پاکستانتازہ ترین

قصاص مارچ میں شرکت سے روکا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہو گی، طاہر القادری

لاہور(ڈیسک نیوز)عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ حکومت نے قصاص اور سالمیت پاکستان مارچ کے خوف سے پورے راولپنڈی کو اس طرح سیل کردیا ہے لیکن اگر مارچ میں شرکت سے روکا گیا تو حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ قصاص اور سالمیت پاکستان مارچ میں شرکت کے لئے راولپنڈی روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا تھا کہ دراصل ہمارا مارچ پاکستان کو بچانے کے لئے ہے، مارچ ہمارا جمہوری، آئینی اور قانونی حق ہے جس طرح وزیراعظم نواز شریف گزشتہ دور حکوت میں احتجاج کرتے رہے ہیں بالکل اسی طرح ہم بھی پر امن مارچ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل اطلاعات مل رہی ہیں کہ حکومت نے پورے راولپنڈی شہر کا محاصرہ کر رکھا ہے، ہمارے مارچ کو ناکام بنانے کے لئے سیکیورٹی کے نام پر ہر طرف کنٹینر لگا دیئے گئے ہیں اور تمام سڑکیں اور شاہراہیں اس طرح بند کر دی گئی ہیں کہ ایک مکھی بھی مارچ میں شرکت نہ کر سکے۔ عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ حکومت 2014 والی پالیسی پر گامزن ہے، جس طرح پنجاب حکومت نے 14 روز تک ماڈل ٹاؤن کا محاصرہ کیا تھا بالکل ایسی ہی صورت حال آج راولپنڈی میں نظر آ رہی ہے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب وزیراعظم نواز شریف کالا شاہ کاکو اور فیصل آباد میں جلسے کرتے ہیں تو وہاں سیکیورٹی کے باعث کنٹینر کیوں نہیں لگائے جاتے، رات 12 بجے تک پورے راولپنڈی کی سڑکیں اور کاروبار رواں دواں تھا لیکن جیسے ہی میں نے قصاص مارچ میں شرکت کا فیصلہ کیا تو حکومت کے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور ان کے پاؤں لرزنا شروع ہو گئے ہیں۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور قومی سلامتی کے اداروں کو متبنہ کرنا چاہتا ہوں کہ میں لاہور سے قصاص مارچ میں شرکت کے لئے راولپنڈی جا رہا ہوں، میرے راولپنڈی پہنچنے سے پہلے تمام راستے کھول دیئے جائیں اور کنٹینر ہٹا دیئے جائیں ورنہ یہ وفاقی و صوبائی حکومت کے لئے بہتر نہیں ہوگا اور جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہی ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ تمام راستے کھول دیئے جائیں تو مارچ پر امن رہنے کی ذمہ داری میں لیتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ جس طرح 6 اگست سے 28 اگست تک ہونے والے احتجاج اور ریلیاں پر امن تھیں بالکل اسی طرح آج کا مارچ بھی پر امن ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں  ایشوریا رائے42 برس کی ہوگئیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker