تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:قانون کے محافظوں نے قانون کو کھلواڑ بنا دیا

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار)ْ قانون کے محافظوں نے قانون کو کھلواڑ بنا دیا، تھانہ پولیس تھانہ صدرواہ کینٹ کا عجب کارنامہ پانچ سال قبل دنیا سے رخصت ہونے والے شخص پر بجلی چوری کے مقدمہ کا اندارج کردیا،مرحوم کی بیوہ دادرسی کے لئے عدالت پہنچ گئی،تفتیشی آفیسرا فضل ایس آئی بلاوجہ تنگ اور پریشان کر رہا ہے ، غریب بیوہ ہوں بھاری رشوت نہیں دے سکتی جان خلاصی کرائی جائے ،عدالت نے وکیل طاہر محمود راجہ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ڈی ایس پی ٹیکسلا سرکل کو ایس ایچ او کے پندرہ دسمبر کو عدالت طلب کرلیا،تفصیلات کے مطابق تھانہ واہ کینٹ صدر پولیس نے لوسر شرفو کے رہائشی نور الہیٰ کے خلاف ایف آئی آر نمبر 329 بجرم 39A الیکٹریسٹی مورخہ 28-8-2015 درج کی گئی، جبکہ مذکورہ شخص پانچ سال قبل 14-8-2010 کوفوت ہوچکا تھا،متاثرہ بیوہ خاتون تاج بی بی کا میڈیا سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ تفتیشی آفیسر ایس آئی افضل ہمیں ہر روز تنگ کرتا ہے جبکہ بھاری رقم رشوت کے طور پر طلب کر رہا ہے جبکہ ہم غریب لوگ ہیں اتنی رقم نہیں دے سکتے ، پولیس مختلف طریقوں سے آئے روز ہمیں تنگ کرتی ہے ، متاثرہ بیوہ خاتون نے اپنے وکیل طاہر محمود راجہ کے توسط سے مذکورہ ایف آئی آر کو ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا کی عدالت میں چیلنج کیا ہے ، جس پر عدالت نے مقامی پولیس سے جواب طلبی کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں ، ایف آئی آر میں درج ہے کہ پولیس نے موقع پرملزم کو رنگے ہاتھوں بجلی چوری کرتے پکڑا مگر ملزم پولیس کو جل دیکر موقع سے فرار ہوگیا، جبکہ ملزم جس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اس دنیا میں ہی نہیں، متاثرہ بیوہ خاتون نے میڈیا کو بتایا کہ ایس آئی افضل نے حد کردی ہے ہمیں بار بار تنگ کیا جاتا ہے ، ایسے راشی آفیسر اور غیر ذمہ دار پولیس آفیسر کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی جائے ، متاثرہ بیوہ خاتون نے وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان، وزیر اعلیٰ پنجاب ، پولیس کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے میری داد رسی کی جائے اور پولیس کو ان کالی بھیڑوں سے پاک کیا جائے جو محکمہ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، ایسے راشی افسر کے ہوتے ہوئے کسی مظلوم کو انصاف نہیں مل سکتا ،ادہر عوامی حلقوں کی جانب سے بھی ایس آئی افضل کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ،لوگوں کا کہنا تھا کہ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص فوت ہوچکا وہ تفتیشی آفیسر کے سامنے پیش ہو ، ایسے زہنی مریض پولیس افسر کو فوری طور پر برطرف کیا جائے ، جو قانون سے کھلواڈ کر رہا ہے قانون کو اس نے گھر کی لونڈی بنایا ہوا ہے،ایسے مخبوطل حواس شخص کی محکمانہ انکوائری کرائی جائے اور اس کے دماغ کا میڈیکل کرایا جائے تاکہ اسکی زہنی کیفیت سے پولیس افسران کو بھی آگاہی حاصل ہو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button