شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بھائی پھیرواورگردونواح میں سات سے گیارہ سال کے بچوں سےمشقت لینے کا مکروہ دھندہ عروج پر

بھائی پھیرواورگردونواح میں سات سے گیارہ سال کے بچوں سےمشقت لینے کا مکروہ دھندہ عروج پر

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو اور گردونواح میں سات سے گیارہ سال کے بچوں سے مشقت لینے کا مکروہ دھندہ عروج پر متعلقہ محکمہ نے حقائق کا علم ہونے کے باوجود آنکھیں بند کر لیں۔فیکٹریوں ہوٹلوں، دوکانوں اور چائے والوں اور رکشہ والوں کے پاس کام کرنے والوں میں زیادہ تعداد کم عمر بچوں کی ہے۔لیبر ڈیپارٹمنٹ اور چائلڈ لیبر مکمل طور پرناکام ہوچکے ہیں۔وزیر اعلیٰ فوری نوٹس لیں۔تفصیلات کے مطابق بھائی پھیرو اور گردونواح میں فیکٹریوں،ہوٹلوں، دوکانوں، چائے کے کھوکھوں اور رکشہ والوں پر کام کرنے والے بچوں کی عمریں تقریباً سات سے گیارہ سال کی ہیں قلم اور کتاب اٹھانے والے ہاتھ جبری مشقت کرنے پر مجبور۔اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے افراد نے بچوں پر بھٹہ مزدوری پر پابندی لگنے کی وجہ سے اپنے بچوں کو ہوٹلوں اور دوکانوں پر کام کرنے کیلئے بھیجنا شروع کر دیا۔جس سے شہر میں واقع ہوٹلوں، دوکانوں پر کام کرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد کم عمر بچوں کی ہے ہوٹلوں اور دوکانوں پر ننھے بچے سارا سارا دن کام کرتے ہیں اور ان کو ماہانہ 1500سے 3000ہزار تک تنخواہ دی جاتی ہے۔رکشہ مالکان نے بھی اپنے رکشوں پر نابالغ بچوں کو ڈرائیور رکھ کر عوام کی زندگیوں کو داو پر لگا رکھا ہے۔ لیبر ڈیپارٹمنٹ اور چائلڈ لیبر کی خاموشی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ محکمہ کی ملی بھگت سے یہ مکروہ دھندہ جاری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیٹی تحصیل پتوکی کے صدر ندیم رضا خاں ایڈووکیٹ اور عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ کم عمر بچوں سے مشقت لینے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے اور متعلقہ محکمے جو غفلت اور لاپرواہی کا مرتکب ہے ان کے خلا ف فوری ایکشن لیا جائے

یہ بھی پڑھیں  کوٹرادہاکشن: اے سی ایس کالج کے خلاف طلباء کا احتجاج
error: Content is Protected!!