تازہ ترینعلاقائی

سگھر یونین کونسل میں لوٹ مار کی انتہا،غریب عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹا جانے لگا

talagangسگھر( تلہ گنگ) سگھر یونین کونسل میں لوٹ مار کی انتہا،غریب عوام کودونوں ہاتھوں سے لوٹا جانے لگا۔نکاح رجسٹرار کی سرکاری فیس300 جبکہ یونین کونسل 1300 وصول کر رہی ہے،نقل پیدائش 100 جبکہ یونین کونسل 200 وصول کر رہی ہے،پیدائش اندراج 50 جبکہ وصولی 300 ہو رہی ہے۔طلاق فیس کے نام پر بھی رقم بٹوری جانے لگی۔جو کہ لاگو ہی نہیں ہے۔یونین کونسل سگھر میں ناظمی دور سے شادی ٹیکس مبلغ 300 روپے فی پرت کے حساب سینکاح رجسٹرار عوام سے وصول کر کے یونین کونسل میں جمع کراتے تھے۔اور رسید بھی دی جاتی تھی۔لیکن موجودہ چند ماہ سیسیکٹری یونین کونسل سید شیر عباس شاہ نینکاح رجسٹرار موضع ڈھیرمونڈ اور سگھر کو زبانی احکام جاری کیے ہیں کہ فی شادی مبلغ 1300 وصول کیے جائیں،اور یونین کونسل میں 300 روپے شادی ٹیکس جمع کیا جائے گا۔باقی رقم آپس میں تقسیم کر لیں گے۔دوسری طرف نقل پیدائش کے چارجز 100 سے بڑھا کے 200 کر دئے ہیں۔جو کہ غریب عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔جبکہ سیکرٹری یونین کونسل کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔اور کسی رجسٹرار کے پاس کوئی تحریری سرکاری حکم نامہ بھی موجود نہیں،اور یہ عمل دیدہ دلیری سے جاری ہے۔عمران اور احمد نامی آدمیوں نے تحریری بیان میں نمائیندہ تلہ گنگ کو بتایا کہ بچوں کے اندراج اور درستگی اندراج کیالگ الگ 300 روپے وصول کیے گئے۔احمد دین ولد محمد صدیق مرحوم قوم میال سکنہ سگھر نیبتایا کہ میں اپنی بچی مہرین زہرہ کا نام اندراج کرا کے نقل پیدائش وصول کی اور مجھ سے 200 روپے وصول کیے گئے۔نقل میں بچی اور والد کے نام تلفظ غلط تھے۔تو درستگی کے مزید 500 طلب کیے گئے۔جو کہ غریب آدمی کے ساتھ ظلم ہے،
سفیر اقبال سکنہ سگھر نے نمائندہ تلہ گنگ ٹائمز کو بتایا کہ مجھے بچی کے سکول داخلے کے لیے نقل پیدائش کی ضرورت ہے۔مگر تا حال مجھے نقل نہیں دی جا رہی۔اور مجھ سے 500 روپے کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔صوبیدارنواز نے تحریری بیان میں کہا کہ مجھ سے میرے بچے کے نکاح کے 1300 وصول کئے گئے جو کہ سرا سر زیادتی ہے۔
محمد حسن نے بتایا کہ مجھ سے طلاق کی فیس 1500وصول کی گئے۔جبکہ طلاق کی فیس سرے سے ہے ہی نہیں۔عوامی حلقوں نے کہا ہے کہ یہ سارا اضافہ سابقہ سیکرٹری ملک طاہر احمد خان کے جانے کے بعد جنوری2013 سے خود ساختہ اور غیر قانونی طور پر موجودہ سیکرٹری نے دھونس دھاندلی کے طور پر کیا ہے۔یونین کونسل سگھر اور ڈھیر مونڈ کے عوام کی افسران بالا سے اپیل ہے کہ اس غیر قانونی کام کو بند کرایا جائے اور کرپٹ اہلکاروں کا فوری طور پر یہاں سے تبادلہ کیا جائے۔اور ایسے ناسوروں کے خلاف حسب ضابطہ فوری کارروائی کر کے ایسی کالی بھیڑوں کومحکمہ سے نکالا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعلیٰ بلوچستان کا جاںبحق افراد کے لواحقین کیلئے دس، دس لاکھ اور زخمیوں کیلئے پانچ پانچ لاکھ کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker