تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:حکومت نے عوام کی توقعات کا خون کرکے مہنگائی میں کئی گنا اضافہ کر دیا،حاجی رمضان

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔حکومت نے عوام کی توقعات کا خون کرکے مہنگائی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ تھانوں میں ٹاوٹوں کا راج ہے،چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکاہے اور پولیس مقدمات درج نہ کرکے اعلی حکام کو سب اچھا کی رپورٹ دیتی ہے اور قبضہ گروپوں کو کھلی چھٹی دیکر غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں۔جماعت اسلامی حلقہ این اے 140 کے گروپ لیڈر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے کہا کہ تحصیل پتوکی کے تھانوں میں ٹاوٹوں کا راج ہے،چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکاہے اور پولیس مقدمات درج نہ کرکے اعلی حکام کو سب اچھا کی رپورٹ دیتی ہے۔موجودہ حکومت میں قبضہ گروپوں کو کھلی چھٹی دیکر غریب لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں ۔واپڈا بھی بڑے بڑے چوروں اور نادہندگان کو پکڑنے کی بجائے اوور بلنگ کرکے اپنا ریوینیو بڑھا کر اپنی مصنوعی کارکردگی بنا رہا ہے ۔حکومت نے ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا اعلان کیا تھا مگر گیس بجلی اور تیل سمیت روزمرہ چیزوں کی قیمتوں میں اضافے سے لگتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کی تیاری کررہی ہے اور عوام کو مزید قرضوں کے کوہ ہمالیہ کے نیچے دینا چاہتی ہے۔ مہنگائی سے سب سے زیادہ غریب متاثرہوتاہے، ۔حکومت کیلئے بہتر تھا کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اترتی اورمنشور پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو غربت،مہنگائی اور قرضوں سے نجات دلاتی۔ مگر حکومت نے اپنے سو روزہ ایجنڈے کا آغاز ہی عام پاکستانی کے استعمال کی چیزوں کو مہنگا کرکے کیا ہے۔ حکومت نے اپناآغاز عوام کو ریلیف دینے کی بجائے مہنگائی میں اضافہ کرکے کیا ہے۔مزید قرضوں کے سمندر میں ڈبو کر عوام کی توقعات کو مایوسی میں ڈبویا جا رہا ہے۔ ملک میں مغربی کلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل اپنے بزرگوں سے دور ہو رہی ہے اور ملک میں کتے اور بلیاں پالنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تمام مذاہب کی مقدس ہستیوں کے توہین آمیز خاکوں کے خاتمہ کے لیے بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کر رہی ہے اس سلسلہ میں چند روز قبل اسلام آباد میں جیورسٹ کانفرنس منعقد کرائی گئی جس میں ملک کے معروف قانون دانوں پر مشتمل ایک چار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو مقدس ہستیوں کے توہین آمیزخاکوں کے خاتمہ کے لیے لائحہ عمل طے کرے گی اور جنوری 2019 کے پہلے ہفتے میں جنیوا اور لندن میں عالمی کانفرنسیں منعقد کی جا ئیں گی جن میں تمام ممالک کے نمائندوں کو مدعو کیا جائے گا اور توہین آمیز خاکوں کے خاتمہ اور مقدس ہستیوں کے احترام کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرکے اس کو یواین او کے چارٹر میں شامل کرایا جا ئے گا۔

یہ بھی پڑھیں  ساہیوال،سردی کی شدید لہر،پانچ افراد ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker