تازہ ترینعلاقائی

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اوکاڑہ میں سہولتیں ہونے کے باوجود عوام کو سہولتیں میسر نہیں

hosiptal okaraاوکاڑہ (محمد مظہررشید)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اوکاڑہ جہاں مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے تمام وسائل ہونے کے باوجود ہسپتال انتظامیہ، پیرامیڈیکل سٹاف اورڈاکٹرزایک مریض کو دی جانے والی سہولیات دینے سے قاصر ہیں ان سب کی لاپرواہی اور نااہلی نے ڈاکٹرزاور پیرامیڈیکل سٹاف کے مسیحا ہونے کی صفت پر بدنماداغ لگا دیا ہے طبی سہولیات کے فقدان کے باعث ایم پی اے کو سی ایم ایچ منتقل کرنا پڑا ڈی ایچ کیو میں تعینات بعض ڈاکٹرزکو دس سے پندرہ سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن وہ اوکاڑہ چھوڑنے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں آبادی کے لحاظ سے ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرزکی تعدادانتہائی کم ہے اوکاڑہ شہر کے وسط میں واقع ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرزہسپتال جہاں صرف وہ لوگ اپنے مرض کا اعلاج کرانے آتے ہیں جنکی معاشی حالت انتہائی کمزور ہوتی ہے جو بمشکل دو وقت کی روٹی کمانے کیلئے محنت مزدوری کرتے ہیں مگر ان کے پاس بیماری کی حالت میں دوائی لینے کیلئے پیسے نہیں ہوتے مگرشہر کو متوسط اور پوش طبقہ اس سرکاری ہسپتال کا رخ نہیں کرتا کیونکہ یہاں پر حکومت کی طرف سے وسائل مہیا ہونے کے باوجود مریض کو دی جانے والی سہولیات اور علاج معالجہ کا فقدان ہے اس ہسپتال کا ایک سلاٹر ہاؤس کا نام دیا جائے تو ہرگز بے جا نہ ہوگاکیونکہ اس ہسپتال میں مریضوں کاعلاج معالجہ کرنے کی بجائے کسی دوسرے ہسپتال میں منتقل کرنے کے اقدامات کردیئے جاتے ہیں جو لوگ صاحب استطاعت ہوتے ہیں وہ اپنے مریض کو فوری طورپراس سے بہتر ہسپتال شفٹ کرلیتے ہیں مگر جو معاشی طور پرغیر مستحکم ہوتے ہیں ان کا مریض اپنے پاؤں پر چل کر جانے کی بجائے چارپائی پر ہی جاتا ہے اوکاڑہ شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں طبی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف میں لاپرواہی اور غفلت کاعنصربھی عام ہے جس کے متعلق عوامی حلقوں نے بارہادفعہ اعلیٰ حکام کو باور کرایا اور احتجاجات بھی کئے گئے مگر خادم اعلیٰ پنجاب کے سابقہ دور سمیت آج تک انکی ایک نہیں سنی گئی دوسری ستم ظریفی یہ ہے کہ اوکاڑہ کی سیاسی قیادت بھی اقتدار میں ہونے کے باوجود عوام کو صحت جیسی اہم اور بنیادی سہولت فراہم کرنے میں یکسر ناکام ہے ڈی ایچ کیو ہسپتال کومعرض وجود میں آئے ہوئے تیس سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس طویل عرصہ کے دوران مجموعی کارکردگی کا گراف نچلی سطح میں نمایاں نمبر پر ہے جبکہ شرح اموات ناقابل برداشت ہے ڈی ایچ کیو ہسپتال کی کارکردگی کی ایک مثال چند روزقبل ایک حکومتی ایم پی اے کی اچانک طبعیت خراب ہوئی جنہیں ڈی ایچ کیو لایا گیامگرسہولیات کے فقدان کے باعث انہیں فوری سی ایم ایچ اوکاڑہ کینٹ منتقل کرنا پڑااس صورتحال کے پیش نظرڈی ایچ کیو کی کارکردگی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے عوامی حلقوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اوکاڑہ میں طبی سہولیات کے فقدان ،انتظامیہ ،پیرامیڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرز کی روائتی غفلت اور لاپرواہی کے خلاف زبردست احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہاز شریف سے اپیل کی ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اوکاڑہ کی طرف خاص توجہ دی جائے تاکہ ساڑھے تین لاکھ آبادی پر مشتمل اوکاڑہ شہرودیہات کوبنیادی سہولیات میسر آسکیں اور عرصہ دراز سے تعینات ڈاکٹرز کوتبدیل کرکے انکی جگہ قابل اورمستندڈاکٹرزکو تعینات کیا جائے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں آبادی کے تناسب سے سپیشلسٹ ڈاکٹرزکی سیٹیں بڑھائی جائیں اور مطوبہ تعدادکو پورا کیا جائے

یہ بھی پڑھیں  سنجھورو: لینڈ مافیانے عدالتی حکم کو پس وپیش ڈال کر غیر قانونی قبضے جمالئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker