شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرو:الیکشن میں پرنٹنگ پریس،کیٹرنگ،ٹینٹ سروس ،کار رینٹ اور شادی ہالوں کا کاروبار عروج پر

بھائی پھیرو:الیکشن میں پرنٹنگ پریس،کیٹرنگ،ٹینٹ سروس ،کار رینٹ اور شادی ہالوں کا کاروبار عروج پر

بھائی پھیرو(نامہ نگار) الیکشن میں پرنٹنگ پریس،کیٹرنگ،ٹینٹ سروس ،کار رینٹ اور شادی ہالوں کا کاروبار عروج پر۔ڈالر اور تیل کی قیمت بڑھ جانے اور لوڈ شیڈنگ بڑھ جانے سے باقی کاروبار ٹھپ۔پی ٹی آئی کے امیدوار کے کاغزات مسترد ہونے سے گراف روز بروز گر رہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق الیکشن 2018 میں الیکشن مہم زور شور سے جاری ہے اور اس کے ساتھ ہی امیدواروں نے اپنے ڈیروں پر ووٹروں کی خدمت کرکے ، چکنی چپڑی باتیں کرکے اور جھوٹے سچے وعدے کرکے ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔اس وقت سب سے زیادہ کاروبار پرنٹنگ پریس اور فلیکس پرنٹنگ والوں کا ہے جنہوں نے الیکشن آتے ہی ریٹوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔کھمبیوں کی طرح اگ آنے والے امیدواروں نے اپنی تشہیری مہم چلانے کیلیے پرنٹنگ پریس کا رخ کر رکھا ہے جبکہ رش ہونے کی وجہ سے پرنٹنگ پریس والے چرح چرح کے نخرے دکھا کر امیدواروں کی جیبوں پر ہاتھ صاف کر رہے ہیں۔امیدواروں کی دعوتوں کی وجہ سے کیڑنگ اور ٹینٹ سروس والوں کی بھی چاندی ہے جنہوں نے کھانا پکانے اور ٹینٹ کرسیاں لگانے کے ریٹ بھی دگنا کردیے ہیں۔کنویسنگ کیلیے ووٹروں سے رابطہ کرنے کیلیے امیدواروں نے درجنوں کاریں بک کروا لی ہیں اور اب ٹیکسی سٹینڈوں پر عام ضرورت مند کیلیے ٹیکسی لینا مشکل ترین بن چکا ہے اور ٹیکسیوں والوں نے بھی اپنے کرایے کئی گنا بڑھا دیے ہیں۔جلسوں اور دعوتوں کیلیے ٹینٹ سروس اور شادی ہالوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلیے اپنے کرایے بڑھا دیے ہیں ۔بہر حال اس وقت پرنٹنگ پریس،کیٹرنگ،ٹینٹ سروس ،کار رینٹ اور شادی ہالوں کا کاروبار عروج پر پہنچ چکا ہے اور امیدوار کھابے کھلا کر ووٹروں کا دل موہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دوسری طرف ڈالر اور تیل کی قیمت بڑھ جانے اور لوڈ شیڈنگ بڑھ جانے سے باقی کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں اور مہنگائی کے مارے عوام نے اپنی ساری امیدیں آنے والی حکومت سے وابستہ کر رکھی ہیں۔جہاں بھی چند آدمی اکھٹے بیٹھتے ہیں وہاں آئندہ جیتنے والی پارٹی کے بارے پیشینگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں۔عوام اپنے اپنے اندازے لگا کر انہی پارٹیوں سے امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں جنہوں نے ماضی میں اربوں کھربوں کے گھپلے کر کے اپنے آپ کو خوشحال اور عوام کو کنگال کر دیا۔مسلم لیگ نون والے نواز فیملی اور پی پی پی والے بھٹو نے نام پر ووٹ مانگ کر عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف والے نیا پاکستان بنانے کے خواب دکھا کر عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں ۔تحریک انصاف میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر انتشار عروج پر ہے اور پرانے کارکن نئے آئے والے لوٹوں کی وجہ سے مایوس ہو چکے ہیں اور پی ٹی آئی کے امیدوار سردار طالب کے کاغزات نامزدگی مسترد ہونے سے تحریک انصاف کا گراف بھی روز بروز گر رہا ہے ۔متحدہ مجلس عمل والے ان پارٹیوں کی کرپشن کے قصے بتا بتا کر عوام کو ان لٹیری پارٹیوں سے بچنے کی تلقین کر رہے ہیں اور ملک میں نظام مصطفے کے نفاز کو تمام مشکلات کا حل بتا رہے ہیں۔مستقبل میں کیا ہوگا اس کا فیصلہ تو الیکشن ڈے پچیس جولائی کے دن ہی سامنے آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد کا ایک ریسٹورنٹ جہاں پاکستانیوں کا داخلہ منع ہے