانچ رکنی کمیٹی بنا دی گئی ہے ۔کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات حاجی محمد رمضان نے پوچھنے پر صحافیوں کو ٹیلی فون پر بتایا کہ اگرسرائے مغل اور گردونواح کی ہزاروں ایکڑ سرکاری اراضی کو قبضہ گروپوں سے واگزار کر کے اسے مارکیٹ ریٹ پر شفاف طریقے سے نیلام کر دیا جائے تو حکومت کو کروڑوں کا ریوینیو حاصل ہو سکتا ہے۔انہوں نے مطا لبہ کیا کہ نیلامی کو شفاف بنانے کیلیے رینجر اور فوج کی نگرانی میں نیلامی کروائی جائے کیونکہ محکمہ انہار کے کرپٹ افسران سے شفاف نیلامی کی توقع نہیں ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button