شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / اثاثہ جات ریفرنس: صدر نیشنل بینک سمیت 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

اثاثہ جات ریفرنس: صدر نیشنل بینک سمیت 3 ملزمان پر فرد جرم عائد

اسلام آباد(بیوروچیف) احتساب عدالت میں قومی احتساب بیور(نیب)کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار پر آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کے ضمنی ریفرنس میں نامزد ملزمان صدر نیشنل بینک سعید احمد، منصور رضا اور نعیم محمود پر فرد جرم عائد کردی گئی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے کی روشنی میں نیب کی جانب سے سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار کے خلاف آمدن سےزائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے تینوں ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی،تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا، جس کے بعد عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب استغاثہ کے تینوں گواہوں کو طلب کرلیا۔سماعت کے دوران ضمنی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست مسترد ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔احتساب عدالت کے جج کو بتایا گیا کہ شریک ملزم سعید احمد نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔اس پر جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کا احترام ہے لیکن ابھی وہاں سے کوئی حکم نہیں آیا، ملزمان پر فرد جرم عائد کردیتے ہیں، کوئی حکم آیا تو یہ کارروائی ختم ہوجائے گی۔دوران سماعت شریک ملزم منصور رضا رضوی نے گزشتہ سماعت پر ہونے والی بد مزگی پرعدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی اور بتایا کہ جاوید اکبر شاہ اب ان کے وکیل نہیں ہیں۔بعدازاں ریفرنس میں نامزد شریک ملزمان پر فرد جرم عائد کردی گئی، تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا۔سماعت کے بعد احتساب عدالت نے 11 اپریل کو استغاثہ کے گواہان کو طلب کرلیا۔واضح رہے کہ ملزمان پر نیب آرڈیننس کی دفعہ 9A5 اور 6 لگائی گئی جبکہ ملزمان پر اسحاق ڈار کی جرم کے ارتکاب میں معاونت کا الزام ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں ملزم منصور رضا رضوی کے وکیل اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر جاوید اکبر شاہ کی احتساب عدالت کے جج سے سخت جملوں کے تبادلے کے بعد عدالت کا ماحول تلخ ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  راؤ انوار کی گرفتاری کیلئے انٹیلی جنس اداروں سے مدد طلب