پاکستانتازہ ترین

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کرلیا اب کسی کیلئے کچھ نہیں کریں گے، پاک فوج

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کرلیا اب کسی کیلئے کچھ نہیں کرینگے ٗ کلبھوشن کی اہل خانہ سے ملاقات دباؤ کا نتیجہ نہیں، مغربی ملکوں اس اقدام کو سراہا ٗبھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہو ٗ کسی بھی دہشتگرد تنظیم کا پاکستان میں کوئی نیٹ ورک موجود نہیں ہے ٗ امریکا اور افغان حکام ہمارے تعاون سے بخوبی آگاہ ہیں،حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی نہ کرنے کا امریکی موقف کارآمد نہیں،کسی ملک کے کہنے پر ڈو مور نہیں کرسکتے ٗملکی سلامتی پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرینگے ٗدو ہزار سے زائد فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے ٗ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کر نے والے کامیاب نہیں ہونگے ٗ 2013کے مقابلے میں آج کا کراچی بہت بہتر ہے ٗ شہر کے حالات مزید بہتر ہونگے ٗ فوجی عدالتوں میں پہلے مرحلے میں 274 کیسز آئے جس میں 161 کو موت کی سزا سنائی گئی تھی ٗپاک فوج سی پیک منصوبے کو بھر پور سیکیورٹی فراہم کرے گی ۔جمعرات کو میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ بھارت نے 2016 میں سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ رچایااور تحقیقات سے پتا چلا کہ بھارتی دعویٰ جھوٹ تھا۔انہوں نے کہاکہ 2017 کے دوران بھارتی اشتعال انگیزیوں میں تیزی آتی رہی اور بھارت ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ ہماری توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مرکوز رہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک مؤثر سیاسی جدوجہد میں تبدیل ہوچکی ہے۔بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ بھارت ایل او سی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے اور رواں برس لائن آف کنڑول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 54 افراد آزاد کشمیر میں شہید ہوئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری رقم ادا کی ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا پاکستان میں کوئی نیٹ ورک موجود نہیں ہے ٗ اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دفتر خارجہ بھی اس حوالے سے اپنا موقف امریکا کے سامنے پیش کر چکے ہیں انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے پاکستان میں یکطرفہ کارروائیوں کا اشارہ دیا گیا تاہم میں بتانا چاہتا کہ ہم دوستوں سے تنازعہ نہیں چاہتے لیکن ملک کی سلامتی پر کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اب پاکستان کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا ہم پیسے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے،ہم نے بہت کرلیا اب کسی کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اب پاکستان کو نہیں بلکہ افغانستان اور امریکا کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام گروپس کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی ہے، امریکا اور افغان حکام ہمارے تعاون سے بخوبی آگاہ ہیں اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا امریکی موقف کارآمد نہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے حال ہی میں امریکا کی جانب سے دی گئی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم کس طرح کے اتحادی ہیں ہمیں نوٹس دیئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دہشت گردی کا بھرپور مقابلہ کیا اور اپنی سرزمین میں موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا بلا تفریق صفایا کیا،یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن قوم اور فوج نے یک جان ہوکر یہ فریضہ انجام دیا، لیکن خطرات ابھی ٹلے نہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے میڈیا بریفنگ کے دوران خوشحال بلوچستان پروگرام سے متعلق بھی بریفنگ دی اور بتایا کہ اس پروگرام میں 60 ارب روپے کے پروجیکٹ پلان کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ خوشحال بلوچستان کا ڈھانچہ چار نکات پر مشتمل ہے: بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانا، منصوبوں کی فوج کی سیکیورٹی دینا، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا اور مسترد کی گئی قوم پرست قوتوں کو بیرون ملک ایجنڈے سے علیحدہ کرنا۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کو گمراہ کرنے والے کامیاب نہیں ہوں گے، 2 ہزار سے زائد فراری ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوگئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوشحال بلوچستان پروگرام کی تجویز پیش کی، جس کا ڈھانچہ 4 نکات پر مشتمل ہے۔کراچی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ 2013 کے مقابلے میں آج کا کراچی بہت بہتر ہے اور وہاں امن و امان برقرار ہے اور کراچی کے حالات مزید بہتر ہوں گے اور ایپکس کمیٹی کے ذریعے رینجرز اور پولیس کی کوآرڈینیشن میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 2003 سے 2013 تک عام شہریوں کی ہلاکتوں میں تیزی آئی تھی لیکن 2017 تک اس میں کافی حد تک کمی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے کارروائیں کرتے ہوئے کراچی اور لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کیا اور جو دہشت گرد بمبار کارروائیاں کرنے کے لیے نکال دیے گئے تھے انہیں بھی گرفتار کیا۔فوجی عدالتوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس نے بتایا کہ فوجی عدالتوں میں پہلے مرحلے میں 274 کیسز آئے جس میں 161 کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 20 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو انکے وطن بھجوایا ہے ٗ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیے گئے، آپریشن رد الفساد کے دوران سال بھر میں ہزاروں آپریشن کیے گئے، فاٹا میں آپریشن کی وجہ سے جانیوالی آبادی کو دوبارہ بسایا جارہا ہے، فاٹا کے نوجوان کو پہلے تعلیم دی، آرمی کے تحت ہاسٹلز میں رکھا۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی ایران میں حکام سے مفید بات چیت ہوئی، ایران نے سرحدی علاقوں میں حساس مقامات پر باڑ لگانی شروع کردی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ سوئٹزر لینڈ نے براہمداغ بگٹی کی درخواست مسترد کی۔میجر جنرل آصف غفورنے کہا کہ پاکستان کے اندرکارروائی کی باتیں کی جارہی ہیں ٗپاکستان کی حفاظت کیلئے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ 25دسمبر کو بھارت نے پراپیگنڈا کیا تو پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری دکھاتے ہوئے نہیں چلایا، ففتھ جنریشن وارفیئر میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔میجر جنرل آصف غفورنے کہا کہ بہادر کشمیریوں کو بھارت 70سال کے دوران نہیں دبا سکا۔پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی سیکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج اس منصوبے کو بھر پور سیکیورٹی فراہم کرے گی۔بھارتی وزیر خارجہ کے بیان کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ آپ اچھا کام بھی کریں گے تو بھارتی میڈیا اس کی مخالفت کرے گا، اگر ہم نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس سے ملنے کی اجازت دی تو بھارت کو اسے سراہنا چاہیے تھا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے عالمی دباؤ پر کلبھوشن یادیو کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی گئی ہے جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر پاکستان کسی بھی طرح کا عالمی دباؤ لیتا تو پھر اسے قونصلر رسائی دیتا، لیکن پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کے اہلخانہ سے ملاقات کرائی گئی تھی۔وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بیان کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وفاقی وزیر کا بیان غیر ذمہ دارانہ تھا۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان فوجی تعاون کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف کے دورہ کابل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان روابط میں بہتری آئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا پیغام دیا جس میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان کے ریاستی اور غیر ریاستی دشمن پاکستان کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے لیے متحد ہو سکتے ہیں تو پھر پاکستانی قوم اپنے دفاع کے لیے ایک کیوں نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button