تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:زمین کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے حصول میں کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو ۔زمین کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے حصول میں کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔کئی کئی دن دھکے کھانے کے بعد لوگ نقل لیے بغیر واپس لوٹ جاتے ہیں،پہلے پٹواری رشوت لیتے تھے اب کمیوٹر سنٹر کا عملہ لیا ہے ۔کسانوں کا واویلا۔کسان بورڈ پاکستان کے سیکرٹری نشرواشاعت حاجی محمد رمضان نے کہا ہے کہ زمین کا کمپیوٹرئزاڈ ریکارڈ حکو مت کا اچھا اقدام ہے مگر کمپیوٹرازڈ سنٹروں پر کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔کمپیوٹرئزاڈ ریکارڈ میں غلطیوں کی بھرمار ہے اور ان غلطیوں کو صحیح کرانا انتہائی مشکل ہے۔ایک تحصیل میں صرف ایک سنٹر بنایا گیا ہے اور یہاں ہر وقت نقل لینے والوں کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔۔کئی کاشتکار علی الصبح آتے ہیں مگر سارا سارا دن دھوپ اور سردی میں کھڑے رہنے کے باوجود شام کو بغیر نقل کے حصول کے انہیں واپس جانا پڑتا ہے۔کاشتکار کئی کئی دن دھکے کھاتے رہتے ہیں مگر نقل نہیں ملتی۔سنٹروں پر عملہ کیلیے اے سی لگے ہیں مگر کاشتکاروں کیلیے نہ سایہ ہے نہ پانی اور نہ ہی بیٹھنے کا کوئی انتظام۔خصوصن خواتین کیلیے یہ مشکلات اور بھی زیادہ ہیں۔نقل کے حصول کیلیے جو رشوت پہلے پٹواری لیتے تھے اب وہ کمپیوٹر کا عملہ لے رہا ہے۔پوری تحصیل سے سینکڑوں لوگوں کیلیے صرف ایک سنٹر ناکافی ہے اور عملہ بھی کم ہے اس لیے کسان بے چارے سارا سارا دن ذلیل ہوکر بغیر نقل لیے واپس چلے جاتے ہیں ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خادم اعلی ہر پٹواری کو لیپ ٹاپ دے کر ہر یو سی میں سنٹر بنادیں تاکہ عوام کو کئی کئی میل چل کر نہ آنا پڑے اور اس نظام میں بہتری لانے کیلیے کسان تنظیموں کی اے پی سی بلائی جائے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button