پاکستانتازہ ترین

بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دے سکے، اسحاق ڈار کا اعتراف

ishaq darاسلام آباد(بیوروچیف)  وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اعتراف کیا ہے کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دے سکے لیکن طویل المدت میں ضرور ریلیف ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مجموعی قومی پیداوار کا ہدف 4.4فیصد رکھا گیا جبکہ مالی خسارہ مجموعی پیداوار کے 8.8 فیصد تک ہے ۔ اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال ترسیلات زر 14 ارب روپے سے اوپر رہیں گی جبکہ سال 2016تک ترسیلات زر 20 ارب ڈالر تک لے جائیں گے اور اگلے سال تنخواہوں میں اضافہ کریں گے۔ اسحاق ڈارکا کہناتھاکہ توانائی کے مسائل حل کرنے ہیں تو جی ڈی پی گروتھ کو 7 فیصد تک لے جانا ہوگا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ 2 ہزار 475 ارب روپے ٹیکس آمدن کاہدف ایک چیلنج ہے جسے حاصل کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نے سادگی اور اخراجات میں کمی وزیراعظم ہاوس سے شروع کی، اپنا بجٹ ترقیاتی اخراجات کے لیے ختم کردیااور انہوں نیصوابدیدی فنڈز کو بھی ختم کر دیا،وزارتوں کے فنڈز میں 30 فیصد کٹوتی کی جا رہی ہے، وزارتوں کے فنڈز کی کٹوتی سے 40 ارب روپے بچیں گے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی عوام کے ایک ایک پیسے کی حفاظت کرنی ہے، قرضوں کو کم کرکے جی ڈی پی کا 61.5 فیصد کریں گے ۔ کسی وی آئی پی کو گاڑیوں میں ٹیکس پر چھوٹ نہیں دی گئی۔ اسحاق ڈارنے کہاکہ بجٹ سے ایک دن پہلے 12 اداروں میں سیکرٹ فنڈز کی لعنت کو ختم کیا۔اب صرف دفاعی اداروں کے سیکریٹ فنڈ باقی رہیں گے۔انہوں نے اِس بات کی بھی وضاحت کی کہ حاجیوں پر نہیں حج آپریٹرز پر ٹیکس لگایا گیا ہے،حج آپریٹرز کی انکم پر ٹیکس 2 ہزار سے بڑھا کر 3500 روپے کیا، اس سے حج اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ وزیرخزانہ کا کہناتھاکہ لوگوں کی سوچ بدلنی ہے، 70لاکھ سالانہ آمدن والوں کو ملک کیلئے کچھ قربانی دینا ہے،نواز شریف نے کہامحنت کریں لوگوں پر کم سے کم بوجھ ڈالیں،غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی تعداد 5سال میں دگنی ہوگئی ،تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس 30 فیصد ہے،70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ انکم والے صرف 3114 افراد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  مزدورہوں میں،کام ہے محنت میرا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker