شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / پی ٹی آئی کے دھرنوں کا سب سے زیادہ نقصان ہزارہ کو سہنا پڑا،سردار یوسف

پی ٹی آئی کے دھرنوں کا سب سے زیادہ نقصان ہزارہ کو سہنا پڑا،سردار یوسف

مانسہرہ(قاضی بلال سے )سابق وفاقی وزیر اور صوبہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے پارلیمانی لیڈر سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ’’ن ‘‘کے دور حکومت میں پی ٹی آئی کے دھرنوں کا سب سے زیادہ نقصان ہزارہ کو سہنا پڑا۔مسلم لیگ ’’ن ‘‘کی حکومت میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جاتیں تو آج ہزارہ موٹروے شنکیاری اور ایکسپریس وے بشام تک مکمل ہو چکی ہوتی ۔ہزارہ یونیورسٹی ،بالاکوٹ ،کاغان ،ناران ،جھل کھڈ روڈ ،ایبٹ آباد تا مانسہرہ 12انچ کی اضافی سوئی گیس پائپ لائن ،220KVگریڈ اسٹیشن ،مانسہرہ ائیر پورٹ جیسے منصونے نواز شریف نے ہزارہ کو دیئے۔ہمارے مینڈیٹ کو چوری نہ کیا جاتا تو ایک بار پھر حکومت مسلم لیگ ’’ن‘‘ کی ہوتی۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق 53حلقوں کے نتائج تبدیل کئے گئے ۔اب حادثاتی نمائندے سابقہ حکومت کے منصوبوں پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز مانسہرہ پریس کلب مانسہرہ میں صحافیوں سے ملاقات کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کی۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ضلع ناظم مانسہرہ سردار سید غلام اور سابق ممبر اسمبلی جنید علی قاسم کے علاوہ دیگر سیاسی و سماجی ارکان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر سردار سید غلام نے واضح کیا کہ مسلم ’’ن‘‘ کی ضلع حکومت اپنا دور اقتدار پورا کرے گی اور مخالفین کے خواب چکنا چور ہو کر رہیں گے۔ ضلعی حکومت خاتمے کے خواب دیکھنے والوں کا خواب کبھی پورا نہیں ہو گا اپنے اختیارت کے اندر رہتے ہوئے عوام کی بہترین انداز میں خدمت کررہے ہیں ۔ضلع کونسل نے 3ہزار سے زاہد سکیمیں مکمل کیں اور ترقیاتی عمل اب بھی جاری ہے ۔اس موقع پر سردار محمد یوسف نے کہا کہ پینے کے صاف پانی ،قبرستان اراضی، سوئی گیس کے منصوبے مسلم لیگ ’’ن‘‘ کے دور حکومت میں منظور ہوئے ۔مانسہرہ شہر میں قبرستان کے لیے چار مقامات پر اراضی خرید ی گئی۔سردار یوسف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جب چائنہ کا صدر آرہا تھاتو پی ٹی آئی نے دھرنا دیدیا اور جب ترقیاتی کام زور شور سے ہو رہے تھے تو نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا کر ترقیاتی کاموں میں خلل ڈالا گیا جس کا سب سے زیادہ نقصان ہزارہ کو ہوا ۔پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تو ہزارہ روٹ کے لیے زمین دینے سے بھی انکار کر دیا تھا تاہم ہمارے احتجاج اور کوشش سے ہزارہ موٹروے سی پیک میں شامل ہوا ۔مسلم لیگ ’’ن‘‘ کی حکومت میں رکاوٹیں نہ پیدا کی جاتیں تو آج ہزارہ موٹروے شنکیاری اور ایکسپریس وے بشام تک مکمل ہو چکی ہوتی ۔سال1997 ؁ء میں مسلم لیگ’’ ن‘‘ کے دورحکومت میں ہزارہ یونیورسٹی کی منظوری دی گئی۔ بعد ازاں کسی صوبائی حکومت نے ہزارہ یونیورسٹی کو ایک روپے کا فنڈز نہیں دیا۔ مسلم لیگ’’ن‘‘ کے سابقہ دور میں ہمارے مطالبہ پر ہزارہ یونیورسٹی کو 1ارب 60کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے گئے۔ اس کے علاوہ بالاکوٹ ،کاغان ،ناران ،جھل کھڈ روڈ ،ایبٹ آباد تا مانسہرہ 12انچ کی اضافی سوئی گیس پائپ لائن، 220KVگریڈ اسٹیشن ،مانسہرہ ائیر پورٹ جیسے منصوبے نواز شریف نے ہزارہ کو دیئے۔ تاہم اب پی ٹی آئی حکومت نے متعدد منصوبے ختم کر دیئے جبکہ حادثاتی نمائندے ہمارے منصوبوں پر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ پینے کے صاف پانی کے منصوبے پر 3سال ہم نے محنت کرکے منظوری حاصل کی

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:دوسری قومی ملٹی ڈسپلنری سٹو ڈنٹ ریسرچ کانفرنس کا انعقاد