شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / نیب افسران کے میڈیا پر انٹرویوز دینے پر پابندی عائد

نیب افسران کے میڈیا پر انٹرویوز دینے پر پابندی عائد

اسلام آباد(پاک نیوز) نیب (قومی احتساب بیورو) کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز پر موقف دینے کے مجاز صرف چیئرمین نیب ہوں گے۔نیب (قومی احتساب بیورو) کے اعلامیے کے مطابق چیئرمن نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے میڈیا انٹرویو کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، ڈی جی نیب لاہور کے انٹرویو کا قانون کے مطابق جائزہ لیا جا رہا ہے، میڈیا تحقیقات پر قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔جاری اعلامیے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ نیب میگا کرپشن کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائے گا، بدعنوان عناصر کو گرفت میں لانے کے لیے نیب کوششیں کر رہا ہے، قوم سے لوٹی گئی رقم برآمد کر کے قومی خزانے میں جمع کرائیں گے۔واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور سلیم شہزاد کے مختلف ٹی وی چینلز کو دیئے گئے انٹرویوز پر احتجاج کیا تھا، ن لیگ کی جانب سے معاملے پر سوالِ استحقاق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا ۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے سوالِ استحقاق میں موقف اپنایا گیا کہ ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد نے اپنے ٹی وی انٹرویوز میں اپوزیشن اراکین کا میڈیا ٹرائل کیا، انہوں نے زیر سماعت نام نہاد مقدمات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ن لیگ کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سلیم شہزاد نے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر نہ صرف گفتگو کی بلکہ قومی احتساب بیورو خفیہ دستاویزات بھی ٹی وی چینلز پر افشا کیں، سلیم شہزاد نے ٹی وی پر آ کر اراکین پارلیمنٹ کو بدنام کیا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کو گرفتار کر کے پیغام دیا گیا کہ بولو گے تو کیس بنے گا جس معیار پر نواز شریف کو تولا جا رہا ہے اسی معیار پر سب کو تولا جائے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس سے شاہد خاقان عباسی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب افسر اپوزیشن کا میڈیا ٹرائل کر رہا ہے، یہ تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، نیب افسر دستاویزات کا میڈیا پر حوالہ دے رہا ہے جو خفیہ ہیں۔انہوں نے کہا جو حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں ان لوگوں سے احتساب نہیں چاہتے، نیب افسر ٹی وی پر وہ چیزیں بتا رہا ہے جو پبلک نہیں ہو سکتیں۔گزشتہ روز خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق نے بھی ڈی جی نیب لاہور کے خلاف چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو خط لکھا تھا۔ خط میں لکھا گیا کہ ڈی جی نیب لاہور ہمارے خلاف پارٹی بن چکے ہیں ،انکوائری نیب لاہور کے بجائے کسی اور ریجن سے کرا ئی جائے ، انہوں نے خط میں مزید کہا کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے میڈیا پر ہمارے خلاف انکوائری کا تذکرہ کیا، ٹاک شوز میں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی ،ہمیں نہیں لگتا ایسے ماحول میں نیب لاہور شفاف تحقیقات کرے گا۔ این این آئی کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں کا تعلق سیاسی خاندان سے ہے، حالیہ انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں اور کئی اہم عوامی عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں،درخواست گزار بدنیتی پر مبنی مختلف انکوائریزاور تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں جو نیب لاہور میں زیر عمل ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ ریکارڈ پر ہے کہ درخواست گزاروں نے نیب سے بھرپور تعاون کیا ہے اور جب بھی ضرورت پڑی وہ نہ صرف حاضر ہوئے بلکہ پوری ایمانداری کے ساتھ مکمل تعاون بھی کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹھوس شواہد اور ثبوت نہ ملنے کے باوجود نیب تفتیش کار انہیں بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت کسی نہ کسی بہانے مقدمے میں پھنسانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ڈی جی نیب کا طرز عمل پبلک سرونٹس کے طرز عمل کے منافی ہے ،ان کے پاس ٹھوس وجوہات ہیں کہ موجودہ ڈی جی نیب کے ماتحت شفاف تفتیش نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ چند روز قبل ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے نجی ٹی وی چینلز کے پروگرام میں انٹرویو کے دوران شریف خاندان کے افراد کے خلاف کیسز پر بات کی تھی

یہ بھی پڑھیں  قِصّۂ درد