پاکستانتازہ ترین

بدین:بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ بلاجواز ہے،مولانا فضل الرحمن

molanaمانسہرہ (قاضی بلال سے ) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ بلاجواز ہے‘ بدامنی سندھ اور خیبرپختونخوا میں بھی ہے‘ صدر زرداری کو ہٹا کر پانچ سال کے لئے پیپلزپارٹی کا نیا صدر نہیں بنایا جاسکتا‘ صدر سے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں نے پیپلزپارٹی سے مک مکا کر رکھا ہے‘ جے یوآئی (ف) اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرکے ان کا گناہ اپنے سر نہیں لے سکتی‘ ہم ایم ایم اے کی بحالی چاہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مانسہرہ میں جمعیت علماء اسلام ضلع مانسہرہ کے نائب امیرقاری محمدارشدکی تعزیت کے بعد میرا مظفرمیں جمعیت علماء اسلام ضلع ہری پورکے امیرپیرعالم زیب شاہ کی رہائش گاہ پر کیا۔ انہوں نے کہاکہ جے یو آئی (ف) متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے حق میں ہے اور اس حوالے سے جلد مثبت پیشرفت کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں بھونڈی وجوہات کو بنیاد بنا کر گورنر راج نافذ کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا اور سندھ میں بھی بدامنی ہے۔ حالات خراب ہیں۔ لوگوں کاجان ومال محفوظ نہیں۔ خیبرپختونخوا میں ہرطرف آگ اور خون کاکھیل کھیلا جا رہا ہے۔ صوبائی حکومت سینئر صوبائی وزیر کو بھی تحفظ فراہم نہیں کرسکی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ چاہتا ہوں۔ پیپلزپارٹی کی حکومت میں پنجاب میں گورنر راج کی بھی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت کے دور میں دہشت گردی اور بدامنی کو فروغ ملا ہے۔جے یو آئی (ف) کسی غیرجمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرتی لیکن بلوچستان میں غیرجمہوری کام ہوا ہے۔ کراچی میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اوسطاً روزانہ 20 افراد مارے جا رہے ہیں اور گزشتہ سال 11 ہزار افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر عام شہریوں کاقتل عام ہو رہا ہے۔ عام لوگوں کی آبادیوں پر بمباری ہو رہی ہے ایسے میں کس طرح تسلیم کیا جائے کہ جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مشاورت کے ساتھ نگران وزیراعظم کے نام تجویز کئے جائیں گے۔ اب حکومت نے بھی اعلان کردیا ہے کہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے عبوری حکومت بنائی جائے گی جو اچھی بات ہے۔ ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اگر صدر آصف علی زرداری کو ہٹایا جاتا ہے تو اسی اسمبلی سے پیپلزپارٹی کا نیا صدر پانچ سال کے لئے بنے گا اس بات پر غور کرنا چاہئے جو لوگ صدر زرداری سے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں ان کا پیپلزپارٹی سے مک مکا ہو چکا ہے۔ اے این پی کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخواہ کی موجودہ حکومت کے دور میں دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو فروغ ملا ہے اب اے این پی اپنا دامن صاف کرنے کی کوشش کررہی ہے یا اپنے گناہ میں سب کو شریک کرنا چاہتی ہے تو جے یو آئی (ف) ان کا دامن صاف کرنے کے لئے تیار ہے نہ خود اس گناہ میں شریک ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں  سب ایک ہوجائیں توپاکستان فلم انڈسٹری بھارت کو پیچھے چھوڑسکتی ہے‘صائمہ نور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker