تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو :پولیس نے دو ماہ کا وقت گذرجانے کے باوجود نامزد قاتل گرفتار نہیں کیے، مظاہرین کا الزام

downloadسنجھورو(نامہ نگار) تقریبا دو ماہ قبل سنجھورو تھانہ کی حدود میں قتل ہونے والے جمالی برادری کے تین نوجوانوں کے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف جمالی برادری کی سینکڑوں خواتین نے کھڈڑو پریس کلب پر پولیس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مائی زینب جمالی ، مائی ہانی جمالی اور دیگر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہماری برادری کے تین نوجوانوں صالح محمدجمالی ، تاج محمدولد ملوک جمالی اور محمد یعقوب ولد ملوک جمالی کو نا حق قتل کیا گیا تھا جن کے قتل کا مقدمہ 9 ملزمان کے خلاف سنجھورو پولیس اسٹیشن پر درج کرایا گیا تھا۔سنجھورو پولیس نے دو ماہ کا وقت گذرجانے کے باوجود ابھی تک ایک بھی نامزد ملزم کو گرفتار نہیں کیا اور نہ ہی اس سلسلے میں پولیس کوئی چھاپے مار رہی ہے ۔ہم نے اس سلسلے میں متعدد بار ایس ایس پی سانگھڑ اور ڈی ایس پی سنجھوروسے ملزمان کی گرفتاری کے لئے رابطے کئے لیکن انہوں نے کوئی کاروائی نہیں کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایس ایس پی سے لیکر ایس ایچ او تک پولیس نے ملزمان سے بھاری رشوت لے رکھی ہے۔مظاہرہ کرنے والی خواتین نے مزید کہا کہ ملزمان با اثر اور پیسے والے ہیں جبکہ ہم غریب ہیں۔خواتین نے روتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ مخالف برادری کے لوگ ان کا ناج اور بھوسہ بھی زبر دستی اٹھا کر لے گئے ہیں اور ان کی ایک شادی شدہ خاتون بھی ملزما ن نے اغواء کرکھی ہے جس کو پولیس نے بازیاب نہیں کرایا۔خواتین نے قتل ہونے والے نوجوانوں کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، وزیر اعلیٰ سندھ ،آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔واضع رہے کہ جمالی برادری کے مذکورہ نوجوان رند اور جمالی برادری میں رشتے کے تنازعہ پر سنجھورو کے قریب ڈنڈا موری اسٹاپ پر قتل کردئیے گئے تھے۔ اسی روز رند برادری کا بھی ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جس کے بعد ابھی تک رند جمالی تکرار کا کوئی تصفیہ نہیں ہوسکا ہے اور علاقے میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے اور دونوں اطراف مسلح افراد مورچہ زن ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button