تازہ ترینعلاقائی

ماں باپ کی طرف سے چودہ سالہ بیٹے کے اغوا کا رچایا گیا ڈرامہ بھائی پھیرو پولیس نے فلاپ کر دیا۔

بھائی پھیرو(نامہ نگار)ماں باپ کی طرف سے چودہ سالہ بیٹے کے اغوا کا رچایا گیا ڈرامہ بھائی پھیرو پولیس نے فلاپ کر دیا۔ڈی پی او قصور کی خصوصی دلچسپی پر دینا ناتھ چوکی انچارج نے بارہ گھنٹے کے بعد بچے کو بازیاب کرکے اغوا ڈرامہ کی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھا دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھائی پھیرو محلہ میانکے موڑ کے رہائشی ساجد نے اپنے ساتھ رہنے والے اپنے بھانجے چودہ سالہ محمد احمد کو ایک سو روپیہ دیکر بازار سے دہی لانے کیلیے بھیجا ۔جب بچہ کافی دیر واپس نہ آیا تو بچے کی ماں جو اپنے خاوند سے روٹھ کر میکے آئی ہوئی تھی اس نے اعلی پولیس حکام کو اطلاع دی کہ اسکا بچہ اغوا ہو گیا ہے۔اس پر ڈی پی او قصور نے ڈی ایس ایس پی پتوکی علی اختر کو فورن موقع پر بھیجا جنہوں نے ایس ایچ او بھائی پھیرو شہباز ڈوگر کو بچے کی بازیابی کیلیے فوری کاروائی کرنے کا کہا۔ایس ایچ او نے چوکی انچارج دینا ناتھ سردار محمد حسین ڈوگر کو پولیس ٹیم کے ہمرا ہ بچے کی بازیابی کیلیے بھیجا۔چوکی انچارج موقع پر گئے تو شیخوپورہ سے روٹھ کر میکے آئی ماں فضلیت بی بی نے بچے کے اغوا کا الزام اپنے خاوند یوسف پر لگا دیا۔رات بھر پولیس بچے کی بازیابی کیلیے مصروف تفتیش رہی ۔صبح ہوتے ہی بچے کا والد شیخوپورہ یوسف شیخوپورہ سے سیدھا چوکی انچارچ محمد حسین کے پاس پہنچا اور اپنے بیٹے کے اغوا کا الزام اپنی بیوی پر لگا دیا۔پولیس ماں اور باپ کی طرف سے ایکدوسرے پر الزام لگائے جانے پر سٹ پٹا کر رہ گئی ۔بالآخر فرض شناس تفتیشی افسر نے اپنی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کے باپ یوسف کو کھنگا لا تو یوسف نے بتایا کہ بچہ اسے ملنے کیلیے خود ہی اپنے ماموں کے گھر واقع بھائی پھیرو سے شیخو پورہ گیا جہاں پر اس نے بیٹے کر اپنے کسی رشتہ دار کے ہاں چھپا کر اس کے اغوا کا الزام اپنی ناراض بیوی پر لگا دیا۔باپ کی نشاندہی پر صرف بارہ گھنٹے بعد ہی پولیس نے باپ کی نشاندہی پر بچے کو بازیاب کر کے ماں کے حوالے کر دیا اور اغوا ڈرامہ کا ڈراپ سین کر دیا۔عوامی سماجی حلقوں اور اعلی پولیس حکام نے اغوا کے پیچیدہ ڈرامے کو فلاپ کرنے والے چوکی انچارچ محمد حسین ڈوگر کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور انعام دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی،مقامی کیبل آپریٹرزکا پاکستانی چینلز نہ دکھانے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker