تازہ ترینعلاقائی

واہ کینٹ سویڈش کالج کی زیر تعمیر سات منزلہ عمارت کینٹ بورڈ کے ذمہ داران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی / نا مہ نگار )اندھیر نگری چوپٹ راج،جی ٹی روڈ واہ کینٹ سویڈش کالج کی زیر تعمیر سات منزلہ عمارت کینٹ بورڈ کے ذمہ داران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئی،قبل ازیں بھی سات منزلہ عمارت ملی بھگت سے تعمیر کی گئی ، دوسری بلڈنگ کی تعمیر زور شور سے جاری ،انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگی،غریب آدمی کے لئے اور قانون اور امیر کے لئے دوسرا قانون ، کینٹ بورڈ کی دوہری پالیسی نے انکی فرض شناسی کا پول کھول دیا،کینٹ بورڈ انتظامیہ نے غیر قانونی اقدام پر آنکھیں موند لیں، خاموشی معنی خیز ہے کچھ نہ کچھ دال میں کالا یاسب کا سب کالا ہے،عوامی حلقوں میں چے مے گوئیاں شروع ہوگئیں،چیئرمین پی او ایف بورڈ سے وری نوٹس لینے کا مطالبہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کا مطالبہ،کوئی شریف شہری یا غریب آدمی چند فٹ تجاوز کرنے کی کوشش کرے تو کینٹ بورڈ کا قانون حرکت میں آجاتا ہے اور اسے مسمار کردیا جاتا ہے مگر بڑی مچھلیوں اور مگر مچھوں پر کون ہاتھ ڈالے ،عوام کا ردعمل سامنے آگیا،کینٹ بورڈ کے دوہرے معیار پر عوام کی سخت تنقید،انفورسمنٹ کا عملہ خاموش محض نوٹس دینے پر اکتفا،قبل ازیں بھی سویڈش کالج انتظامیہ نے سات منزلی عمارت بنائی جو ابھی عوامی حلقوں میں زیر بحث ہی تھی کہ کالج انتظامیہ نے دوسری سات منزلہ عمارت کی تعمیر کا کام شروع کردیا،ایک طرف کہا جاتا ہے کہ کینٹ بورڈ حدد میں تیسری منزل کی اجازت نہیں دوسری جانب قانون کی خلاف ورزی سر عام ہونے پر کینٹ بورڈ انتظامیہ کی خاموشی نہ صرف معنی خیز ہے بلکہ دیکھا جائے تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے،رشوت کے دلدادہ افسران کرپٹ اہلکاروں کی فوج ظفر موج کے ساتھ قانون کی دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں ، متعدد ایسی عمارات ہیں جو بغیر نقشہ کے بنی ہوئی ہیں اور ایسی عمارات کا بھی کوئی اندازہ نہیں جو انتہائی خطرناک جگہ پر بنی ہوئی ہیں جیسا کے نالا کے اوپر وغیرہ وغیرہ ،لیکنایسے قانون شکن افراد پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا بلکہ ان سے منتھلیاں لگا رکھی ہیں جو دو نمبر کاموں کو دوام بخشے کے لئے اہلکاروں کا منہ بند کرتے ہیں،ایسی عمارات جو انسانی زندگیوں کے لئے انتہائی خطر ے کا باعث ہیں ایسے افراد کو کھلی چھوٹ دینا انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترداف ہے ایسے افراد کو اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں کا شکنجہ کسنے کے لئے قانون کو حرکت میں آنا چاہئے،ایسے ذمہ داران کے خلاف نہ صرف محکمانہ کاروائی ناگزیر ہے بلکہ انکے خلاف انسانی زندگیوں سے کھیلنے کا بھی مقدمہ درج ہونا چاہئے ،واہ گارڈن جی ٹی روڈ پر ایسی عمارات موجود ہیں جو انسانی جانوں کے لئے کسی وقت بھی بڑ ے خطرے کا موجب بن سکتی ہیں،قبل ازیں بھی بندھن شادی ہال کے عقب میں نالے کے اوپر بنائی دو منزلہ عمارت کلیپس ہوگئی اور آٹھ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ، اتنا بڑا سانحہ ہونے کے بعد بھی انتظامیہ کا رویہ جوں کا توں ہے ،اگر کوئی شریف شہری ایسا کرتا ہے تو افورسمنٹ کا عملہ ڈنڈوں اور دیگر سامان سے لیس ہوکر چڑ دوڑتا ہے،مگر طاقتور کے آگے ان لوگوں کا بس نہیں چلتا یا بھاری رشوت لینے والے منہ چھپا لیتے ہیں ،ادہر جب کینٹ بورڈ کے زمہ داران سے سویڈش کالج کی سات منزلہ عمارت کے قانوی ہونے کی بابت موقف جاننے کے لئے ر ابطہ کیا گیا تو کینٹ ایگزیکٹیو آفیسر سے تو رابطہ نہ ہوسکا تاہم انجینئیر اسرار خٹک کا کہنا تھا کہیہ معاملہ عدالت میں ہے،ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے،انھوں نے تسلیم کیا کہ سویڈش کالج کی تعمیر ہونے والی سات منزلہ ع عمارت غیر قانونی ہے،بلڈنگ چیکر راجہ حسنین نے نوٹس جاری کیا ہے،تاہم تعیراتی کام کو رکوانا انفورسمنٹ انچارج کا کام ہے،طاقتور اداروں کے خلاف ایکشن لینا اعلیٰ افسران کی ذمہ داری ہے ہم تو چھوٹے لوگ ہیں،انجینیئر نے جان چھڑاتے ہوئے کہا اس معاملہ کی بابت آپ اسٹیشن کمانڈر یا کینٹ ایگزیکٹیو آفیسر سے بات کریں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!