شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / شہبازشریف کادبنگ اعلان، گرفتاری ہونے کی صورت میں ریلی کی قیادت کون کرے گا

شہبازشریف کادبنگ اعلان، گرفتاری ہونے کی صورت میں ریلی کی قیادت کون کرے گا

لاہور(نمائندہ خصوصی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے کارکنان کی پکڑ دھکڑ آزادانہ اور شفا ف انتخابات کے منہ پر تھپڑ ہے ، عدالت عظمیٰ کا حکم آیا ہے کہ 30جولائی تک کسی کو گرفتار نہ کیا جائے جبکہ دوسری طرف انتظامیہ ہمارے لوگوں کو گرفتار کر رہی ہے ، نواز شریف کے استقبال کیلئے میں خود ریلی کی قیادت کروں گا ،اگر مجھے گرفتار کرلیاگیا تو میرا بیٹا حمزہ اور بیٹے کی گرفتاری کی صورت میں ریلی کی قیادت میری بیٹی عائشہ کرینگی ، نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری سے ہماری سیاست کو نقصان نہیں ہوگا ، بابر اعوان نندی پور منصوبے میں بڑے مجرم ہیں ۔انہوں نے نندی پور منصوبے میں اربوں روپے ہڑپ کئے ہیں ، مارشل لاء لگنے میں افواج پاکستان کی اکثریت کا کردارنہیں تھا۔ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔شہباز شریف نے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور سے ہمارے 350کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ، نگران حکومت کا یہ انتہائی خطرناک اقدام ہے ، پکڑ دھکڑ کا تعلق صرف نوازشریف کے استقبال سے نہیں ہے بلکہ 25جولائی کے انتخابات سے بھی ہے ، یہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے منہ پر تھپڑ ہے ، ہم نے ملک کی خدمت کی ہے ، ہم نے انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی مگر ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ، عدالت عظمیٰ کا حکم آیا ہے کہ 30جولائی تک کسی کو گرفتار نہ کیا جائے جبکہ دوسری طرف انتظامیہ ہمارے لوگوں کو گرفتار کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قائد نوازشریف کا استقبال کریں گے ، میں خود ریلی کی قیادت کروں گا ، اگر مجھے گرفتار کیا جائے تو میرا بیٹا حمزہ ریلی کی قیادت کرے گا اور اگر حمزہ کو گرفتار کیا گیا تو میری بیٹی عائشہ قیادت کرے گی ۔ الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف نے سی پیک کا تحفہ دیا، ملک میں امن لائے ،ہم نوازشریف کا بھرپور استقبال کریں گے ، میری والدہ 86سال کی ہیں اور بیمار ہیں ، میری والدہ کو نوازشریف سے بہت لگاؤ ہے ، نوازشریف اور مریم نواز کی گرفتاری سے ہماری سیاست کو نقصان نہیں ہوگا ، ہم گالم گلوچ کے بغیر کمپین چلائیں گے ، ہمارے مخالفین گالم گلوچ اور الزام تراشی کے علاوہ کچھ نہیں کرتے ، عمران خان نے آج تک مجھ پر تین بڑے الزام لگائے ، عمران خان نے الزام لگایا کہ شہبازشریف نے جاوید صادق کے ذریعے 27ارب روپے لئے ،دوسرا الزام یہ لگایا کہ میں نے عمران خان کو 10ارب روپے کی پیشکش کی ، تیسرا الزام یہ لگایا کہ ملتان میٹرو بس میں کام کرنے والی چینی کمپنی یادیو میری فرنٹ کمپنی ہے اور میں نے 2ارب روپے چین منی لانڈرنگ کی ہے ۔ میں نے تینوں الزامات پر عمران خان کو نوٹس بھیجے مگر عمران خان نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی ان کے وکیل پیش ہوئے ، بابر اعوان نندی پور منصوبے میں بڑے مجرم ہیں ۔انہوں نے نندی پور منصوبے میں اربوں روپے ہڑپ کئے ہیں ، یہ پاکستانی قوم کا پیسہ ہے ،عمران خان عدالت میں میرے خلاف کچھ ثابت نہ کر سکے ، عمران خان الزام خان ہیں ، چین کی حکومت نے عمران خان کے الزامات کی تردید کی ہے کہ شہبازشریف نے چین رقم منی لانڈرنگ کی ہے ، نیب نے ملتان میٹرو کی تحقیقات کر لی ہیں ، اگر میرے خلاف ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو میں استعفیٰ دے دوں گا اور سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا ، عمران خان پوری قوم سے جھوٹ اور دروغ گوئی پر معافی مانگیں اور کسی پیر کے پاس جا کر اللہ اللہ کریں ، شہباز شریف نے کہا کہ 12اکتوبر میں مشرف کے مارشل کے بعد ہم نے بہت برا وقت دیکھا ،میں نے اور میاں نوازشریف نے جیلیں کاٹیں ،جہاز میں مجھے اور میاں نوازشریف کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں ، 12اکتوبر1999کے حوالے سے ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی ، ہم نے کبھی بکری بھی چوری نہیں کی ، مارشل لاء لگنے میں افواج پاکستان کی اکثریت کا کردارنہیں تھا ۔انہوں نے کہا کہ آج تک جتنے بھی سروے ہوئے (ن) لیگ سرفہرست ہے ، ہم نے پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھانا ہے ، غربت کا خاتمہ کرنا ہے ، ہندوستان کا مقابلہ کرنا ہے ، ہر کسی کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے ، ہم اپنے ریکارڈ لے کر عوام کے پاس جا رہے ہیں ،ہم قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنائیں گے

یہ بھی پڑھیں  سانحہ پشاور میں زخمی ہو نے والے غازی احمد نواز کو سٹی کونسل کی طرف سے تعلیمی خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا