پاکستانتازہ ترین

فلسطین کے معاملے پر خاموشی افسوسناک ہے،مشاہد حسین سید

اسلام آباد( پریس ریلیز ): پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور سینیٹ کی دفا ع کمیٹی کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفادمیں سیاسی جماعتیں ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر تعلیم، معیشت، توانائی اور انتہاء پسندی پر متفقہ پالیسی بنائیں، اور ان پر دس سال تک سیاسی سیز فائر کیا جائے ، فلسطین کے معاملے پر خاموشی افسوسناک ہے ،ڈرون حملے ملکی سلامتی کے لئے خطرہ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ، بلوچستان کے مسئلے پر جب تک سوچ نہیں بدلے گی حالات بہتر نہیں ہوں گے ،کراچی میں 8500ملزم چھوٹ گئے ، حالات بہتر بنانے کے لئے سیاسی مکالمہ شروع کیا جائے اور پولیس کو کردار دیا جائے ، فاٹا میں اصلاحات نہ کرنا ریاست کی کمزوری ہے ، فاٹا کو برطانوی طرز پر نہ چلایا جائے ،دفاعی بجٹ کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے نگرانی ضروری ہے ، مضبوط فوج اور دفاع کا حامی ہوں ،غیر روایتی فوجی خطرات کے لئے بھی حکمت عملی ہونی چاہیئے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسلم لیگ ہاؤس میں نیشنل یوتھ اسمبلی کے صدر حنان عباسی کی قیادت میں ملنے والے وفد اور اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پارٹی کے سینئر نائب صدر سید فقیر حسین بخاری،وزیر اعظم کے مشیر چوہدری امتیاز احمد رانجھااو ر پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات غلام مصطفی ملک بھی موجود تھے۔مشاہد حسین سید نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی تعمیر وترقی میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ،تحریک پاکستان میں قائداعظم نے دو طبقوں کو موبلائز کیا جس میں خواتین اور نواجوان شامل تھے ، انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے پہلے پاکستان ،پھر پارٹی اور پھر ذات مقدم ہے ، ہمارے رول ماڈل قائداعظم ،فاطمہ جناح اور علامہ اقبال ہیں ، نوجوان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں اور پاکستان کو بدلنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ،انہوں نے کہا کہ نیشنل یوتھ اسمبلی ایک مثبت پلیٹ فارم ہے جہاں نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں آزمانے کے بھر پور مواقع دیئے جا رہے ہیں ،انہوں نے خاص طور پر نیشنل یوتھ اسمبلی کے صدر حنان عباسی کی خدمات کو سراہا اور انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ،نیشنل یوتھ اسمبلی کے مختلف ممبران کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ فلسطین کے ساتھ مذہبی اور جذباتی وابستگی ہے ،مسلم لیگ نے 1920میں میڈیکل مشن بھیجا تھا ،23مارچ کو قرار داد پاکستان کے ساتھ ساتھ آزاد فلسطین کی قرارداد بھی منظور کی گئی تھی،74میں PLOکو باضابطہ تسلیم کیا ، جبکہ 2005میں حماس کے وزیر خارجہ کو نقد3ملین امداد دی گئی ۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین پر سیاسی قیادت اور میڈیا اپنا کردار ادا نہیں کر رہا ، جبکہ حکومتی سطح پر خاموشی بھی تشویشناک ہے ، ڈرون حملوں کے متعلق ایک سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ یہ حملے ملکی سالمیت کے لئے خطرہ اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ، اوبامہ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ڈرون حملے بند اور ڈائیلاگ کا عمل شروع کرنا چاہیئے،انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں پر لوگوں کا رویہ منافقانہ ہے ،ان کی کھل کر مخالفت ہونی چاہیئے ،مشاہد حسین سید نے بلوچستان کے حوالے سے سوال پر کہا کہ بلوچستان میں جب تک لاشیں ملتی رہیں گی مسائل حل نہیں ہوں گے ،بلوچستان میں ریاست نے غلطیاں کیں ، لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھا ،ہماری غلطیوں سے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں ،افغانستان میں 21غیر ملکی ٹریننگ کیمپ ہیں ،لوگوں کو تعلیم دے کر قومی دھارے لانے کی ضرورت ہے ،مشاہد حسین سید نے کراچی کے حالات پر کہا کہ انہیں کراچی کے فسادات پر دلی دکھ ہے ،امن وامان قائم رکھنے کے لئے پولیس کو فری رول دینا ہو گا،پولیس نے 8500ملزمان پکڑے جو سفارشوں پر چھوٹ گئے ،کراچی میں امن بات چیت کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے ،سیاسی جماعتوں کو اپنے انتہا پسند دستے ختم کرنے چاہیءں ،،مشاہد حسین سید نے کہا کہ فاٹا میں اصلاحات نافذ ایک بڑی ناکامی ہے ، فاٹا کو برطانوی طرز پر چلانے اور اسے علاقہ غیر سمجھنے کی بجائے پاکستان کا حصہ سمجھا جائے ، ڈنڈے کے ذریعے معاملات چلانے کی بجائے قانون کی عمل داری کو یقینی بنایا جائے، فاٹا میں قیام امن کے لئے 20ہزار پڑھے لکھے نوجوانوں کو گلف میں نوکریاں دی جائیں ،انہوں نے کہا کہ اب فوج وہاں ترقیاتی کام اور تعلیمی ادارے قائم کر رہی ہے ،مشاہد حسین سید نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن نہیں ہو رہا ،البتہ فوجی دستے وہاں تعینات ہیں ،مشاہد حسین سید نے کہا کہ سیاست اولمپک ریس ہے ،جس میں محنت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھا جا سکتا ہے ،انہوں نے کہا کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے ،ہمیں مستقبل کے لئے ابھی سے اپنے اہداف طے کرنے چاہیءں اور غلامانہ ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیئے ،نیشنل یوتھ اسمبلی کے صدر حنان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوانون کے مستقبل اور ان میں تعمیر سرگرمیوں کے لئے مسائل کے حل میں رکاوٹ آئی ہے،یوتھ بجٹ میں اضافہ کیا جائے ،پچھلے یوتھ بجٹ میں ہر نوجوان کے حصے میں 35پیسے آئے تھے،جس سے چیونگم بھی نہیں خریدی جا سکتی ،حکومت اس معاملے پر سنجیدہ اقدامات اختیار کرے،انہوں نے کہا کہ نیشنل یوتھ اسمبلی سیاسی اور سماجی شعبوں میں جوانوں کو راہنمائی فراہم کر رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  آسٹریلوی ٹیم کے آل راؤنڈر شین واٹسن کا عالمی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker