تازہ ترینعلاقائی

مانسہرہ:ـ پولیس نے تین مختلف وارداتوں میں ملوث نوعمر ڈکیت گرفتار کرلیے

مانسہرہ(قاضی بلال سے) ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرکے دفتر اور، تھانہ سٹی کے ناک تلے اور سیشن کورٹ میں قریب وکلاء اور صحافی کا دفتر لوٹ کر پیغامات چھوڑنے والے چار رکنی نو عمر گروہ کو پولیس نے ایک پرائیوٹ سکول لوٹنے کے بعد گرفتار کر لیا۔ پولیس نے تین مختلف وارداتوں میں ملوث نوعمر ڈکیت گروہ کی نشاندہی پر چوری کردہ کمپیوٹرز، ایل سی ڈیز اور دیگر مال مسروقہ برآمدکر لیا۔ عدالت نے نو عمر ڈکیت گروہ کو دو روزہ پولیس ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ نوعمر گروہ نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے غیر قانونی افعال پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے معافی کی درخواست کر دی۔ اس ضمن میں ایس پی محمد عارف نے گذشتہ روز تھانہ سٹی مانسہرہ میں ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر محمد ایاز اور ایس ایچ او تھانہ سٹی شیراز احمد کی موجودگی میں منعقدہ پریس بریفنگ کے موقع پر صحافیوں کو اطلاعات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ماہ قبل کچہری چوک مانسہرہ میں مقامی اخبار کے دفتر کے تالے توڑ کر نامعلوم ڈکیت گروہ نے دفتر سے ایک عدد کمپیوٹر اور نقد رقم چوری کر لی تھی۔ جس پر پولیس نے مقدمہ رجسٹر کرتے ہوئے اسے پولیس اور صحافیوں کے مابین تصادم کروانے کی کوشش قرار دیا۔ اسی دوران ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر اور تھانہ سٹی کی ناک تلے 8 وکلاء کے دفاترکے تالے توڑ کر نامعلوم ڈکیت گروہ نقدی اور لیپ ٹاپ چوری کرنے میں کامیاب ہوئے اور چوری کرنے کے ساتھ ساتھ وکلاء کے دفاتر میں انتہائی فحش اور نازیبا جملے تحریر کر دیئے۔ ڈکیتی کی کامیاب واردات کے بعد پولیس نے صحافیوں کے ساتھ ساتھ اسے وکلاء کے ساتھ بھی لڑانے کی کوشش قرار دیا۔ پولیس نے مختلف زاویوں سے ہر دو وارداتوں میں ملوث گروہ تک رسائی حاصل کرنے کی کوششیں شروع کی ۔مگر پولیس کو کسی ذرائع سے ڈکیت گروہ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔ ایس پی نے بتایا کہ ڈکیت گروہ نے پولیس کی جانب سے کاروائی میں کامیابی نہ ملنے پر دوبارہ ایک پرائیوٹ تعلیمی ادارے میں ڈکیتی کی کامیاب واردات کی ۔ سکول کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول سے پولیس نے ڈکیت گروہ میں ملوث ایک نوعمر لڑکے حمزہ ولد طارق سکنہ محلہ کنگڑ مانسہرہ تک رسائی حاصل کرکے اسے گرفتار کرلیا اور دوران تفتیش اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ناموں سے بھی پردہ چاک کر لیا۔ پولیس نے حمزہ کی نشاندہی پراس کے دیگر ساتھیوں محمد رزاق شاہ ولد عابد شاہ سکنہ شاہنواز چوک ،احمد ولد ثاقب سکنہ محلہ کنگڑ مانسہرہ،نعمان شاہ ولد حسیب شاہ سکنہ محلہ سائیں آباد مانسہرہ کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے قبضہ سے کمپیوٹر ، ایل سی ڈیز، سپیکر، USB برآمد کر لیں۔ اس موقع پر انہوں نے نوعمر لڑکوں سے میڈیا کے سامنے ان کے جرائم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈکیتی کا پروگرام ظفر پارک مانسہرہ میں بیٹھ کر طے کیا تھا اور اس کے بعد مقامی صحافی کے دفتر سے کمپیوٹر اور نقدرقم چوری کر کے کمپیوٹر کالج روڈ پر واقع دکان میں 1600 روپے میں فروخت کیا۔ جبکہ اس واردات میں کامیابی کے بعد دیگر واردتیں کی۔ اس موقع پرڈکیت گروہ نے بتایا کہ وہ نویں اور دسویں جماعت کے طلباء ہیں اور ان سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ جس کے لئے وہ متاثرین سے معذرت کرتے ہیں۔ ایس پی نے بتایا کہ پولیس ڈکیتی کی وارداتوں کے متعلق صحافیوں اور وکلاء کو پولیس کے ساتھ لڑانے کی کوشش قرار دے رہے تھے اور ڈکیتی کی ان وارداتوں کو ٹریس کرنے کے لئے سابقہ ڈکیت گروہوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف تھے۔ مگر انہیں اس نوعمر ڈکیت گروہ کے بارے میں علم نہیں تھا اور یہ ڈکیت گروہ تعلیمی ادارے میں ڈکیتی کے بعد فوٹیج کے حصول سے پولیس کے ہتھے چڑھ گیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker