تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:جگہ جگہ کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کا کاروبار عروج پر

بھائی پھیرو(نامہ نگار) بھائی پھیرو۔جگہ جگہ کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کا کاروبار عروج پر۔چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے،ہلدی میں اینٹوں کا برادہ،جعلی سوڈا واٹر,جعلی دودھ۔منافع خوروں نے عوام کو زہرآلود اشیائے خوردنی فروخت کرکے کروڑ پتی بننے کا مقابلہ شروع کر رکھا ہے۔سینکڑوں شہری بیمار انتظامیہ خاموش۔تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو اور گردونواح میں جگہ جگہ کھانے پینے کی اشیا میں ملاوٹ کا کاروبار عروج پرہے منافع خوروں نے خفیہ جگہوں پر ملاوٹ زدہ اشیا بنانے کیلیے چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں بنا رکھی ہیں جن میں دو نمبر نہیں بلکہ دس نمبر اشیا تیار کرکے عوام کی زندگیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔چائے کی پتی میں چنے کے چھلکے ملانا،ہلدی اور مرچوں میں اینٹوں کا برادہ ملانا،اور جعلی سوڈا واٹرتیار کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔سب سے زیادہ ملاوٹ چائے کی پتی میں کی جاتی ہے اور پھر انہیں مشہور کمپنیوں کی پیکنگ میں اسطرح فروخت کیا جاتا ہے کہ کسی کو یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ جعلی ہے یا اصلی۔یہاں مشہور کمپنیوں کے ہر قسم کے ریپر اور پیکنگ کے لفافے بنانے اور بیچنے والے بھی ہر جگہ موجود ہیں جو آرڈر پر تمام برانڈڈ کمپنیوں کے لفافے سپلائی کر دیتے ہیں۔منافع خور عوام کو زہر کھلا کر انکی صحتوں سے کھیل کر اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں جبکہ یہ ملاوٹ شدہ اشیا کھا کھا کر سینکڑوں افراد طرح طرح کیجان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوکر زندہ درگور بن چکے ہیں۔اور تو اور جب یہ بیمار صحت یاب ہونے کیلیے ادویات لیتے ہیں تو یہاں ادویات بھی دو نمبر ملتی ہیں اور میڈیکل سٹوروں میں جعلی ادویات سر عام فروخت ہوتی ہیں۔ہسپتال کے ڈاکٹروں کو میڈیکل سٹور چیک کرنے کے اختیارات ہیں مگر وہ بھی منتھلیاں لے کر خاموش ہوجاتے ہیں۔عوامی سماجی رہنماؤں احمد جمال،مقبول احمد اور دیگر کئی شہریوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بھائی پھیرو میں ملاوٹ کے گھناؤنے کاروبار کی روک تھام کیلیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!