شہ سرخیاں
Home / تازہ ترین / قصور:لڑکے کے اغوا کے جھوٹے مقدمہ کے خلاف کجیانوالا کے دیہاتیوں کا احتجاجی مظاہرہ

قصور:لڑکے کے اغوا کے جھوٹے مقدمہ کے خلاف کجیانوالا کے دیہاتیوں کا احتجاجی مظاہرہ

قصور( حافظ جاویدالرحمن سے)لڑکی کو ملنے آنے والے کلاس فیلو لڑکے کے اغوا کے جھوٹے مقدمہ کے خلاف کجیانوالا کے دیہاتیوں کا احتجاجی مظاہرہ ۔مقدمہ خارج کرکے اصل حقائق کی روشنی میں کاروائی کرنے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق پیرووالا روڈ کے رہائشی خوشی محمد نے تھانہ گنڈاسنگھ والا میں اپنے بیٹے طیب کو اغواکرنے کا اقصیٰ بی بی اسکے بھائی منیر اور والد محمد صفدرو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ نمبر 280/15درج رجسٹرڈ کروایا جس کی تفتیش میں 13ماہ گزر گئے ہیں اور اس دوران پولیس نے نامزد ملزمان کے علاوہ درجنوں افراد کو گرفتار کرکے تشدد سمیت ہر لحاظ سے تفتیش میں اپنی تمام تر صلاحتیں استعمال کیں اور اس دوران نامزد ملزمان کو پولی گراف رزلٹ اور تمام شواہد و گواہان کی صفائی کے مطابق بے گناہ بھی کردیا مگر مدعی مقدمہ خوشی محمد کے اعلیٰ افسران کے پاس پیش ہوکر اپنی روداد سنانے اور مقدمہ کی بدستور پیروی کی وجہ سے ابھی تک متعلقہ پولیس دیہاتیوں کی پکڑ دھکڑ کرنے کیساتھ ساتھ انکو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے اور روزمرہ کے معمول میں دیہاتیوں کے گھروں میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرکے گھس جاتے ہیں اور مستورات سے بدتمیزی کرتے ہیں اسی اثناء میں پولیس نے گاؤں کے اشیاق احمد نامی موچی کو بھی ایک ہفتہ سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے جس پر آج بدھ کے روز دیہاتیوں نے اہل و عیال کے ہمراہ گاؤں میں احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب ،وزیرقانون اور چیف جسٹس پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ مدعی نے پورے گاؤں کی ناک میں جھوٹے مقدمہ کی آڑ میں دم کیا ہوا ہے اس مقدمہ کو خارج کرکے مدعی مقدمہ جس نے پہلے بھی کئی مظلوم لوگوں کے خلاف اغواء کے جھوٹے مقدمے درج کروائے اور انکو بلیک میل کرتا رہا اسکے اہل و عیال کو پکڑ کر انکی بھی تفتیش کی جائے ۔دیہاتیوں نے اصل واقع بھی بتایا کہ مدعی مقدمہ کا بیٹا جسے مغوی ظاہر کیا گیا ہے یہ گاؤں کے محمد صفدر کی جواں سالہ بیٹی اقصیٰ جو اسکی کلاس فیلو رہی ہے13ماہ پہلے رات کے اندھیرے میں اسکو ملنے آکر گھر میں گھس گیا تھا اور شور واویلا پر بھاگ گیا جسکی موٹر سائیکل اگلے دن کھیتوں سے برآمد کی گئی اور متعلقہ پولیس کو بھی اس وقوعہ سے باخبر کیا گیا ۔چند روز بعد الٹا خوشی محمد نے اپنے اسی بیٹے کے اغواکا جھوٹا مقدمہ لڑکی سمیت اسکے بھائی اور باپ کے خلاف درج کروادیا ۔مقدمہ کے تفتیشی طارق بشیر چیمہ نے بتایا ہے کہ جب تک مغوی بازیاب نہیں ہوجاتا تب تک گاؤں کے کسی بھی دیہاتی کو گرفتار کرکے اسکی تفتیش کی جا سکتی ہے اور جو بھی ہوگا میرٹ پر ہوگا اگر مدعی جھوٹا ثابت نکلا تو اسکے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائیگی ۔

  • Engineer Babar Ali

    بچے کے اغواء کے مقدمہ نمبر 280/15 تھانہ گنڈاسنگھ کے مدعی کے بیٹوں اور مغوی کے بھائیوں کو قصور پولیس نے بااثر ملزموں کے ساتھ مل کر شدید قسم کے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس تشدد کے نتیجے میں مغوی کے ایک بھائی کا بازو بھی ناکارہ ھو چکا ھے۔ قصور پولیس ملزموں کو بچانے کی پوری کوشش کر رھی ھے اور بچے کو بازیاب نہیں کروا رھی۔
    پولیس صرف یہ بتائے کہ اغواء ھونے والے بچے کو 14 مہینے گزرنے کے باوجود آج تک برآمد کیوں نہیں کیا گیا ؟

x

Check Also

ختم نبوت سے متعلق تحفظات پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا: پیر نظام الدین جامی

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) سجادہ نشین گولڑہ شریف پیر نظام الدین جامی نے ...

Connect!