تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا: تین تھانوں میں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے بڑے پیمانے پر تبادلے

ٹیکسلا ( نا مہ نگار)سی پی او راولپنڈی کی ہدائت پر ٹیکسلا سرکل کے تین تھانوں میں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے بڑے پیمانے پر تبادلے ، تینوں تھانوں میں نئی نفری تعینات ، دوسرے مرحلے میں تفتیشی افسران کے تبادلوں ی شنید،تفصیلات کے مطابق ٹیکسلا سرکل کے تین تھانوں ، تھانہ ٹیکسلا، تھانہ صدر واہ کینٹ اور تھانہ سٹی واہ کینٹ میں سی پی او راولپنڈی اسرار عباسی کے حکم پر سینکڑوں کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو راولپنڈی اور دیگر تھانوں میں ٹرانسفر کردیا گیا،بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ تھانوں سے ان کاسنٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو ٹرانسفر کیا گیا جو عرصہدراز سے یہاں تعینات تھے،ٹیکسلا سرکل کے تین تھانوں اور ملحقہ سات چوکیوں میں تعینات 113 کے لگ بھگ پولیس کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کے تبادلے کئے گئے جبکہ فوری طور پر انھیں نئی تعیناتی پر رپورٹ کرنے کی سختی سے ہدائت کی گئی، جس کے بعد سینکڑوں پولیس کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل نے اپنا بوری بسترا سمیٹ کر نئی جگہ رپورٹ کردی جبکہ مذکورہ تھانوں میں بھی نئے تعینات ہونے والے اہلکاروں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان تھانوں نے راتوں رات رپورٹ کردی،یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ان تھانوں نے بڑی تعداد میں پولیس ہلکاروں کے تبادلے کئے گئے ، جس کی بنایدی وجہ عرصہ دراز سے تعینات ان اہلکاروں کے جرائم پیشہ افراد سے تعلقات تھے پل پل کی کؓر بذریعہ فون ان افراد کو فراہم کرتے تھے،ملک آباد منشیات فروشی کے اڈے پر چھاپہ کے دوران ان باتوں کا انکشاف ہوا تھا جو جرائم پیشہ افراد سے حاصل کئے گئے موبائلز ڈیٹا سے اس بات کی تصدیق ہوئی تھی،ادہر ان تھانوں کے افسران بھی پریشان ہیں انکا کہنا ہے کہ نئے اہلکار علاقہ سے نا واقف ہیں جس کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے اور بروقت جائے وردات پر پہنچننے میں انھیں شدید مشکلات درپیش ہونگی ،حالیہ تبادلوں کی تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر واہ کینٹ سے 35 تھانہ سٹی واہ کینٹ سے 40 جبکہ تھانہ ٹیکسلا سے 53 کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل کو ٹرانسفر کیا گیا،ادہر سی پی او کے ٹرانسفر آرڈر کے ساتھ ہی سپاہیوں کی دوڑٰں لگ گئیں اور ان اہلکاروں نے ٹرانسفر رکوانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیئے کئی اہلکار جو سیاسی افراد کے آلہ کار کے طور پر کام کرتے تھے نے سیاسی اثر رسوخ استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی، مذکورہ تھانوں میں نئی نفری کے آنے سے افسران مخمصے کا شکار دکھائی دیتے ہیں ،انکا کہنا ہے کہ نئے لوگ جگہوں سے ناوقف ہیں ، اور نہ ہی انھیں علاقہ کے لوگوں کے بارے میں کچھ ادراک ہے جس کی وجہ سے کام میں سست روی ہوسکتی ہے،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button