پاکستانتازہ ترین

بلا اشتعال فائرنگ،وزیراعظم آزاد کشمیرکا14جنوری کویوم سیاہ منانے کا اعلان

pm azad kashmirمظفرآباد(بیوروچیف) وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیرچوہدری عبدالمجید نے جنگ بندی لائن پر بھارتی افواج کی بلااشتعال فائرنگ جس کے نتیجہ میں پاک فوج کے دوجوان شہید ہوئے کے واقعہ کے خلاف 14جنوری بروز پیر یوم سیاہ کے طورپر منانے کا اعلان کرتے ہوئے اس دن آزاد کشمیر کے تمام ضلعی وتحصیل ہیڈکوارٹر پر احتجاجی جلوس نکالنے،اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانے میں احتجاجی مراسلہ دینے اور اوورسیز کشمیریوں کو عالمی اداروں کے سامنے احتجاج کرنے کی ہدایت کی ہے جمعہ کے روز سنٹرل پریس کلب مظفرآباد میں جنگ لائن پر بھارتی فوج کے حملے کے خلاف احتجاجی ریلی وجلسہ کا انعقاد کیاگیا جس سے وزیراعظم سمیت سپیکر اسمبلی ،ڈپٹی سپیکر، وزراء کرام ،ملازمین، بلدیاتی اداروں کے نمائندوں اور دیگر نے خطاب کیا۔احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے کہا کہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ملکی دفاع کو مضبوط بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صدر زرداری نے اقوام متحدہ میں اعلان کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل ابھی باقی ہے بھارت کے ساتھ ہرتصفیہ طلب مسئلے پر بات چیت ہوگی اور مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرفہ پاکستان کی حکومت ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں فیصلہ کن پیش رفت کررہی ہے جبکہ دوسری طرف سامراجی قوتوں کے دلال پاکستان میں آمریت کی سازش کررہے ہیں اور پاکستان کا جغرافیہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف بھارت نے جارحیت شروع کررکھی ہے اور دوسری طرف لانگ مارچ کی کال دی جارہی ہے جو کسی ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج کو یقین دلاتے ہیں کہ جنگ بندی لائن کے دونوں اطراف میں کشمیری اس کے ساتھ ہیں ۔ وزیراعظم نے بھارتی قیاد ت سے کہا کہ اگر تم جنوبی ایشیاء میں امن چاہتے ہو تو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرو۔وزیراعظم نے اعلان کیا کہ 14جنوری بروز پیر دن ساڑھے 11 بجے آزاد کشمیر کے دارالحکومت کے علاوہ تمام ضلعی و تحصیل ہیڈکوارٹرز پر بھارتی جارحیت کے خلاف یوم سیاہ منایا جائے گا اس روز جلسے جلوس اور ریلیاں ہوں گی۔جبکہ کشمیر لبریشن سیل کے تحت اسلا م آباد میں بھارتی سفارتخانے میں احتجاجی مراسلہ جمع کرایا جائے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس روز حریت کانفرنس سے بھی کہیں گے کہ وہ بھی بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کریں ۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز کشمیریوں سے کہیں گے وہ بھی 14جنوری کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہوئے بھارتی سفارتخانوں کے سامنے احتجاج کریں اور عالمی اداروں اور اوآئی سی میں بھارتی جارحیت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حق میںیاد داشتیں پیش کریں ۔وزیراعظم نے کہا کہ 14جنوری کو وہ خود مظفرآباد میں احتجاجی جلوس کی قیادت کریں گے وزیراعظم نے میڈیا سے کہا کہ وہ اس دن کی مناسبت سے بھرپور کوریج کریں اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا پرآشکار کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کہتا ہوں کہ آزاد کشمیرکے فنڈز بھی پاک فوج کو دے کر دفاع کو مضبوط کیا جائے ۔کشمیری قوم کے بیٹے،بزرگ سب پاک فوج کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ وہ بھی جنگ بندی لائن پر بھارتی جارحیت کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لئے کمیشن بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک کیا جاسکے۔احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر آزاد جموں وکشمیر قانون سازاسمبلی سردار غلام صادق نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف بروقت احتجاج کی کال دے کر وزیراعظم نے خود کو حقیقی معنوں میں آزادی کے بیس کیمپ کا وزیراعظم ثابت کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم بھارتی فوج کی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج ہے ۔انہو ں نے کہا کہ ایک طرف بھارت کی قابض فوج حملے کررہی ہے جبکہ دوسری طرف لانگ مارچ کا ڈرامہ رچایا جارہا ہے ۔وزیرتعلیم کالجز محمد مطلوب انقلابی نے کہا کہ آزادی کشمیر تمام کشمیریوں کا ایمان ہے۔شہیدذوالفقار علی بھٹو نے ایک ہزار سال تک کشمیریوں کی آزادی کے لئے لڑنے کا اعلان کرکے کشمیر کے ساتھ پاکستان کی کمٹمنٹ کا اعلان کیاتھا۔انہوں نے کہا کہ آزاد ی کشمیریوں کا مقد رہے اور بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوگا۔ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار نے کہا کہ کشمیری آزادی چھین کر لیں گے ۔وزیرتعلیم سکولز میاں عبدالوحیدنے کہا کہ بھارت سیز فائر لائن کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمارے دوفوج شہید کرکے ہمارا جذبہ آزادی سرد کردے گا تویہ اس کی بھول ہے۔انہوں نے 14جنوری کے لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ جنگ بندی لائن پر بھارتی حملہ اور کنیڈین ایجنڈا ایک ہی سازش کی کڑیاں ہیں اور یہ ملک کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی سازش ہے جس کو پاکستانی اور کشمیری ناکام بنا دیں گے۔وزیرجنگلات سردار جاوید ایوب نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر آخری مرحلے میں ہے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارتی جارحیت کے خلاف بھی قراردادیں لائے اور محض سیاست کے لئے اجلاس بلانے کی ریکوزیشن جمع نہ کرائے۔ وزیرمال علی شان سونی نے کہا کہ ہم بھارتی فائرنگ کی مذمت کرتے ہیں۔وزیراکلاس فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور کشمیر ضرور آزاد ہوگا ۔وزیرصنعت اکبر ابراہیم نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بھارتی جارحیت کا نوٹس بھی لینا چاہیے اور اپنا دہرامعیار ختم کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینا چاہیے۔وزیرسماجی بہبود فرزانہ یعقوب نے کہا کہ بھارتی افواج بلااشتعال فائرنگ عالمی برادری کو نظر آنی چاہیے اور اس پر آواز بھی اٹھانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عالمی مبصرین کو آگے بڑھ کر ہماری حمایت کرنی چاہیے انہوں نے کہاکہ میڈیا اس واقعہ کو اہمیت دے کر اس کی کوریج کرے اور بھارت کا چہرہ دنیا پر بے نقاب کرے۔وزیر عشر وزکوۃ افسر شاہد نے کہا کہ ہندوستان کو فیصلہ کرلینا چاہیے کہ وہ کس طرح رہنا چاہتا ہے کشمیری فیصلہ کرچکے ہیں کہ وہ بھارت کے ساتھ نہیں رہیں گے ساری قوم پاک فوج کی پشت پر کھڑی ہے۔کشمیر کلچر ل اکیڈمی کی چےئرپرسن تقدیس گیلانی نے کہا کہ ہم بھارتی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں بھارتی قابض فوج دھوکے کے ساتھ بلااشتعال فائرنگ کررہی ہے جس کا اسے منہ توڑ جواب ملے گا۔احتجاجی جلسہ سے وزیراعظم عملدرآمد کمیشن کے چےئرمین اشفاق ظفر نے کہا کہ بھارت علاقے میں استحکام نہیں چاہتا اور خطے کا امن تباہ کرنا چاہیا ہے اسی لئے وہ جنگ بندی لائن پر بلااشتعال فائرنگ کررہا ہے ۔وزیرخوراک جاوید بڈھانوی نے اپنے خطاب کا وقت وزیراعظم کو دیا احتجاجی جلسہ سے اسد حبیب اعوان،مبارک حیدر،مشتاق میر،شوکت رسول،خان اصغر خان اور دیگر نے خطاب کیا ۔قبل ازیں احتجاجی جلسہ میں وزیراعظم چوہدری عبدالمجید ،وزیرتعلیم کالجز مطلوب انقلابی،ڈپٹی سپیکر شاہین کوثر ڈار نے بھارت کے خلاف اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگوائے۔

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف کے زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس،ملکی سیکیورٹی کا جائزہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker