پاکستانتازہ ترین

یہودی لابی کا نظریہ پاکستانی عوام میں ڈالنے کی کوشش جے یو آئی کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی،مولانا فضل الرحمن

مانسہرہ(قاضی بلال سے) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے نعرے لگانے والے یہودیوں اور ان کے ایجنٹوں کو پاکستان اور پاکستانی سیاست میں داخل کرنے کی راہ ہموار کر کے یہودی لابی کو کھلم کھلا سپورٹ کر رہے ہیں۔ سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کے عنوان سے نواز، زرداری اور عمران یہودی لابی کو سیاست میں ملوث کرنے کی خاطر بیرون ملک جا کر ووٹ لینے کے بہانے ان کے نظریے کو پاکستان اور پاکستانی سیاست میں ملوث کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یہودی لابی کا نظریہ پاکستانی عوام میں ڈالنے کی کوشش جمعیت علماء اسلام کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ ملک میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں میں سے ماسوائے پی پی پی ، ’’ن‘‘ لیگ اور پی ٹی آئی کے دیگر رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کی حمایت صرف بیرونی ایجنڈے کی پاکستانی سیاست میں مداخلت روکنے کے لئے نہیں کر رہی اور دیگر جماعتیں بیرون ملک جا کر اس طرح ووٹ مانگنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں جس طرح نواز، زرداری اور نواز شریف رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز مانسہرہ میں جامعہ عریبہ سراج العلوم ٹھاکرہ میں علماء کونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سابق امیدوار قومی اسمبلی سید قاسم شاہ، سابقہ سینیٹر سید ہدایت اللہ شاہ، سابق خطیب ہزارہ قاضی خلیل الرحمان،سابق صوبائی وزیر حبیب الرحمان تنولی اور امیدوار صوبائی اسمبلی ملک نوید بھی موجود تھے۔ قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے باغی کارکنوں کو JUIمیں شمولیت پر مبارک باد دیتے ہوئے انہیں پارٹی ٹوپیاں پہنائیں۔ مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کے صوبائی حکومت کے وقت خیبر پختونخوا کا قرضہ 87ارب تھا اور اب300ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔ جسے آئندہ 40سال تک دو نسلیں بھی نہیں اتار سکتیں۔ آج عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مذہب پر تہمتیں لگاکر حقوق کی تشریح اور وضاحت کس بنیاد پر کر رہے ہیں اس کا انہیں علم نہیں۔البتہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے وہ قرآن و سنت کو ہی مقدم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر اور سیاسی لیڈر نے مذہب اور ریاست کے مابین رشتے کا خاتمہ امن کے لئے مشروط قرار دیا۔ جس کی انہوں نے مخالفت کی۔ کیونکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے مگر انہوں نے خوان خرابے، علاقائیت۔ لسانیت، قوم پرستی ، سندھی، بلوچی، پشون، سرائیکی، پنجانی کو لڑا کر اپنے مقاصد حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام سے آج تک انگریز دور کی تعلیمات کی روشنی میں گذشتہ ستر سالوں سے حکمران ملک چلا رہے ہیں۔ ہمارے ملکی نظام اور ملکی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں یہودی لابی برسرپیکار ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا اور اسلام کے بغیر اس کا استحکام نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ JUIپاکستانی سیاست کا اہم جزو ہونے کی وجہ سے اسے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھی اسلامی معاشرے کو قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو ہم پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے الزامات عائد کر دیئے ہیں۔ انہیں لبرل، سودی، شرابی، زانی معاشرہ درکار ہے۔ جبکہ JUIاس کی مخالفت پہلے بھی کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ کیونکہ طائف کے معاہدہ میں زناء شراب، سود اور دیگر خلاف شریعت اقدامات سے مستثنیٰ کئے جانے کی شرط اسلام کی قبولیت کے لئے پیش کی گئی۔ مگر نبی کریم ﷺ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ کیونکہ یہ اسلام کے خلاف تھیں۔ انہوں نے کہا انگریز کی سوچ اور اس کی لابی سے ہمیں آج تک نجات نہیں ملی اور ملکی معیشت ان کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی اسے آزاد اسلامی ریاست نہیں بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ علماء کا کردار ہر دور میں اسلام کے رائج کرنے کے لئے رہا ہے اور آئندہ بھی ان کا ایجنڈا اسلام کا نفاذ ہی ہو گا۔ جس سے وہ کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ان کے اصولوں اور نظریات پر کوئی سودے بازی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سیاست کے پیروکار اپنی سیاست اپنے پاس رکھیں ۔ JUI نے انبیاء کرام کے طرز عمل جیسی سیاست کرنی ہے۔ جنگ اول و دوئم میں مغرب نے انسانیت کو ختم کیا۔ جب افرادی قوت ختم ہوئی تو عورتوں پر فلسفہ جھاڑ کر گھر سے باہر نکلنے کی تعلیم دی گئی۔ ہم نے ان حالات میں اسلام اور انبیا کرام کا نام پکڑ رکھا ہے اور اسے زندہ وجاوید کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے سٹیٹ بنک کے افتتاح کے موقع پر مغرب کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مغرب نے جنگیں اور تباہیاں ہی دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی کامیابی کی ضامن اسلامی طرز زندگی ہے اور سودی نظام کی مخالفت نہ صرف ان کی جماعت کر چکی ہے بلکہ پاکستان کے 98فیصد عوام سروے کے دوران سود کے مخالفت کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ JUIملکی معشیت اور اس کے اندر ہونے والی سازشوں کو سمجھ رہی ہے اور ان کا ڈٹ کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا علماء کو تقسیم کرنے کی کوشش کے لئے ماہانہ وظیفہ کے نام پر انہیں مخالفت پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ مگر اس ملک و صوبے کے علماء کا کردار لائق تحسین ہے۔ جنہوں نے بھوک برداشت کرنے کو فوقیت دی مگر اپنے اصولوں پر نہ تو کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کوئی سودے بازی کی۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل اسلامی نظریات کا دفاع کرتے ہوئے بھرپور طریقے سے نہ صرف انتخابات میں حصہ لے گی بلکہ ان لابیوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دے گی۔

یہ بھی پڑھیں  ہمارے دورہ پاکستان سے کرکٹ کی فتح ہوئی ہے،زمبابوے کرکٹ کپتان اورآفیشئیلز

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker