تازہ ترینفن فنکار

شہنشاہ غزل مہدی حسن کو بچھڑے ايک برس بیت گيا

mehadiکراچی(نمائندہ شوبز) شہنشاہ غزل مہدی حسن کو بچھڑے ايک برس ہوگيا ۔۔۔۔لیکن ان کے لازوال گيت اور بے مثال غزلیں  ہمیشہ مداحوں کو ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔ 13 جون شائقین موسیقی کے لئے کسی قیامت سے کم نہ تھی، اسی روزسروں کے افق کا سب سے روشن ستارہ ڈوب گیا ۔۔ سازو آواز کی دنیا پر سوگ طاری ہوگیا ۔ اب کے بچھڑے تو شائد پھر کبھی خوابوں ميں ملے،،  شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کو شائقین موسیقی سے بچھڑے ایک برس بیت گیا ۔ خاں صاحب نے جس کلام کو آواز بخشی اسے امر کردیا ۔  گلوں میں رنگ بھرے ۔ باد نو بہار چلے ۔انہوں نے ساٹھ کي دھائي ميں فيض کی یہ غزل اس قدر ڈوب کر گائی کہ شائقین پرسحرطاری کردیا ۔۔ گلی کوچوں میں ۔ ان کے گائے گیت نغمے گونجنے لگے ۔ موسیقار ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ سنتوش کمار۔۔ درپن ۔ محمد علی۔اوروحید مراد سے لیکرندیم اورشاہد تک ہر ہیرو نے مہدی حسن کے گائے ہوئے گیتوں پرلب ہلائے ۔ دنیا بھر میں ان کا نام اردو گائیگی کی شناخت بن گیا ۔ انہی کے لئے لتا منگیشکر نے کہا تھا کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے ۔وہ کئی برس ۔ علالت کے بعد گزشتہ برس خالق حقیقی سے جاملے ۔ حکومت نے ان کے شایان شاں مزار بنانے کا وعدہ کیا جو آج تک پورا نہ ہوسکا۔ مہدئ حسن کي قبر کو شناخت ديکھنے کے ليے لگائي گئ تختئ بھی سندھ حکومت يا سٹئ حکومت کي طرف سے نہيں بلکہ ان کے ايک پرستار نے لگائي ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button