شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / نوازشریف کو سزا کے خلاف 10دن میں اپیل کرنےکاحق حاصل ہے،نیب پراسیکیوٹر

نوازشریف کو سزا کے خلاف 10دن میں اپیل کرنےکاحق حاصل ہے،نیب پراسیکیوٹر

اسلام آباد (بیوروچیف) نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا ہے کہ نوازشریف کو سزا کے خلاف 10دن میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے ۔میڈیا سے گفتگو میں نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب آرڈیننس میں سزا کے خلاف کیلئے 10دن رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیب عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی توثیق ہے،ثابت ہوگیا کہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کرپشن کی رقم سے بنائے گئے ہیں۔سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ایون فیلڈ 1993ء سے شریف خاندان کی ملکیت تھے ،ہل میٹل کیس اور فلیگ شپ ریفرنس اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔انہوں نے میڈیا کو نوازشریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزاؤں اور جرمانوں کے حوالے سے آگاہی دی اور کہا کہ عدالت نے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس وفاقی حکومت کی تحویل میں لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔دریں اثناء سینئر قانون دان بیرسٹر فروغ نسیم نے کہاہے کہ یہ تاثر قائم ہونا ضروری تھا کہ پاکستان کوئی بنانا ری پبلک نہیں کہ جو جتنی چاہے کرپشن کرے اور بھاگ جائے۔جمعہ کو نواز شریف اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائے جانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے فروغ نسیم نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد سزا سنائی گئی ہے اور کیس میں مواد اتنا زیادہ تھا کہ آج یہ فیصلہ آیا اور یہی فیصلہ آنا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر قائم ہونا ضروری تھا کہ پاکستانیوں کو یہ بات بتائی جائے کہ پاکستان کوئی بنانا ری پبلک نہیں ہے کہ جو جتنی مرضی چاہے کرپشن کرے اور بھاگ جائے، عدالتیں اور قانون اس کا کچھ بگاڑ نہ سکیں۔انہوں نے کہا کہ بنیادی کیس یہ ہے کہ کسی کے پاس اثاثے ہیں اور وہ منی ٹریل نہیں دے پارہا، نواز شریف 3 بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں جبکہ 93 اور 94 میں یہ اثاثے لیے گئے تو یہ بچے چھوٹے تھے، لہٰذا منی ٹریل دینے کی ذمہ داری ان کے والد کی ہے جو کہ عوامی نمائندے رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں فروغ نسیم نے کہا کہ قانون اور عدالتوں کا طریقہ کار ایک ہی ہے،کہیں ایسی کوئی شق نہیں کہ اگر الیکشن قریب ہوں تو کسی کیس کا فیصلہ نہ سنایا جائے جبکہ اس بات کا فیصلہ عدالت کرتی ہے کہ کن حالات میں فیصلہ ملتوی کیا جائے۔فروغ نسیم نے کہا کہ ملزمان ملک کے باہر سے اپیل کرسکتے ہیں لیکن عدالت کا فیصلہ ان کی غیر موجودگی میں معطل نہیں ہوسکتا لہٰذا اپلیٹ کورٹ میں ان کا پیش ہونا ضروری ہے جس کے بعد ہی سزا کی معطلی ممکن ہے۔بیرون ملک اثاثوں کی ضبطگی سے متعلق فروغ نسیم نے کہا کہپاکستان کے نیب آرڈیننس کے تحت اثاثے تو ضبط ہوگئے لیکن نیب آرڈیننس لندن میں نافذ العمل نہیں ہے، ’وائٹ بک‘ کے تحت حکومت پاکستان کو یوکے میں قانونی چارہ جوئی کرنی پڑیگی۔انہوں نے کہا کہ لندن کے مجسٹریٹ کے پاس اختیار ہے کہ اگر کسی نے دنیا میں کہیں بھی جرم کیا ہو تو مجسٹریٹ سزا سنا سکتا ہے اور مجرم کو کسی اور ملک کے حوالے کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔فروغ نسیم نے کہا کہ وفاقی حکومت اگر اثاثے ضبط کرنے کے لیے کارروائی نہیں کرتی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  الطاف حسین کی معذرت، تحریک انصاف نے احتجاج کی کال واپس لے لی