تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:تھانہ سٹی واہ کینٹ چوکی تین پولیس عقوبت خانے میں تبدیل

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی/ نا مہ نگار)تھانہ سٹی واہ کینٹ چوکی تین پولیس عقوبت خانے میں تبدیل، قانون کے محافظوں نے قانون کو کھلواڑ بنا دیا،ایک اور نوجوان پولیس گردی کا نشانہ بن گیا،پولیس کا رشوت کا ریٹ بڑھانے پر نوجوان پر بہمانہ تشدد، مارمار کر لہولہان کردیا،لواحقین پولیس کی منت سماجت کرتے رہے، پولیس نے بھاری رشوت لیکر نوجوان کو چھوڑ دیا،مسلم لیگ ن کے ٹاوٹوں نے معاملات حل کرائے،اے ایس آئی ظفر نے بازار میں لڑائی جھگڑے پردو نوجوانوں کو اٹھایا ، حلف دینے کو تیار ہوں کوئی پیسہ نہیں لیا،ن لیگیوں نے بیچ میں پڑ کر معاملہ رفع دفع کرایا،چوکی انچارج ایس آئی گل تاج کا موقف،تفصیلات کے مطابق راجہ بلال نامی نوجوان جو کی بستی میں پراپرٹی کا کام کرتا ہے راجہ بلال کے بھائی راجہ حسنین رضا کے مطابق پولیس نے بلا وجہ دفتر سے بھائی کو اٹھایا اور چوکی تین لے گئے جہاں بھائی پر رات پر پولیس تشدد کرتی رہی ہم نے بہت منت سماجت کی مگر پولیس نہ مانی،بھائی راجہ حسنین کا کہنا تھا کہ چوکی انچارج گل تاج نے بستی میں غنڈہ گردی اور بدمعاشی کا بازار گرم کیا ہوا ہے بے گنا شہریوں کو زبردستی اٹھا کر لیجاتے ہیں پھر ان پر چرس ڈال کر بری طرح پھنساتے ہیں جس کے بعد مک مکا کر کے انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے یہ پولیس کا روز مرہ کا معمول ہے جس سے یہاں کے شہری بہت تنگ ہیں ، پولیس گردی کا نشانہ بنننے والے راجہ بلال کے بھائی راجہ حسنین کا کہنا تھا کہ رات گئے پولیس سے معاملات چلتے رہے پولیس نے ایک لاکھ روپے ، بھائی کی جیب سے نکلنے والی رقم پنتالیس ہزار اور بھائی کا ہزاروں روپے مالیت کا قیمتی موبائل لیکر بھائی کو چھوڑا،چوکی نمبر تین میں ہونے والا پولیس گردی کا مذکورہ واقعہ سوشل میڈیا میں زیر بحث بنا ہوا ہے، جبکہ پولیس کی زیر حراست روا رکھے جانے والے بہمانہ تشدد کی تصاویر نے سوشل میں دھلکہ مچا رکھا ہے ، اس ضمن میں جب تھانہ سٹی واہ کینٹ کے چوکی انچارج سب انسپکٹر گل تاج سے انکا موقف جاننے کے لئے ٹیلیفون نمبر 0312-5510095 پر رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ا س واقعہ سے انکا کوئی تعلق نہیں اے ایس آئی ٖظفر انھیں بازار میں جھگڑے پر دو نوجوانوں کو اٹھا کر لایا ،پولیس نے ہاتھ مکا ضرورکیاہوگا مگر تشدد نہیں کیا گیا،رشوت لینے کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ وہ قران پر حلف دینے کو تیار ہیں کہ ان سے کوئی پیشہ نہیں لیا گیا تاہم مسلم لیگ کے چند افراد جن کے نام انھوں نے بتائے جو ان لڑکوں کی طرف داری کے لئے چوکی آئے تھے ان کے کہنے پر معاملہ رفع دفع کیا گیا،زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے قبل ازیں بشارت نامی نوجوان کو اٹھایا،پھر بھابڑا کا رہائشی اس نامی نوجوان کو اٹھایا، جن سے بھاری مقدار میں چرس برآمد ہوئی ، اور اسد کے بعد راجہ بلال کو اٹھایا ،قابل زکر بات یہ ہے کہ اگر مذکورہ ملزمان چرس فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے تو پولیس نے قانونی تقاضے پوارے کرتے ہوئے ان پر منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیوں نہ کیا، جبکہ تینوں لڑکوں کو اسی طرح چھوڑ دیا گیا،ان پولیس چونکہ بھاری رشوت لے چکی ہے اس لئے چرس کی بات گول کر کے لڑائی جھگڑا بنایا جارہا ہے اگربقول چوکی انچارج لڑائی جھگڑا کا کیس بھی تو پولیس کے پاس کیا اختیارات ہیں کہ وہ معمولی تلخ کلامی یا لڑائی جھگڑے پر نوجوانوں کی لم نکال دے،راجہ بلال کا کیس بد ترین پولیس گردی کی مثال ہے، جس کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں پولیس کے تشدد کے نشانات نہ ہوں ایسے میں ہمارا قانون سویا ہوا ہے یا پولیس کو شہریوں پر بہمانہ تشدد کا لائسنس مل چکا ہے ، ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب نے پجاب کے دیگر اضلاع کی طرح تھانہ سٹی واہ کینٹ تھانہ ٹیکسلا میں پولیس کے خلاف وامی شکایات کے ازالہ کے لئے فرنٹ ڈیسک قائم کئے ہیں تو دوسری طرف یہی پولیس بلا و خوف و خطر شہریوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک کر رہی ہے،عوام کی شکایات کا ازالہ کون کرے گا جب قانون کے محافظ ہی قانون کی دھجیاں بکھیرنا شروع ہوجائیں اور درندے بن جائیں تو شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کون کرے گا۔پولیس گردی کا شکار راجہ بلال کے بھائی نے میڈیا کے توسط سے پولیس کے اعلیٰ حکام ، وفاقی وزیر ادخلہ چوہدری نثار علی خان، چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ معاملہ کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائیں اور واقعہ میں ملوث پولیس افسران کے خلاف سخت محکمانہ کاروائی کی جائے تاکہ محکمہ میں موجود کالی بھیڑوں سے عوام کو نجات مل سکے راجہ حسنین رضا کیانی نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے چوکی انچارج سب انسپکٹرگل تاج کی فوری بر طرفی کا بھی مطالبہ کیا ہے،ادہر عوامی حلقوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کرپٹ پولیس اہلکار جو محکمہ نیک نامی کی بجائے اسکی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ، عبرت کا نشانہ بنایا جائے تاکہ دوسرے پولیس افسران و اہلکار بھی اس سے سبق سیکھیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button