تازہ ترینعلاقائی

پھولنگر:بااثر ملزمان نے بیوہ خاتون کی 14سالہ بیٹی کواغواء کرکے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔گزشتہ روز با اثر ملزمان اور ساتھیوں کا بیوہ کے مکان پر مسلح دھاوا اور مقدمہ سے باز رہنے کی دھمکیاں۔ ایک اور ویڈیو سیکنڈل ۔نواحی گاؤں نتھے جاگیر کے بااثر رہائشی درندہ صفت رانا عبداللہ اور رانامحمدعثمان اپنے ہی گاؤں کی بیوہ خاتون کی 14سالہ بیٹی کواغواء کرکے ساری رات زیادتی کا نشانہ بناتے رہے اور ویڈیو فلم بنا تے رہے ۔ ۔ نو ماہ قبل مقدمہ درج ہونے کے باوجود ملزمان آزاد،ڈی پی او قصور ،آئی جی پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری طور پر کارروائی کرنے کامطالبہ۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نواحی گاؤں نتھے جاگیر میں با اثر ملزمان فرمان،حنان،عثمان،امانت،اور پانچ کس نامعلوم مسلح ہوکر بیوہ عورت عذرا بی بی کے گھر آدھمکے اور آتے ہی ہوائی فائرنگ کرکے گاؤں میں دہشت پھیلادی۔ملزمان عزرا بی بی کو جان سے مار دینے کی دھکمیاں دیتے رہے اور کہتے رہے کہ اگر وہ انکے خلاف درج مقدمہ کی پیروائی سے باز نہ آئی تو وہ اسکی بیٹی صبا کی ننگی تصویریں نشر کرکے اکے خاندان کو ذلیل کر دیں گے۔۔مظلوم بیوہ عذرا بی بی نے تھانہ میں موجود صحافیوں کو رو رو کر بتایا کہ وہ 28-4-15 کو ریڈکریسنٹ ہسپتال دیناناتھ میں زیر علاج تھیں اور اُس کی دیکھ بھال کے لیے اُس کی بیٹی صباء عمر 14 سال بھی اُسکے ساتھ ہی اُسی ہسپتال میں رہ رہی تھی کہ اسی دوران نتھے جاگیر کے بااثرر ہائشی عبداللہ اور محمد عثمان بھی وہاں آدھمکے اور 14 سالہ صباء کو اُس سے ہمدردی جتلاتے ہوئے اُسکی ماں کی دوائی لانے کے بہانے بہلا پھسلا کر اغواء کرکے بھائی پھیرو شہر میں اپنے اڈے پر لے گئے جہاں پر چودہ سالہ صباء کو جان سے ماردینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے ساری رات باری بای اپنی درندگی کا نشانہ بناتے رہے اور اسکی ننگی ویڈیو فلم بناتے رہے ۔ اس کا مقدمہ تھانہ صدر بھائی پھیرو میں درج ہے مگر نو ماہ گزر جانے کے باوجود اصل ملزم کو پکڑا نہیں گیا۔الٹا با اثر ملزمان بیوہ پر کئی دفعہ حملہ آور ہوکر مقدمہ کی واپسی کیلیے دباؤ ڈالتے ہیں ۔ایک دفعہ پہلے بھی عدالتوں کے باہر انہیں ملزمان نے بیوہ پر تشدد کیا اور مقدمہ واپس لینے کیلیے دباؤ ڈالاتھا جس کا بھی مقدمہ تھانہ سٹی پتوکی میں درج ہے۔ بیوہ نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر فریاد کرتے کہا کہ اب خادم اعلیٰ پنجاب جو اپنے آپ کو غریبوں کا ہمدرد اور لوگوں کا خادم کہتے ہیں کہاں گئے؟ اب قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا ملزمان اتنے ہی بااثرہیں کہ پولیس کے ہاتھ بندھ چکے ہیں بیوہ عذرا بی بی نے پولیس افسران سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان کی نظر میں صرف دولت مند کی ہی عزت ہوتی ہے اور غریب کی کوئی عزت نہیں آخر میں بیوہ ماں نے کہا کہ اگر مجھے انصاف نہ ملا تو میں ایسی ذلت بھری زندگی کا اپنی بیٹی سمیت خاتمہ کرلوں گی اور اسکی تمام تر ذمہ داری مقامی پولیس اور اعلیٰ حکام پر ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا: ایس پی پوٹھوار کی ٹیکسلا میں کھلی کچہری، سائیلن پولیس کے خلاف پھٹ پڑے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker