شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / حکومت کروڑوں گنے کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔صدرکسان بورڈ

حکومت کروڑوں گنے کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔صدرکسان بورڈ

لاہور ( پریس ریلیز) چوہدری نثار احمد صدر کسان بورڈ پاکستان نے لاہور میں کسان بورڈ کے دفتر میں آئے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کروڑوں گنے کے کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ سابقہ اربوں کے واجبات نہ ملنے اور شوگر ملیں نہ چلنے سے کروڑوں ایکڑ رقبہ پر گندم کا شت نہیں ہو سکی ۔شوگر ملوں کی سب سڈی اور لوٹ مار کے احتساب کیلیے چیف جسٹس کمیشن بنائیں۔حکومت پہلے سو دنوں میں کروڑوں کسانوں کیلیے کچھ نہیں کر سکی ۔انہوں نے کہا ۔ملک بھر میں گنے کی فصل کٹائی کیلئے بالکل تیار ہے مگر حکومتی دعوؤں اور اعلانات کے باوجود ابھی تک کرشنگ سیزن کا آغاز نہیں ہو سکا جس سے کسان برادری میں شدید اضطراب اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں شوگر مل مافیا کے سامنے بے بس نظر آتی ہیں۔ نومبر کے آغاز میں پاکستان شوگر مل ایسوسیایشن اور کسانوں کے نمائندگان سے ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت 15 نومبر سے ہر صورت کرشنگ کا آغاز کروادے گی مگر اگلے ہی دن شوگر مل مافیا نے حکومتی اعلان کو مسترد کر دیا اور شوگر ملز کو چلانے سے انکار کر دیا جس پر ابھی تک قائم ہے۔ گزشتہ سیزن میں بھی حکومت کے اعلان کردہ ریٹ 180روپے فی من کی بجائے شوگر مل مافیا نے کسان کو ریٹ120سے 150روپے فی من دیا اور اپنے من پسند غیر منظور شدہ ٹھیکیداران کے ذریعے کئی جگہوں پر 100روپے فی من سے بھی کم ریٹ پر گنا خرید کیا اوراسطرح کسانوں کو لوٹا، اور کئی ملز مالکان ابھی تک اربوں روپے کی رقم کسانوں کی دبا کر بیٹھے ہیں اورحکومتی مشینری ، سیکرٹری فوڈ،کین کمشنر اس حوالے سے بے بس نظر آتے ہیں۔شوگر مل مافیا نقصان کاجھوٹا ڈھنڈورہ پیٹ کر اس دفعہ بھی کرشنگ لیٹ کر رہا ہے تا کہ کسانوں کو مجبور کر کے دوبارہ اسی طریقہ سے ان کو لوٹ سکیں۔ حکومت وقت جس کی بنیادی ذمہ داری ہے وہ کسان برادری کے مفادات کا تحفظ کرے وہ اپنی اس ذمہ داری میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے اور چند نام نہاد کسانوں کے ٹھیکیداروں جو کہ حقیقت میں شوگر مل مافیا کے پے رول پر ہیں کیساتھ مل کر شوگر مل مافیا کو شیلٹر فراہم کر رہی ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں زرعی مداخل کھاد، بیج، زرعی ادویات کی قیمتوں میں سوگنا اضافہ ہو چکا ہے اور حکومتی مشینری اس مافیا کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے ۔ کسان بورڈ پاکستان جو کہ ملک بھر کے کسانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے حکومت وقت کی موجود ہ زراعت دشمن پالیسیوں کو یکسر نامنظور کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ حکومت نے اگر اپنی موجودہ روش تبدیل نہ کی اور اور فی الفور کرشنگ سیزن کا آغاز نہ کروایا تو مجبوراََ کسانوں کو احتجاج کرتے ہوئے ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کرنا پڑیگی۔ کرشنگ سیزن میں تاخیر سے کروڑوں ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت نہ ہونے سے ملک میں غذائی قلت پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔کسان بورڈ پاکستان سمیت جگہ جگہ کسان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہو ئی۔ انہوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ فی الفور کرشنگ سیزن کا آغاز کیا جائے اور گورنمنٹ کے مقرر کردہ ریٹ 180روپے فی من پر گنے کی خریداری کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر کے کسان پہیہ جام ہڑتال کرنے پر مجبورہونگے

یہ بھی پڑھیں  حج کرپشن کیس:سابق تفتیشی افسرحسین اصفر کو معطل کر دیا گیا