تازہ ترینعلاقائی

ٹیکسلا:سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد اورشہرمیں بڑھتی وارداتوں کےخلاف سیاسی جماعتوں کی احتجاجی ریلی

ٹیکسلا(ڈاکٹر سید صابر علی سے)سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد اور شہر میں بڑھتی وارداتوں کے خلاف مقامی سطح پر تمام سیاسی جماعتوں نے احتجاجی ریلی نکالی ، جو ٹیکسلا پھاٹک سے شروع ہوکر سرائے کال چوک میں اختتام پذیر ہوئی جہاں مقررین نے خطاب کیا ، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما رکن قومی اسمبلی غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ غیرت سے عاری حکمرانوں کی وجہ سے تمام تر خرافات پیدا ہورہی ہیں ، ملک کا وزیر اعظم جب ہولی میں جائے اور کہے کہ ہمارے خدا اور تمھارے بھگوان میں کوئی فرق نہیں، تو ا س سے بڑھ کر کیا بے غیرتی ہوگی ، مملکت خداد کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آیا ہم شان رسالت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں ،اور حرمت رسولﷺ میں مر مٹنے کا تیار ہیں،احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے، شہر میں بڑھتی واردتوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے کے لئے دین اور ملک کے دشمنوں کو بغیر کسی ضابطے کے ویزے دیئے جارہے ہیں دوسری طرف سیاسی بنیادوں پر پختونوں کو ازیت دیکر انھیں عتاب کا نچانہ بنایا جارہا ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں جماعت اسلامی کے رہنما خواجہ وقار ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروع کرنااستعمار کا ایجنڈا ہے ،جب تک ملک میں عدل کا نظام قائم نہیں ہوگا ، امن قائم نہیں ہوسکتا،میزبان تقریب جماعت اسلامی کے رہنما عتیق کاشمیری کا کہنا تھا کہ شہر میں جرائم کی شرح میں اضافہ کے ذمہ دار پولیس والے ہیں،پنجاب کا واحد تھانہ ٹیکسلا ہہے جو سب سے زیادہ بولی پر بگتا ہے،ایک مرتبہ پھر ایک بھتہ خور ایس ایچ او کو تھانہ ٹیکسلا میں تعینات کردیا گیا،انھوں نے کہا کہ ٹیکسلا شہر کے لئے اصغر چانڈیو جیسا پولیس افسر ہونا چاہئے،ملک پرویز کا کہنا تھا کہ حکومت کے ذمہ داران نے گستاخ رسول کا جہنم رسید کرنے والے کو تو پھانسی چڑھا دیا مگر آسیہ کو تاحال جیل میں رکھا ہوا ہے ، صدر ٹیکسلا بار ایسوسی ایشن میر ناصر بلال ایڈووکیٹ نے کہا کہ شان رسالت میں جان قربان کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں، احتجاجی ریلی سے کرنل (ر)کاظم رضا ، انجمن تاجران ٹیکسلا کے صدر شیخ ضیا الدین،پیپلز پارٹی کے رہنما سید جابر علی ایڈووکیٹ ، و دیگر نے بھی خطاب کیا،مقررین کا کہنا تھا کہ آج تک توہین رسالت کے قانون 295C کے تحت کسی ایک گستاخ رسول کو بھی پھانسی نہیں دی گئی، حکمرانوں نے گستاخ رسول کی جسارت کرنے والوں کا ملک سے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا،احتجاجی ریلی میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جو آئین کو مسخ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ان ملعونوں کے خلاف سخت لائح عل بنایا جائے،حکومت کا گستاخ رسول کا قانون 295C کو اب حرکت میں لانا ہوگا،وگرنہ یہ عوام حکومت کی تمام ائین ترامین کو جوتے کی نوک پر رکھے گی، احتجاجی ریلی میں شرکاء نے بینرز پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button