شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:علمائے اکرام کو صحافت اور میڈیا کےجدید ذرائع استعمال کرنے کے ہنر سیکھنے چاہیں،حاجی رمضان

بھائی پھیرو:علمائے اکرام کو صحافت اور میڈیا کےجدید ذرائع استعمال کرنے کے ہنر سیکھنے چاہیں،حاجی رمضان

بھائی پھیرو(نامہ نگار)اسلامی خطابت اورنقابت کو صحافت کے ذریعے عوام الناس تک پہنچا کر ہی اسلامی انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔علمائے اکرام کو صحافت اور میڈیا کے جدید ذرائع استعمال کرنے کے ہنر سیکھنے چاہیں۔قرآن پاک ایک ایسی شہکار کتاب ہے جس میں خطابت ،نقابت،صحافت ،معاشرت،سائینس،معیشت سمیت دنیا کے تمام علوم کے بارے مکمل ترین معلومات کا بیش بہا خزانہ موجود ہے۔ان خیالات کا اظہار نواحی گاؤں بگھیانہ کلاں کی معروف درسگا ہ جامعیہ رحیمیہ رزاقیہ میں تین روزہ نقابت و خطابت کورس کے شرکا سے خطاب کر تے معروف عالم دین و ادیب مفتی ظہیر احمد ظہیراور معروف صحافی حاجی محمد رمضان نے اپنے اپنے خطابات میں کیا۔مہتمم مدرسہ مولانا حافظ اعجازالرحمان اشرفی کے زیر انتظام منعقدہ اس ریفریشر کورس میں ملک بھر سے درجنوں علمائے اکرام نے شرکت کی۔حاجی محمد رمضان نے مہتمم مدرسہ اور مفتی ظہیر کا شکریہ ادا کرتے کہا کہ انہوں نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق علمائے اکرام کو روشناس کرانے کیلیے ایک انقلابی اقدام اٹھایا ہے ۔انہوں کہا کہ اسلامی خطابت اورنقابت کو صحافت کے ذریعے عوام الناس تک پہنچا کر ہی اسلامی انقلاب کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔علمائے اکرام کو صحافت اور میڈیا کے جدید ذرائع استعمال کرنے کے ہنر سیکھنے چاہیں۔قرآن پاک ایک ایسی شہکار کتاب ہے جس میں خطابت ،نقابت،صحافت ،معاشرت،سائینس،معیشت سمیت دنیا کے تمام علوم کے بارے مکمل ترین معلومات کا بیش بہا خزانہ موجود ہے ۔معاشرے کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لئے اصلاح وتجدید کی جو کوششیں ہو رہی ہیں،ان کا تقاضا ہے کہ معاشرے کے ہر شعبے کے بارے میں اسلامی تعلیمات کو مرتب شکل میں پیش کرنے کی سعی کی جائے۔صحافت اور ذرائع ابلاغ بھی جدید معاشرے کا نہ صرف اہم شعبہ ہیں،بلکہ یہ دوسرے تمام شعبوں پر اثر انداز ہو کر ان کی صورت گری کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اس لئے اس شعبے کا اسلامی بنیادوں پر استوار ہونا نہایت ضروری ہے،لیکن بد قسمتی سے اب تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اس باب میں کوئی سنجیدہ علمی کوشش نہیں کی گئی ہے۔اس شعبے میں اسلامی اصول واحکام کی کماحقہ پابندی نہ ہونے کے مضمر اثرات بہت نمایاں ہیں۔ایک طرف صحافت اور اہل صحافت کا اخلاقی معیار متاثر ہو رہا ہے تو دوسری طرف اس کمی کے باعث ہمارے معاشرے میں گوناگوں خرابیوں کو راہ مل رہی ہے۔ حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے مفتی ظہیر نے صحافت کی اصلاح کا جوبیڑہ اٹھایا ہے وہ قابل صد تحسین ہے،علمائے اکرام کو اپنی صحافتی خدمات کو اسلام کی خدمت میں کھپا دینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ بر صغیر پاک و ہند میں مولانا ابولکلام آزاد،مولانا عطا ء اللہ شاہ بخاری ،مولانا ابولاعلی مودودی،مولانا ظفر علیخاں، سمیت سینکڑوں ایسے علمائے اکرام پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی نقابت،خطابت اور صحافت کے ذریعے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں میں شمع رسالت کو روشن کیا اور انکے اثرات نہ صرف پاک و ہند بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جا سکتے ہیں

یہ بھی پڑھیں  اوگرا کیس: سپریم کورٹ کی توقیر صادق کی گرفتاری کیلئے 22 جنوری تک مہلت