تازہ ترینعلاقائی

سانگھڑ :نواحی قصبے گجری میں رہائش پزیر ایک ہی گھر کے تین افراد HIV ایڈز کے موزی مرض میں مبتلا

سانگھڑ(نامہ نگار)سانگھڑ کے نواحی قصبے گجری میں رہائش پزیر ایک ہی گھر کے تین افراد HIV ایڈز کے موزی مرض میں مبتلا حکومتی دعوے دھرے کے دھرے سماجی ادارے بھی برائے نام غریب خاندان گدا گری اور جسم فروشی پر مجبور ہیں کم عمر کی شادیاں بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی اس کا سب سے بڑا سبب ہے۔
تفصیلات کے مطابق سانگھڑ کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والا خاندان HIVایڈز جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے (الف)نشے کے عادی کی زوجہ نے بتایا کہ میری شادی چھوٹی عمر میں ہی کردی گئی تھی میرا شوہر محنت مزدوری کرتا تھا اس کی آمدنی سے با مشکل گزارا ہوتا تھا پھر میرے گھر پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی جس کے بعد اخراجات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا اور مزید حالات خراب ہونا شروع ہوگئے لیکن آمدن کے ذرائع موجود نہ تھے پھر 2سال بعد میرے گھر ایک اور بیٹی کی پیدائش ہوئی حالات کی تنگی سے دلبرداشتہ ہوکر میرا شوہر نشہ کی لت میں پڑگیا جو تھوڑی بہت آمدنی آرہی تھی جس سے با مشکل پیٹ کی آگ بجھائی جارہی تھی لیکن اب وہ بھی شوہر کے نشے پر خرچ ہورہی ہے اب تو خاندان کی ایک وقت کی روٹی کے بھی لالے پڑگئے ہیں میرے بچے اکثر ایک وقت کا ہی کھانا کھاتے تھے لیکن اس کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا (ز)کا کہنا تھا کہ شوہر کے نشے کی عادت دن بند بڑھتی جارہی تھی جس کی وجہ سے گھر میں فاقہ کشی کا عالم تھا پھر ایک سماجی ادارہ برج کنسلٹنٹ والے آئے اور انہوں نے میرے شوہر(ا)کو نشے پر کنٹرول کرنے کے لئے سرنجز مہیا کرتے تھے تاکہ وہ کسی کی استعمال شدہ سرنج استعمال نہ کرے اور آہستہ آہستہ نشہ چھوڑ دے مگر ایسا نہیں ہوا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ نشہ کرنے لگا پھر میں نے گدا گری شروع کردی گداگری کے لئے اپنے گاؤں سے 16کلومیٹر کا سفر طے کرکے سانگھڑ آنا پڑتا تھا اسی اثناء میں مجھے ایک عورت نے جسم فروشی کا کہا جس کہ کہنے پر میں نے جسم فروشی شروع کردی لیکن خاطر خواہ حالات میں بہتری نہیں آئی اور پھر 2011میں مجھے بیٹے کی پیدائش ہوئی اسی دوران ایک سماجی ادارہ برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن نے میرے پورے خاندان کےHIVایڈز کے ٹیسٹ کئے تو پتہ چلا کہ میرا شوہر میں اور میرا بیٹاHIV ایڈز کے موزی مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں میری جسم فروشی کرنے کی وجہ سے یا میرے شوہر کے نشہ کرنے سے میرا خاندان اس مرض میں مبتلا ہوگیا۔یہ دن کسی قیامت سے کم نہ تھا جب ہمیں یہ پتا چلا کہ میرا شوہر میں اور میرابچہ6سالہ بچہ HIV ایڈز میں مبتلا ہوچکے ہیں پھر علاج کے لئے سماجی ادارے نے ہمیں کراچی ڈی ٹاکس سینٹر چلنے کا کہا لیکن میرا شوہر اس بات پر راضی نہیں ہو اوہ ڈرا ہوا تھا کہ کہیں یہ سماجی ادارے کے ملازمین میرے شوہر کو وہاں بند نہ کردیں۔پھر زندگی کا سفر اسی طرح چلتا رہا فلاحی ادارے آتے ہمارا فوٹو سیشن کرتے اور چلے جاتے لیکن کوئی داد رسی نہ کرتے ۔HIVایڈز کا معلوم ہونے کے بعد مجھے لگا کہ اب مجھے جسم فروشی چھوڑ دینی چاہیئے اور میں نے جسم فروشی چھوڑ دی لیکن مجھے نہیں معلوم کہ مجھ سے یہ بیماری اور کتنے لوگوں میں منتقل ہوئی ہے اب میں اپنے شوہر کا علاج کروانا چاہتی ہوں لیکن وسائل کی کمی اور حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوپارہا ہے ہم لوگ منتظر ہیں کے کوئی آئے اور میرے شوہر کا اور میرے بچوں کا علاج کرائے ۔دوسری جانب اس کے شوہر کا کہنا تھا کہ مجھے یہ لت برے دوستوں سے لگی جو اب عادت بن چکی ہے میں نشے کو اس لئے نہیں چھوڑنا چاہتا کیوں کہ نشہ روکنے والے ادارے مجھے نشہ ہی دیتے ہیں جس سے مجھے اس کی اور عادت ہوگئی ہے اور اب تو میں ویسے ہی ایک جان لیوا بیماری HIVایڈز میں مبتلا ہوں بس جو تھوڑا وقت ہے وہ اس میں جینا چاہتا ہوں روزانہ 200روپے کا نشہ کرتا ہوں شام کو ہوٹل پر جاکر لوگوں کی مالش کرکے 300سو روپے کما لیتا ہوں جو میرے نشے کے لئے کافی ہیں اور نشہ نہیں چھوڑنا چاہتا کراچی لیجاکر سماجی ادارے والے مجھے بند کردیں گے پھر اپنے بچوں سے دور وہاں مر جاؤں گا اس سے بہتر ہے میں اپنے گاؤں اپنے گھر میں مروں اب تک جتنے بھی سماجی ادارے کے ملازمین آئے ہیں وہ سب صرف فوٹو بنواکر ہماری تذلیل کرتے ہیں ہمیں اس لت سے نجات دلوانے کے بجائے نشہ کرنے کے لئے انجیکشن دیتے ہیں جس سے ہم یہ نشہ نہیں چھوڑسکتے ہے کیوں کہ سانگھڑ میں گزشتہ 30سال سے نشہ باآسانی مل جاتا ہے ۔دوسری جانب نشے کے عادی افراد اور HIVایڈزکے مریضوں پر گزشتہ پانچ سال سے ریسرچ کرنے والے ماہر ایڈوکیٹ محمد قذافی کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ضلع سانگھڑ میں 2ہزار سے زائد سرنجز کے ذریعے نشہ کرنے افراد اور دو سو سے زائد HIVایڈز کے مریضوں کے انٹرویوز کئے انٹریو دینے والوں نے بتایا کہ انہیں زندگی کے اس مقام پر گھریلو ناچاکیوں بیروزگاری اور کم عمر میں شادی ہونے کی وجہ سے پریشان ہونے کے بعد نشے اور دیگر معاشرتی برائیوں میں شامل ہوئے جس سے ان اور ان کے خاندانوں میں دنیا کی خطرناک اور مہلک ترین بیماری HIVایڈز داخل ہوچکی ہے جس کا ضلع سانگھڑ میں علاج ناممکن ہے جس کی وجہ سے اب تک 100سے زیادہ HIVایڈز کے مریض اور 500سے زیادہ سرنجز کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن دوسری جانب سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام جس کا سالانہ بجٹ اربوں روپے میں ہے لیکن ضلع سانگھڑ کے چندسو HIVایڈز کے مریضوں کو علاج فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہے ضلع سانگھڑ کے کسی بھی سرکاری اسپتال اور سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کی جانب سے HIVایڈز کے مریضوں کے لئے ضلع میں کوئی بھی ڈی ٹاکس سینٹر موجود نہیں ہے اور نہ ہی ضلع میں سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کا فوکل پرسن موجود ہے دوسری جانب سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے ماتحت ضلع سانگھڑ میں گزشتہ پانچ سالوں سے HIVایڈز کا پروگرام چلانے والا سماجی ادارہ برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن صرف اور صرف کاغزی کاروائی تک محدود ہے سماجی ادارے نے اس پروگرام میں اب تک کروڑوں روپوں کی کرپشن ہوچکی ہے جبکہ اس پروگرام کو چلانے کے لئے ضلع سانگھڑ میں ڈسٹرکٹ ایڈز کونسل بھی قائم ہے جس کے چئیر مین ڈپٹی کمشنر سانگھڑ ہیں اور ضلع کے تمام افسران سیاسی و سماجی شخصیات اس کی ممبر ہیں وہ بھی گزشتہ پانچ سال سے غیر فعال ہے ۔سماجی ادارے برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن کے ڈسٹرکٹ مینیجر علی شیر ڈاہری اور چئیرمین ڈسٹرکٹ ایڈز کونسل ڈپٹی کمشنر عمر فاروق بلو سے اس پروجیکٹ کے حوالے سے معلومات کے لئے موبائل نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کا موٗقف شامل نہیں ہوسکا ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button