شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلہ آنے پر خوشی ہوئی ہے،عمران خان

ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلہ آنے پر خوشی ہوئی ہے،عمران خان

کراچی(بیوروچیف) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آج انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ ن لیگ کے کرپٹ درباری مجھے اور میرے شوکت خانم کو برا بھلا کہتے تھے آج انہیں منہ کی کھانی پڑی ۔ مجھ پر ایک ایسے شخص نے کیس کیا جو خود منشیات فروش ہے اور اس پر منشیات فروشی کا مقدمہ چل رہا ہے، اللہ کاشکرگزارہوں، سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرتے ہیں، ایک سال کی تلاشی کے بعد اپنے حق میں فیصلہ آنے پر خوشی ہوئی ہے،پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے مجھے تلاشی کے بعد بری کیا جبکہ حدیبیہ کیس میں نواز شریف کو بچانے پر نیب کی سخت مذمت کرتا ہوں، جہانگیر ترین کو نااہل قرار دینے پر بہت افسوس ہوا،جہانگیر ترین سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے بزنس مین ہیں۔ سپریم کورٹ سے اپنے حق میں فیصلہ آنے کے بعد کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں سب سے زیادہ تلاشی میری ہوئی ہے اور عدالتی فیصلے پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ میرا موازنہ منی لانڈرنگ کے بادشاہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ میں منشیات فروش کا دائر کردہ کیس ایک سال تک چلا۔ پوچھتا ہوں نواز شریف کو کیس کے لئے کوئی اور شخص نہ ملا۔ نواز شریف کو کیس کرنے کے لئے منشیات فروش کے سوا کوئی نہیں ملا، ایک سال کی تلاشی کے بعد میرے حق میں فیصلہ آیا، میں نے اپنی ساری منی ٹریل عدالت میں دی اور 60 دستاویزات جمع کرائیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی چیئرمین نے چیلنج کیا کہ کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی اس طرح تلاشی لی گئی تو اس سے کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔ خوشی یہ ہے کہ ایسی تلاشی کے بعد میرا سب کچھ لوگوں کے سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تکلیف یہ ہے کہ میرا ایسے شخص سے ایک سال تک موازنہ کیا گیا جس نے غریب قوم کا پیسہ چوری کیا، ن لیگ کے کرپٹ لوگ سپریم کورٹ کے باہر کھڑے ہوکر مجھے برا بھلا کہتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں  ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی