پاکستانتازہ ترین

عمران خان اور جمائما میں معاہدے اور ادا کی گئی رقم میں بھی تضاد ہے،چیف جسٹس

اسلام آباد(ڈیسک نیوز) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سپریم کورٹ کو بتا دیا کہ آف شور کمپنیوں کا مقصد ہی ٹیکس سے بچائو اور ملکیت چھپانا ہے ، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ عمران خان اور جمائما میں معاہدے اور ادا کی گئی رقم میں بھی تضاد ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کی آف شور کمپنیوں اور اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 1983 میں خریدا جانے والا لندن فلیٹ اپنے کسی ٹیکس گوشوارے میں ظاہر نہیں کیا۔ستمبر 2002 میں عمران خان نے ٹیکس ایمنسٹی کے تحت یہ فلیٹ ڈکلیر کیا ، فلیٹ غیرملکی آمدن سے خریدا تھا ، اس لئے پاکستان میں ڈیکلیئر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔چیف جسٹس نے کہا کہ حنیف عباسی کا بھی تو یہی موقف ہے جس کی بنیاد پر عمران خان صادق اور امین نہیں رہتے ، نعیم بخاری نے کہا کہ نیازی سروسز ظاہر کرنے کی کوئی قانونی پابندی نہیں تھی۔نعیم بخاری نے بنی گالہ کی جائیداد کے حوالے سے عمران خان اور جمائما خان کے مابین رقم کے لین دین کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا ، چیف جسٹس نے پھر ریمارکس دیئے کہ آپ کے مطابق عمران خان نے بنی گالہ کی زمین خریدنے کے لیے رقم جمائمہ سے قرض لی۔اس حوالے سے معاہدے اور جائیداد کی خریداری کے لیے ادا کی جانے والی رقم میں تضاد ہے ، نعیم بخاری نے جواب دیا کہ یہ ریاضی کی غلطی ہو سکتی ہے۔عدالت نے نعیم بخاری کو ہدایت کی کہ تفصیلی گوشوارے عدالت میں پیش کئے جائیں جس کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں  پٹاخہ بھی چلے تو پاکستان پر الزام لگانا بھارتی حکمرانوں کا وطیرہ ہے،چوہدری نثار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker