شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / عمران خان نے پی ٹی آئی کا انتخابی منشور پیش کر دیا

عمران خان نے پی ٹی آئی کا انتخابی منشور پیش کر دیا

اسلام آباد(بیوروچیف)پاکستان کو مدینہ منورہ کی اسلامی ریاست کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے، پانچ سال میں 50 لاکھ گھر ، ،سیاحت کو فروغ، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے ، ایک کروڑ نوکریاںپیدا کرنے کا وعدہ ، عمران خان نے تحریک انصاف کا انتخابی منشور پیش کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق عمران خان نے تحریک انصاف کا انتخابی منشور پیش کر دیا ہے۔ انتخابی منشور پیش کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ فلاحی ریاست کا نمونہ مدینہ کی ریاست ہے،سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے،اصولوں سے پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے ،پانچ سال میں 50 لاکھ گھر بنائیں گے،گھر بنانے کیلئے باہر سے بلڈرز کی خدمات لی جائیں گی ،اس وقت ایک سے ڈیڑھ کروڑ گھروں کی پاکستان میں کمی ہے۔ ہمیں پاکستان میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنی ہیں،جب تک فلاحی ریاست نہیں ہوگی تواستحکام نہیں آئےگا،کرپشن کےخلاف ہماری جدوجہد 22 سال کی ہے،جس طرح ہم حکومتیں چلارہے ہیں اسے یکسر تبدیل کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سب سے کم انویسٹمنٹ سے ٹورازم ڈبل ہوسکتی ہے،پاکستان میں سیاحت کے بہت زیادہ مقامات ہیں،ہم نے چار نئی ٹورازم کی لوکیشن تلاش کی ہیں،بیروزگاری کے خاتمے کے لئے بھی سکیم لے کر آئے ہیں،قوم کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کریں گے ،ایسا کرنے سے عوام میں اعتماد بڑھے گا جبکہ گورنمنٹ ہسپتالوں کو ٹھیک کریں گے،لوکل گورنمنٹ سسٹم کو بھی بہتر بنائیں گے۔خیبر پختونخوا میں 300 چھوٹے چھوٹے ہائیڈل پاور سٹیشن بناچکے ہیں جبکہ پاکستان میں پیسہ اکٹھا کرنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے،انٹرنیشنل ٹریڈ بڑھائیں گے اور آئی ٹی کو بہتر بنائیں گے،جب تک ایف بی آر میں اصلاحات نہیں ہونگی پیسہ اکٹھا نہیں ہوگا،لائیو سٹاک کے معاملات میں بہتری لانا ہوگی اور ہمیں اپنے اخراجات کم کرنا ہونگے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ملک میں اداروں کو کمزور کیا گیا،ملکی برآمدات میں کمی ہورہی ہے،برآمدات اورروپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ ہورہاہے،پاکستان میں ریونیو اکٹھا کرنے کا نظام ہی نہیں ہے،ناکام پالیسیوں کی وجہ سے اکثریت غریب ہورہی ہے اور اقلیت امیر،گزشتہ 10 سالوں میں قرضے بہت بڑھے،سماجی انصاف اور اصول ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔ان کا کہنا تھا ک کہ آنے والی حکومت کیلئے معیشت بہت بڑا چیلنج ہوگا ،قانون سب کیلئے ایک ہونا چاہیے، سب کو انصاف ملنا چاہیے،کرپشن کرنے کیلئے ادارے تباہ کیے گئے جبکہ گورننس سسٹم میں تبدیلی سے ہم جدت لاسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  حقانی نیٹ ورک کے اہم رکن ناصرالدین حقانی کااسلام آباد قتل