تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ:ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نےڈی آئی جی ساہیوال اورڈی پی اوکے خلاف مقدمہ کے اندراج کے متعلق رپورٹ طلب کرلی

okaraاوکاڑہ (محمد مظہررشید)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج اوکاڑہ نے سابق پولیس انسپکٹر کی رٹ پر ڈی آئی جی ساہیوال اور ڈی پی او اوکاڑہ کے خلاف مقدمہ کے اندراج کے متعلق رپورٹ طلب کرلی ان دونوں اعلیٰ پولیس آفیسرز نے سابق انسپکٹر پولیس کے خلاف اسے ملازمت سے برخاست کرنے کیلئے ٹمپرشدہ رپٹ کوبطورشہادت شوکاز نوٹس میں استعمال کیا تھا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوکاڑہ کے پاس سابق پولیس انسپکٹرعرفان عالم نے ایک رٹ پٹیشن دائرکی ہے کہ 21 جنوری2009 کو اس وقت کے ڈی پی او اوکاڑہ نے سائل کے اغواء کا مقدمہ درج کرنیکی بجائے سائل کی غیر حاضری پولیس لائن کے روزنامچہ میں درج ایک رپٹ کو مٹاکر اس کی جگہ ڈی پی او آفس میں اجلاس کی من گھڑت کہانی بنا کر درج کروادی جو کہ آر پی او ساہیوال کی انکوائری اور مقدمہ نمبر310/11میں ٹمپرشدہ ثابت ہوگئی جس پر ایڈیشنل سیشن جج اوکاڑہ بخت فخر بہزادنے ڈی پی اواوکاڑہ کے پی اے محمد جاوید حیدر کے خلاف ٹمپرشدہ رپٹ کے مواد کو استعمال کرکے بوگس شوکاز نوٹس جاری کرنے پر مقدمہ کے اندراج کا حکم دیا تھالیکن اعلیٰ پولیس آفیسرزکے دباؤ پر پی اے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بجائے اسے مقدمہ نمبر 310/11میں شامل تفتیش کرکے ضمنی نمبر8کے تحت بے گناہ تحریر کردیا جبکہ پی اے جاوید حیدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس نے یہ سب کچھ ڈی پی او اوکاڑہ کے حکم پر کیا تھاجبکہ اعلیٰ پولیس آفیسرزکو رپٹ ٹمپرنگ کے متعلق تمام معلومات تھیں حالانکہ شوکاز نوٹس جاری کرنے کے قواعدوضوابط کے مطابق روزنامچہ میں درج رپٹ کی نقل بنانے کے بعد لائن آفیسر،ریزروانسپکٹراور ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرزاسکی تصدیق کرنے کے بعد ڈی پی او اوکاڑہ کو بجھواتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا گیاان حالات اور ثبوتوں کی بناء پر سابق پولیس انسپکٹرعرفان عالم نے ڈی آئی جی ساہیوال اور ڈی پی او اوکاڑہ کے خلاف مقدمہ کے اندراج کیلئے رٹ دائری کی ہے جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج اوکاڑہ حسنین قادر گھلونے 12اگست کو محکمہ پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے یاد رہے کہ عرفان عالم کو مقدمہ نمبر310/11 کی پیروی کرنے سے باز رکھنے کیلئے محکمہ پولیس کے اعلیٰ آفیسرز شدید دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی ازخود نوٹس لینے کی التجا کی گئی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button