تازہ ترینعلاقائی

بھائی پھیرو:خلفائے راشدین کا دورحکومت ریاست مدینہ کاتسلسل اور رول ماڈل ہے،قاری اعجازالرحمان

بھائی پھیرو(نامہ نگار)بھائی پھیرو۔خلفائے راشدین کا دورحکومت ریاست مدینہ کاتسلسل اور رول ماڈل ہے۔عہد فاروقی میں ریاست مدینہ دنیا کے لاکھوں مربع میل تک پھیل گئی۔ریاست مدینہ کیلیے حضرت ابو بکرصدیق کی صداقت،حضرت عمر فاروق کا جلال و عظمت،حضرت عثمان کا حلم و حیا اور حضرت علی کا حکمت و استقامت ضروری ہے۔موجودہ حکمرانوں میں ریاست مدینہ کی کوئی خوبی نہیں۔ان خیالات کا اظہار نواحی گاوں بھگیانہ کلاں کے جامعہ رحمانیہ رزاقیہ کے مہتمم قاری اعجاز الرحمان اشرفی کی زیر نگرانی اور ادارہ ارشاد المبلغین کے بانی مفتی ظہیر احمد ظہیر کے تعاون سے ،،ریاست مدینہ عہد فاروقی میں،، کے موضوع پر منعقدہ ملک گیر تقریری مقابلہ میں مقررین نے کیا۔کانفرنس میں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما حاجی محمد رمضان،اسلامی جمعیت طلبا قصورکے رہنما احمد جمال، معروف وکیل مرزا نوید بیگ ،بھائی پھیرو پریس کلب کے میڈیا انچارج سید بابر مشہدی ،میاں عبدالستار،میاں محمد اسماعیل اور دیگر ملک بھر سے آئے نمائندہ افراد نے بھی شرکت کی۔ تقریری مقابلہ میں ملک بھر سے تیس کے قریب مقررین نے اظہار خیال کیا اور اپنی اپنی تقریروں میں ریاست مدینہ کے مختلف گوشوں پر پر اثر تقاریر کیں۔آخر میں ادارہ ارشاد المبلغین کے بانی و صدر اور معروف عالم دین مفتی ظہیر احمد ظہیر نے شرکا اور میڈیا سے خطاب کرتے کہا کہ خلفائے راشدین کا دورحکومت ریاست مدینہ کاتسلسل اور رول ماڈل ہے۔عہد فاروقی میں ریاست مدینہ دنیا کے لاکھوں مربع میل تک پھیل گئی۔ریاست مدینہ کیلیے حضرت ابو بکرصدیق کی صداقت،حضرت عمر فاروق کا جلال و عظمت،حضرت عثمان کا حلم و حیا اور حضرت علی کا حکمت و استقامت ضروری ہے۔موجودہ حکمرانوں میں ریاست مدینہ کی کوئی خوبی نہیں۔انہوں نے کہا کہ خلفائے راشدین اور صحابہ اکرام نے قرآن و سنت کا دامن مضبوطی سے تھاما اور مدینہ میں نبی اکرم کی قائم کی گئی ریاست کے طریقوں پر عمل کیا تو چند سالوں میں ہی ریاست مدینہ دنیا کے اڑھائی لاکھ مربع میل تک پھیل گئی ۔اس وقت نیل کے ساحل سے لیکر کاشغر تک مسلمان ایک جسد واحد کی طرح تھے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے یہی وجہ ہے خلفائے راشدین کی حکمرانی اپنی مثال آپ ہے اورتاجدار عرب و عجم کے تربیت یافتہ لوگوں نے تارخ میں پہلی دفعہ حکمرانی کے ایسے ایسے طریقے ایجاد کیے جن کی مثال آج تک کوئی اور پیش نہیں کر سکا۔جدید دنیا نے بھی جو طریقے ایجاد کیے وہ بھی انہی خلفائے راشدیں کی ریاست مدینہ سے سیکھے ۔انہوں نے کہا جب سے مسلمانوں نے قرآن و سنت کی بجائے اور ریاست مدینہ کی بجائے اپنی اپنی تشریحات پر عمل کرنا شروع کیا تو مسلمان فرقوں میں بٹتے چلے گئے۔صحابہ اکرام نے قرآن و سنت کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا اور ایک جسد واحد کی طرح کفار کا مقابلہ کیا تو وہ دنیاو آخرت میں سرخرو ہو گئے اور دنیا بھر کے حکمران بن گئے۔مگر آج ہم فرقوں میں بٹ کر دنیا بھر میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔اگر آج بھی مسلمان قرآن و سنت کی بنیاد پر متحد ہو جائیں تو دنیا بھر کے امام بن جائیں۔ملک پاکستان تو بنا ہی کلمہ طیبہ اور ریاست مدینہ کے نام پر تھا مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے ریاست مدینہ بنانے کی بجائے اسے کرپشن،لوٹ مار،بے حیائی اور دیگر انسانی نظریات کی تجربہ گاہ بنائے رکھاموجودہ حکمران نعرہ تو ریاست مدینہ کا لگا کر آئے مگر ان کا طرز حکمرانی بھی سابقہ حکمرانوں کے طرز حکمرانی کا تسلسل ہے۔۔سب سے آخر میں جامعہ رحمانیہ رزاقیہ کے مہتمم قاری اعجاز الرحمان اشرفی نے تقریری مقابلہ کے شرکا میں سے پوزیشن حاصل کرنے والوں میں انعامات اور سندات تقسیم کیں اور امت مسلمہ کے اتحاد اور ملک پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلیے دعا کروائی 

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:صحافی کے آ پس میں اتحادکرلیں توانہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ریجنل یونین آف جرنلسٹس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker